صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1948. إن المرأة لتأخذ على القوم - يعني تجير على المسلمين ....
بیشک عورت بھی قوم کی طرف سے امان دے سکتی ....
حدیث نمبر: 1945
«إن المرأة لتأخذ على القوم - يعني تجير على المسلمين -»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک عورت بھی قوم کی طرف سے امان دے سکتی ہے۔“ یعنی وہ مسلمانوں کی طرف سے پناہ دے سکتی ہے۔ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1945]
”بیشک عورت بھی قوم کی طرف سے امان دے سکتی ہے۔“ یعنی وہ مسلمانوں کی طرف سے پناہ دے سکتی ہے۔ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1945]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [ت] عن أبي هريرة. المشكاة 3978.»
قال الشيخ الألباني: حسن
1949. إن المرد إلى الله إلى جنة أو نار خلود بلا ....
بیشک لوٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے، جنت ....
حدیث نمبر: 1946
«إن المرد إلى الله إلى جنة أو نار خلود بلا موت وإقامة بلا ظعن»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک لوٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے، جنت میں یا جہنم میں، جہاں موت کے بغیر ہمیشہ رہنا ہے اور بغیر کوچ کیے قیام کرنا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1946]
”بیشک لوٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے، جنت میں یا جہنم میں، جہاں موت کے بغیر ہمیشہ رہنا ہے اور بغیر کوچ کیے قیام کرنا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1946]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن معاذ. الصحيحة 1668: ك.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1950. إن المسألة كد يكد بها الرجل وجهه إلا أن يسأل ....
بیشک سوال کرنا (مانگنا) ایک زخم ہے جس سے انسان ....
حدیث نمبر: 1947
«إن المسألة كد يكد بها الرجل وجهه إلا أن يسأل الرجل سلطانا أو في أمر لا بد منه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک سوال کرنا (مانگنا) ایک زخم ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی بادشاہ (حاکم) سے سوال کرے یا کسی ایسے معاملے میں مانگے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1947]
”بیشک سوال کرنا (مانگنا) ایک زخم ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی بادشاہ (حاکم) سے سوال کرے یا کسی ایسے معاملے میں مانگے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1947]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ت ن] عن سمرة. مختصر مسلم 1464.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1951. إن المسلم إذا عاد أخاه المسلم لم يزل في مخرفة ....
بیشک مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے ....
حدیث نمبر: 1948
«إن المسلم إذا عاد أخاه المسلم لم يزل في مخرفة الجنة حتى يرجع»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس لوٹنے تک جنت کے باغات میں رہتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1948]
”بیشک مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس لوٹنے تک جنت کے باغات میں رہتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1948]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م ت] عن ثوبان. مختصر مسلم 1464.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1952. إن المسلم المسدد ليدرك درجة الصوام القوام بآيات الله بحسن ....
بیشک سیدھی راہ پر چلنے والا مسلمان اپنے حسنِ اخلاق ....
حدیث نمبر: 1949
«إن المسلم المسدد ليدرك درجة الصوام القوام بآيات الله بحسن خلقه وكرم ضريبته»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک سیدھی راہ پر چلنے والا مسلمان اپنے حسنِ اخلاق اور عمدہ خصلت کی بدولت کثرت سے روزے رکھنے والے اور اللہ کی آیات کے ساتھ راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1949]
”بیشک سیدھی راہ پر چلنے والا مسلمان اپنے حسنِ اخلاق اور عمدہ خصلت کی بدولت کثرت سے روزے رکھنے والے اور اللہ کی آیات کے ساتھ راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1949]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم طب] عن ابن عمرو. الصحيحة 522.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1953. إن المسلم ليؤجر في كل شيء ينفقه إلا في شيء ....
بیشک مسلمان کو ہر اس چیز پر اجر دیا جاتا ....
حدیث نمبر: 1950
«إن المسلم ليؤجر في كل شيء ينفقه إلا في شيء يجعله في هذا التراب»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک مسلمان کو ہر اس چیز پر اجر دیا جاتا ہے جو وہ خرچ کرتا ہے، سوائے اس چیز کے جسے وہ اس مٹی (یعنی غیر ضروری تعمیرات) میں لگاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1950]
”بیشک مسلمان کو ہر اس چیز پر اجر دیا جاتا ہے جو وہ خرچ کرتا ہے، سوائے اس چیز کے جسے وہ اس مٹی (یعنی غیر ضروری تعمیرات) میں لگاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1950]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [خ] عن خباب. المشكاة 5182.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1954. إن المصلي يناجي ربه فلينظر بم يناجيه ولا يجهر بعضكم ....
