صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1938. إن المؤمنين يشدد عليهم لأنه لا تصيب المؤمن نكبة من ....
بیشک مومنوں پر سختیاں (آزمائشیں) اس لیے ڈالی جاتی ہیں ....
حدیث نمبر: 1935
«إن المؤمنين يشدد عليهم لأنه لا تصيب المؤمن نكبة من شوكة فما فوقها ولا وجع إلا رفع الله له بها درجة وحط عنه خطيئة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک مومنوں پر سختیاں (آزمائشیں) اس لیے ڈالی جاتی ہیں کیونکہ مومن کو کانٹا چبھنے یا اس سے بڑھ کر کوئی بھی مصیبت اور کوئی تکلیف نہیں پہنچتی، مگر اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1935]
”بیشک مومنوں پر سختیاں (آزمائشیں) اس لیے ڈالی جاتی ہیں کیونکہ مومن کو کانٹا چبھنے یا اس سے بڑھ کر کوئی بھی مصیبت اور کوئی تکلیف نہیں پہنچتی، مگر اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1935]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ابن سعد ك هب] عن عائشة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1939. إن المتبايعين بالخيار في بيعهما ما لم يتفرقا أو يكون ....
بیشک خریدار اور بیچنے والے کو اپنی خرید و فروخت ....
حدیث نمبر: 1936
«إن المتبايعين بالخيار في بيعهما ما لم يتفرقا أو يكون البيع خيارا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک خریدار اور بیچنے والے کو اپنی خرید و فروخت میں اس وقت تک اختیار حاصل ہے جب تک وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، یا یہ کہ بیع ہی اختیار کی شرط پر ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1936]
”بیشک خریدار اور بیچنے والے کو اپنی خرید و فروخت میں اس وقت تک اختیار حاصل ہے جب تک وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، یا یہ کہ بیع ہی اختیار کی شرط پر ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1936]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [خ] عن ابن عمر. أحاديث البيوع: مالك، حم م د ق الطحاوي، هق.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1940. إن المتحابين بالله في ظل العرش
بیشک اللہ کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرنے ....
حدیث نمبر: 1937
«إن المتحابين بالله في ظل العرش»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک اللہ کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرنے والے (قیامت کے دن) عرش کے سائے میں ہوں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1937]
”بیشک اللہ کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرنے والے (قیامت کے دن) عرش کے سائے میں ہوں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1937]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن معاذ. الترغيب 4/47: ابن المبارك، حم حب ك.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1941. إن المختلعات والمنتزعات هن المنافقات
بیشک (بغیر شرعی عذر کے) خلع لینے والی اور طلاق ....
حدیث نمبر: 1938
«إن المختلعات والمنتزعات هن المنافقات»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک (بغیر شرعی عذر کے) خلع لینے والی اور طلاق مانگنے والی عورتیں منافق ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1938]
”بیشک (بغیر شرعی عذر کے) خلع لینے والی اور طلاق مانگنے والی عورتیں منافق ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1938]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عقبة بن عامر. الصحيحة 1633: الطبري.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1942. إن المرأة إذا أقبلت أقبلت في صورة شيطان فإذا رأى ....
بیشک عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت ....
حدیث نمبر: 1939
«إن المرأة إذا أقبلت أقبلت في صورة شيطان فإذا رأى أحدكم امرأة فأعجبته فليأت أهله فإن الذي معها مثل الذي معها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت میں آتی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے، تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے، کیونکہ جو کچھ اس (اجنبی عورت) کے پاس ہے، ویسا ہی اس کی بیوی کے پاس بھی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1939]
”بیشک عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت میں آتی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے، تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے، کیونکہ جو کچھ اس (اجنبی عورت) کے پاس ہے، ویسا ہی اس کی بیوی کے پاس بھی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1939]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ت حب] عن جابر. الصحيحة 235.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1943. إن المرأة تقبل في صورة شيطان وتدبر في صورة شيطان ....
بیشک عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت ....
حدیث نمبر: 1940
«إن المرأة تقبل في صورة شيطان وتدبر في صورة شيطان فإذا رأى أحدكم امرأة أعجبته فليأت أهله فإن ذلك يرد ما في نفسه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت میں آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تب بھی شیطان کی صورت میں ہوتی ہے، پس جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے بھلی لگے، تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے، کیونکہ یہ عمل اس کے دل کے وسوسے کو دور کر دے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1940]
”بیشک عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت میں آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تب بھی شیطان کی صورت میں ہوتی ہے، پس جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے بھلی لگے، تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے، کیونکہ یہ عمل اس کے دل کے وسوسے کو دور کر دے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1940]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م د] عن جابر. الصحيحة 235.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1944. إن المرأة تنكح لدينها ومالها وجمالها فعليك بذات الدين تربت ....
بیشک عورت سے اس کے دین، اس کے مال اور ....
حدیث نمبر: 1941
«إن المرأة تنكح لدينها ومالها وجمالها فعليك بذات الدين تربت يداك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک عورت سے اس کے دین، اس کے مال اور اس کے حسن کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، لہٰذا تم دین دار عورت کو لازم پکڑو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں (یعنی تمہیں بھلائی نصیب ہو)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1941]
”بیشک عورت سے اس کے دین، اس کے مال اور اس کے حسن کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، لہٰذا تم دین دار عورت کو لازم پکڑو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں (یعنی تمہیں بھلائی نصیب ہو)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1941]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م ت ن] عن جابر.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1945. إن المرأة خلقت من ضلع فإن ذهبت تقومها كسرتها وإن ....
بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اگر تم ....
حدیث نمبر: 1942
«إن المرأة خلقت من ضلع فإن ذهبت تقومها كسرتها وإن تدعها ففيها أود وبلغة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنے جاؤ گے تو اسے توڑ دو گے، اور اگر تم اسے اسی حال پر چھوڑ دو گے تو اس میں ٹیڑھ رہے گی اور اسی سے تمہارا گزارہ ہوگا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1942]
”بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنے جاؤ گے تو اسے توڑ دو گے، اور اگر تم اسے اسی حال پر چھوڑ دو گے تو اس میں ٹیڑھ رہے گی اور اسی سے تمہارا گزارہ ہوگا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1942]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [حم ن] أبي ذر. الترغيب 3/73: خد، الدارمي.»
قال الشيخ الألباني: حسن
1946. إن المرأة خلقت من ضلع لن تستقيم لك على طريقة ....
بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، وہ تمہارے ....
حدیث نمبر: 1943
«إن المرأة خلقت من ضلع لن تستقيم لك على طريقة فإن استمتعت بها استمتعت بها وبها عوج وإن ذهبت تقيمها كسرتها وكسرها طلاقها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، وہ تمہارے لیے کبھی کسی ایک طریقے پر سیدھی نہیں ہو سکتی، پس اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اسی ٹیڑھ کے ساتھ فائدہ اٹھا سکتے ہو، اور اگر تم اسے سیدھا کرنے جاؤ گے تو اسے توڑ دو گے، اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1943]
”بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، وہ تمہارے لیے کبھی کسی ایک طریقے پر سیدھی نہیں ہو سکتی، پس اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اسی ٹیڑھ کے ساتھ فائدہ اٹھا سکتے ہو، اور اگر تم اسے سیدھا کرنے جاؤ گے تو اسے توڑ دو گے، اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1943]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م ت] عن أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1947. إن المرأة خلقت من ضلع وإنك إن ترد إقامة الضلع ....
بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اگر ....
حدیث نمبر: 1944
«إن المرأة خلقت من ضلع وإنك إن ترد إقامة الضلع تكسرها فدارها تعش بها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اگر تم پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے، لہٰذا اس کے ساتھ مدارات (نرمی اور حکمت) سے پیش آؤ، تم اس کے ساتھ بخوشی زندگی گزار لو گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1944]
”بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اگر تم پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے، لہٰذا اس کے ساتھ مدارات (نرمی اور حکمت) سے پیش آؤ، تم اس کے ساتھ بخوشی زندگی گزار لو گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1944]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم حب ك] عن سمرة. الترغيب 3/72.»
قال الشيخ الألباني: صحيح