🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
31. الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه
سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2802
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ، أَلَا أُعَجِّبُكِ؟ لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ مَلَكٌ آنِفًا مَا دَخَلَ عَلَيَّ قَطُّ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي هَذَا مَقْتُولٌ، وَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ تُرْبَةً يُقْتَلُ فِيهَا، فَتَنَاوَلَ الْمَلَكُ بِيَدِهِ، فَأَرَانِي تُرْبَةً حَمْرَاءَ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا میں تمہیں ایک عجیب بات نہ بتاؤں؟ ابھی ابھی میرے پاس ایک فرشتہ آیا جو پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ اس نے کہا: بے شک یہ میرا بیٹا قتل کیا جائے گا۔ اور کہا: اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ مٹی دکھاؤں جس میں یہ قتل ہوگا۔ چنانچہ فرشتے نے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے سرخ مٹی دکھائی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2802]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 107، حدیث 2815»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2803
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ: قَالَ لِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ قَبْلَ قَتْلِهِ بِيَوْمٍ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ لَهُمْ مَلِكٌ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
علی بن حسین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے ایک دن پہلے مجھ سے فرمایا: ”بنی اسرائیل کا ایک بادشاہ تھا۔“ پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2803]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 107، حدیث 2816»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2804
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَلْعَبَانِ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ أُمَّتَكَ تَقْتُلُ ابْنَكَ هَذَا مِنْ بَعْدِكَ. فَأَوْمأَ بِيَدِهِ إِلَى الْحُسَيْنِ، فَبَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَدِيعَةٌ عِنْدَكِ هَذِهِ التُّرْبَةُ» . فَشَمَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «وَيْحَ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ» . قَالَتْ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِذَا تَحَوَّلَتْ هَذِهِ التُّرْبَةُ دَمًا فَاعْلَمِي أَنَّ ابْنِي قَدْ قُتِلَ» قَالَ: فَجَعَلَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فِي قَارُورَةٍ، ثُمَّ جَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهَا كُلَّ يَوْمٍ، وَتَقُولُ: إِنَّ يَوْمًا تَحَوَّلِينَ دَمًا لَيَوْمٌ عَظِيمٌ"
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا: اے محمد! آپ کی امت آپ کے بعد آپ کے اس بیٹے کو قتل کرے گی۔ اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے حسین کی طرف اشارہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے اور انہیں اپنے سینے سے لگا لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مٹی تمہارے پاس امانت ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سونگھا اور فرمایا: ”کرب اور بلا پر افسوس!“ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! جب یہ مٹی خون میں بدل جائے تو جان لینا کہ میرا بیٹا قتل کر دیا گیا ہے۔“ (راوی) کہتے ہیں: چنانچہ ام سلمہ نے اسے ایک شیشی میں رکھ لیا، پھر وہ ہر روز اسے دیکھتیں اور کہتیں: جس دن یہ خون میں بدل جائے وہ بڑا سخت دن ہوگا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 108، حدیث 2817»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2805
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ، وَقَالَتْ: «قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ، لَعَنَهُمُ اللهُ»
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں: جب حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو سنا، انہوں نے اہلِ عراق پر لعنت بھیجی اور فرمایا: ”انہوں نے اسے قتل کیا، اللہ انہیں ہلاک کرے، انہوں نے اسے دھوکہ دیا اور بے یار و مددگار چھوڑا، اللہ کی ان پر لعنت ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2805]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 108، حدیث 2818»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2806
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ فِي بَيْتِي، فَقَالَ: «لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَانْتَظَرْتُ فَدَخَلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُ نَشِيجَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا حُسَيْنٌ فِي حِجْرِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ حِينَ دَخَلَ، فَقَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ مَعَنَا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: تُحِبُّهُ؟ قُلْتُ: أَمَّا مِنَ الدُّنْيَا فَنَعَمْ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُ هَذَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا كَرْبَلَاءُ". فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ تُرْبَتِهَا، فَأَرَاهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُحِيطَ بِحُسَينٍ حِينَ قُتِلَ، قَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ؟ قَالُوا: كَرْبَلَاءُ. قَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں بیٹھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی نہ آئے۔“ میں انتظار کرتی رہی کہ اتنے میں حسین رضی اللہ عنہ اندر آگئے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سسکیوں کی آواز سنی کہ آپ رو رہے ہیں، تو میں نے جھانک کر دیکھا تو حسین آپ کی گود میں تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی پیشانی پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ کب اندر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ گھر میں موجود تھے، انہوں نے کہا: کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں؟ میں نے کہا: دنیا کی حد تک تو ہاں۔ انہوں نے کہا: آپ کی امت اسے ایک ایسی سرزمین میں قتل کرے گی جسے کربلا کہا جاتا ہے۔“ پھر جبریل علیہ السلام نے اس کی مٹی میں سے کچھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی۔ پھر جب حسین کو (شہادت کے وقت) گھیر لیا گیا تو انہوں نے پوچھا: اس زمین کا نام کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: کربلا۔ تو فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ کرب و بلا کی سرزمین ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2806]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 108، حدیث 2819»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2807
