المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه
سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حدیث نمبر: 2822
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: «مَا رُفِعَ بِالشَّامِ حَجَرٌ يَوْمَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَّا عَنْ دَمٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: جس دن حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے، شام میں کوئی پتھر نہیں اٹھایا گیا مگر اس کے نیچے سے خون نکلا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2822]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 113، حدیث 2835»
حدیث نمبر: 2823
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ حَكِيمٍ، قَالَتْ: «قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةٌ، فَمَكَثَتِ السَّمَاءُ أَيَّامًا مِثْلَ الْعَلَقَةِ»
ام حکیم بیان کرتی ہیں: جب حسین بن علی شہید کیے گئے تو میں اس وقت ایک نوعمر لڑکی تھی، آسمان کئی دن تک جمے ہوئے خون کے لوتھڑے جیسا (سرخ) رہا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2823]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 113، حدیث 2836»
حدیث نمبر: 2824
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ الْكَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي نُوَيْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ احْمَرَّتِ السَّمَاءُ» . قُلْتُ: أَيَّ شَيْءٍ تَقُولُ؟ فَقَالَ: «إِنَّ الْكَذَّابَ مُنَافِقٌ، إِنَّ السَّمَاءَ احْمَرَّتْ حِينَ قُتِلَ»
جمیل بن زید بیان کرتے ہیں: جب حسین شہید کیے گئے تو آسمان سرخ ہو گیا۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے کہا: آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جھوٹا شخص منافق ہوتا ہے، بے شک جب وہ شہید ہوئے تو آسمان سرخ ہو گیا تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2824]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 113، حدیث 2837»
حدیث نمبر: 2825
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي قَيْسٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ كَسْفَةً حَتَّى بَدَتِ الْكَوَاكِبُ نِصْفَ النَّهَارِ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا هِيَ»
ابوقبیل بیان کرتے ہیں: جب حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو سورج کو ایسا گرہن لگا کہ دوپہر کے وقت ستارے نظر آنے لگے، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ قیامت ہی آگئی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2825]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 114، حدیث 2838»
حدیث نمبر: 2826
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَكَثْنَا سَبْعَةَ أَيَّامٍ إِذَا صَلَّيْنَا الْعَصْرَ نَظَرْنَا إِلَى الشَّمْسِ عَلَى أَطْرَافِ الْحِيطَانِ كَأَنَّهَا الْمَلَاحِفُ الْمُعَصْفَرَةُ، وَنَظَرْنَا إِلَى الْكَوَاكِبِ يَضْرِبُ بَعْضُهَا بَعْضًا»
عیسیٰ بن حارث کندی بیان کرتے ہیں: جب حسین رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو ہم سات دن تک، جب بھی عصر کی نماز پڑھتے، دیواروں کے کناروں پر سورج کو ایسے دیکھتے جیسے زعفرانی رنگ کی چادریں ہوں، اور ستاروں کو دیکھتے کہ وہ آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2826]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 114، حدیث 2839»
حدیث نمبر: 2827
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ فِي السَّمَاءِ حُمْرَةٌ حَتَّى قُتِلَ الْحُسَيْنُ»
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: آسمان میں سرخی اس وقت تک نہیں تھی جب تک حسین شہید نہیں کیے گئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2827]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 114، حدیث 2840»
حدیث نمبر: 2828
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، قَالَ: رَمَى رَجُلٌ الْحُسَيْنَ وَهُوَ يَشْرَبُ، فَشُلَّ شِدْقُهُ، فَقَالَ: «لَا أَرْوَاكَ اللهُ» قَالَ: «فَشَرِبَ حَتَّى تَفَطَّرَ»
کلبی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے حسین کو نشانہ بنایا جب وہ پانی پی رہے تھے، تو (تیر لگنے سے) ان کی باچھ شل ہو گئی۔ حسین نے فرمایا: ”اللہ تجھے کبھی سیراب نہ کرے۔“ (راوی کہتے ہیں) پھر وہ پیتا رہا یہاں تک کہ پھٹ کر مر گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2828]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 114، حدیث 2841»
حدیث نمبر: 2829
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ بِحُسينٍ، وَأَيْقَنَ أَنَّهُمْ قَاتِلُوهُ، وَقَامَ فِي أَصْحَابِهِ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «قَدْ نَزَلَ مَا تَرَوْنَ مِنَ الْأَمْرِ، وَإِنَّ الدُّنْيَا تَغَيَّرَتْ وَتَنَكَّرَتْ وَأَدْبَرَ مَعْرُوفُهَا، واسْتَمَرَّتْ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ إِلَّا خَسِيسُ عَيْشٍ كَالمَرْعَى الْوَبِيلِ، أَلَا تَرَوْنَ الْحَقَّ لَا يُعْمَلُ بِهِ، وَالْبَاطِلَ لَا يُتَنَاهَى عَنْهُ، لِيَرْغَبِ الْمُؤْمِنُ فِي لِقَاءِ اللهِ، وَإِنِّي لَا أَرَى الْمَوْتَ إِلَّا سَعَادَةً، وَالْحَيَاةَ مَعَ الظَّالِمِينَ إِلَّا بُرْمًا» . وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ بِالطَّفِّ بِكَرْبَلَاءَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةُ خَزٍّ دَكْنَاءُ، وَهُوَ صَابِغٌ بِالسَّوَادِ، وَهُوَ ابْنُ سِتٍّ وَخَمْسِينَ
محمد بن حسن بیان کرتے ہیں: جب عمر بن سعد حسین کے مقابل اتر آیا، اور حسین کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ انہیں قتل کر کے رہیں گے، تو وہ اپنے ساتھیوں میں کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے، اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”جو معاملہ تم دیکھ رہے ہو وہ پیش آچکا ہے، بے شک دنیا بدل چکی ہے اور اجنبی ہو گئی ہے، اس کی بھلائی پیٹھ پھیر چکی ہے، اور یہ مسلسل ایسے ہی چلی جا رہی ہے کہ اس میں سے صرف برتن کی تہہ میں بچی ہوئی تلچھٹ کے سوا کچھ باقی نہیں رہا، سوائے ایک ذلیل زندگی کے جیسے زہریلی چراگاہ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں کیا جاتا، اور باطل سے روکا نہیں جاتا؟ مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ملاقات کی رغبت رکھے۔ اور میں موت کو سعادت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا، اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو تنگی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔“ اور حسین رضی اللہ عنہ عاشوراء کے دن، اکسٹھ ہجری میں، طف کے مقام کربلا میں شہید کیے گئے، اس وقت آپ کے جسم پر خز کی مٹیالے رنگ کی جبہ تھی، اور آپ نے بالوں کو سیاہ خضاب لگا رکھا تھا، اور آپ کی عمر چھپن برس تھی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2829]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 114، حدیث 2842»
حدیث نمبر: 2830
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَايَعَ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَهُمْ صِغَارٌ لَمْ يَبْلُغُوا» . قَالَ: «وَلَمْ يُبَايِعْ صَغِيرًا إِلَّا مِنَّا»
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد (محمد باقر رحمہ اللہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن، حسین، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم سے بیعت لی جبکہ وہ چھوٹے تھے، ابھی بلوغت کو نہیں پہنچے تھے۔ (راوی) کہتے ہیں: ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سوا کسی چھوٹے بچے سے بیعت نہیں لی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2830]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 115، حدیث 2843»
حدیث نمبر: 2831
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا الزُّبَيْرُ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَمِّي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «حَجَّ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ حَجَّةً مَاشِيًا»
مصعب بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: حسین رضی اللہ عنہ نے پچیس حج پیدل کیے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2831]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 115، حدیث 2844»