بیشک نمازی اپنے پروردگار سے مناجات (سرگوشی) کرتا ہے، لہٰذا ....
حدیث نمبر: 1951
«إن المصلي يناجي ربه فلينظر بم يناجيه ولا يجهر بعضكم على بعض بالقرآن»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک نمازی اپنے پروردگار سے مناجات (سرگوشی) کرتا ہے، لہٰذا اسے غور کرنا چاہیے کہ وہ اس سے کیا مناجات کر رہا ہے، اور تم تلاوتِ قرآن میں ایک دوسرے پر آواز بلند نہ کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1951]
”بیشک نمازی اپنے پروردگار سے مناجات (سرگوشی) کرتا ہے، لہٰذا اسے غور کرنا چاہیے کہ وہ اس سے کیا مناجات کر رہا ہے، اور تم تلاوتِ قرآن میں ایک دوسرے پر آواز بلند نہ کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1951]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن أبي هريرة وعائشة. صحيح أبي داود 1203.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1955. إن المعونة تأتي من الله للعبد على قدر المؤنة وإن ....
بیشک بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ....
حدیث نمبر: 1952
«إن المعونة تأتي من الله للعبد على قدر المؤنة وإن الصبر يأتي من الله على قدر المصيبة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اس کے اخراجات (اور بوجھ) کے بقدر آتی ہے، اور اللہ کی طرف سے صبر مصیبت کے بقدر نازل ہوتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1952]
”بیشک بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اس کے اخراجات (اور بوجھ) کے بقدر آتی ہے، اور اللہ کی طرف سے صبر مصیبت کے بقدر نازل ہوتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1952]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [الحكيم البزار الحاكم في الكنى هب] عن أبي هريرة. الصحيحة 1664: ابن شاهين، عد.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1956. إن المقسطين عند الله يوم القيامة على منابر من نور ....
بیشک انصاف کرنے والے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ....
حدیث نمبر: 1953
«إن المقسطين عند الله يوم القيامة على منابر من نور عن يمين الرحمن وكلتا يديه يمين الذين يعدلون في حكمهم وأهليهم وما ولوا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک انصاف کرنے والے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں نور کے منبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے، اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں، اپنے اہل و عیال اور جن چیزوں کی انہیں ذمہ داری سونپی گئی ہے، ان میں عدل سے کام لیتے ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1953]
”بیشک انصاف کرنے والے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں نور کے منبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے، اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں، اپنے اہل و عیال اور جن چیزوں کی انہیں ذمہ داری سونپی گئی ہے، ان میں عدل سے کام لیتے ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1953]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م ن] عن ابن عمرو. مختصر مسلم 1207.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1957. إن المكثرين هم المقلون يوم القيامة إلا من أعطاه الله ....
بیشک (دنیا میں) مال کی کثرت والے ہی قیامت کے ....
حدیث نمبر: 1954
«إن المكثرين هم المقلون يوم القيامة إلا من أعطاه الله تعالى خيرا فنفح فيه بيمينه وشماله وبين يديه وورائه وعمل فيه خيرا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک (دنیا میں) مال کی کثرت والے ہی قیامت کے دن (ثواب کے لحاظ سے) کم تر ہوں گے، سوائے اس شخص کے جسے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا ہو اور وہ اسے اپنے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے (راہِ خدا میں) خرچ کرے اور اس مال کے ذریعے نیک اعمال کرے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1954]
”بیشک (دنیا میں) مال کی کثرت والے ہی قیامت کے دن (ثواب کے لحاظ سے) کم تر ہوں گے، سوائے اس شخص کے جسے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا ہو اور وہ اسے اپنے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے (راہِ خدا میں) خرچ کرے اور اس مال کے ذریعے نیک اعمال کرے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1954]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ق] عن أبي ذر.»
قال الشيخ الألباني: صحيح