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ صَالِحٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَرْبَدَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسِي بِالْبَابِ، وَلَا يَلِجَنَّ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَقُمْتُ بِالْبَابِ، إِذْ جَاءَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَهَبْتُ أَتَنَاوَلُهُ، فَسَبَقَنِي الْغُلَامُ، فَدَخَلَ عَلَى جَدِّهِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، جَعَلَنِي اللهُ فِدَاكَ، أَمَرْتَنِي أَنْ لَا يَلِجَ عَلَيْكَ أَحَدٌ، وَإِنَّ ابْنَكَ جَاءَ، فَذَهَبْتُ أَتَنَاوَلُهُ فَسَبَقَنِي، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ تَطَلَّعْتُ مِنَ الْبَابِ، فَوَجَدْتُكَ تُقَلِّبُ بِكَفَّيْكَ شَيْئًا وَدُمُوعُكَ تَسِيلُ، وَالصَّبِيُّ عَلَى بَطْنِكَ. قَالَ: «نَعَمْ، أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي يَقْتُلُونَهُ، وَأَتَانِي بِالتُّرْبَةِ الَّتِي يُقْتَلُ عَلَيْهَا، فَهِيَ الَّتِي أُقَلِّبُ بِكَفَّيَّ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”دروازے پر بیٹھ جاؤ، میرے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے۔“ میں دروازے پر کھڑی ہو گئی، اتنے میں حسین رضی اللہ عنہ آگئے۔ میں انہیں روکنے کے لیے بڑھی مگر وہ بچہ مجھ سے آگے نکل گیا اور اپنے نانا کے پاس اندر چلا گیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ کوئی اندر نہ آئے، اور آپ کا یہ بیٹا آگیا، میں نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ آگے نکل گیا۔ جب دیر ہوئی تو میں نے دروازے سے جھانکا تو دیکھا کہ آپ اپنی ہتھیلیوں میں کوئی چیز الٹ پلٹ رہے ہیں اور آپ کے آنسو بہہ رہے ہیں، اور بچہ آپ کے پیٹ پر (بیٹھا) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، میرے پاس جبریل آئے، انہوں نے مجھے خبر دی کہ میری امت اسے قتل کرے گی، اور میرے پاس وہ مٹی لائے جس پر یہ قتل ہوگا، یہی وہ مٹی ہے جسے میں اپنی ہتھیلیوں میں الٹ پلٹ رہا ہوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2807]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 109، حدیث 2820»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2808
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَجَعَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ خَاثِرُ النَّفْسِ، وَفِي يَدِهِ تُرْبَةٌ حَمْرَاءُ يُقَلِّبُهَا، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ التُّرْبَةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ:" أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّ هَذَا يُقْتَلُ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ - لِلْحُسَيْنِ - فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَرِنِي تُرْبَةَ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا، فَهَذِهِ تُرْبَتُهَا"
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے، پھر جب بیدار ہوئے تو دل بوجھل تھا، اور آپ کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی جسے آپ الٹ پلٹ رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مٹی کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبریل علیہ السلام نے خبر دی ہے کہ یہ — یعنی حسین — سرزمینِ عراق میں قتل کیا جائے گا، تو میں نے جبریل علیہ السلام سے کہا: مجھے اس زمین کی مٹی دکھائیں جہاں یہ قتل ہوگا، تو یہ اسی کی مٹی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2808]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 109، حدیث 2821»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2809
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذَا؟ فَقَالَ: «دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ، لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ» . فَأُحْصِيَ ذَلِكَ الْيَوْمُ، فَوُجِدَ قَدْ قُتِلَ يَوْمَئِذٍ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ پراگندہ حال اور گرد آلود تھے، آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی جس میں خون تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں آج سے مسلسل اسے چن رہا ہوں۔“ پھر اس دن کا حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ اسی دن وہ شہید کیے گئے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2809]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 110، حدیث 2822»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2810
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَزَرَةَ، عَنْ أَبِي حِبَرَةَ، قَالَ: صَحِبْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَى الْكُوفَةَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ بِذُرِّيَّةِ نَبِيِّكُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمْ؟» قَالُوا: إِذًا نُبْلِيَ اللهَ فِيهِمْ بَلَاءً حَسَنًا. فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَنْزِلُنَّ بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمْ، ولَتَخْرُجُنَّ إِلَيْهِمْ فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ» . ثُمَّ أَقْبَلَ يَقُولُ:
[البحر الطويل]
هُمُ أَوْرَدُوهُمْ بِالْغُرُورِ وَعَرَّدُوا... أَحَبُّوا نَجَاةً لَا نَجَاةَ وَلَا عُذْرَا
ابوحبرہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا یہاں تک کہ وہ کوفہ پہنچے، تو منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہارے نبی کی اولاد تمہارے درمیان اترے گی؟“ لوگوں نے کہا: تب تو ہم ان کے معاملے میں اللہ کے لیے بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ ضرور تمہارے درمیان اترے گی، اور تم ضرور ان کی طرف نکلو گے، پھر تم انہیں قتل کر دو گے۔“ پھر آپ یہ شعر پڑھنے لگے:
”انہی لوگوں نے انہیں دھوکے سے موت کے گھاٹ لے گئے پھر خود بھاگ کھڑے ہوئے، انہوں نے ایسی نجات چاہی جس میں نہ نجات ہے نہ کوئی عذر۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2810]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 110، حدیث 2823»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2811
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِي بْنِ هَانِي، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ قَالَ: «لَيُقْتَلَنَّ الْحُسَيْنُ قَتْلًا، وَإِنِّي لَأَعْرِفُ التُّرْبَةَ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا قَرِيبًا مِنَ النَّهْرَيْنِ»
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا: ”حسین ضرور شہید کیا جائے گا، اور میں اس مٹی کو جانتا ہوں جہاں وہ شہید ہوگا، وہ دو نہروں کے قریب ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2811]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 110، حدیث 2824»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں