المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. يزيد بن أبي زياد، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى
یزید بن ابی زیاد کی عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایات
حدیث نمبر: 16337
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} [الأحزاب: ٥٦] ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، قُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟، قَالَ:" قُلِ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ". قَالَ: وَنَحْنُ نَقُولُ: وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو“ [سورۃ الاحزاب: 56] ، تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ پر درود بھیجنے کے بارے میں پوچھا، ہم نے عرض کیا: سلام تو ہم جان گئے، آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: اے اللہ! محمد اور آل محمد پر ایسے رحمت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے۔ اور محمد اور آل محمد پر ایسے برکت نازل فرما جیسے تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے۔“ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اور ہم یہ بھی کہتے تھے: اور ہم پر بھی ان کے ساتھ (رحمت نازل فرما)۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16337]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 130، حدیث 287»
حدیث نمبر: 16338
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16338]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 130، حدیث 288»
حدیث نمبر: 16339
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16339]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 130، حدیث 289»
حدیث نمبر: 16340
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشِ، عَنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16340]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 130، حدیث 290»
46. أبو سعد البقال، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى
ابوسعد بقال کی عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایات
حدیث نمبر: 16341
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ أبِي سَعْدٍ الْبَقَّالِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: قُلْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟، قَالَ:" قُولُوا: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: سلام تو ہم جان گئے، آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہو: اے اللہ! محمد اور آل محمد پر ایسے رحمت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے۔ اور محمد اور آل محمد پر ایسے برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16341]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 132، حدیث 291»
47. إسماعيل بن عبد الرحمن السدي، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن كعب بن عجرة
اسماعیل بن عبدالرحمن سدی کی، عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے واسطے سے، سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16342
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟، قَالَ:" قُولُوا: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ سلام تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ آپ پر کیسے بھیجیں، تو آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہو: اے اللہ! محمد اور آل محمد پر ایسے رحمت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد اور آل محمد پر ایسے برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16342]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 132، حدیث 292»
48. أبو مسكين الأنصاري، عن ابن أبي ليلى
ابومسکین انصاری کی ابن ابی لیلیٰ سے روایات
حدیث نمبر: 16343
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ الصُّورِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ مُوسَى، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ، ثنا أَبُو مِسْكِينٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: جَلَسْنَا يَوْمًا أَمَامَ بُيُوتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَهْطٍ مِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْصَارِ، وَرَهْطٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَرَهْطٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَاخْتَصَمْنَا فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّنَا أَوْلَى بِهِ وَأَحَبُّ إِلَيْهِ؟، قُلْنَا: نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْصَارِ آمَنَّا بِهِ وَاتَّبَعْنَاهُ وَقَاتَلْنَا مَعَهُ وَكَتِيبَتُهُ فِي نَحَرِ عَدُوِّهِ، فَنَحْنُ أَوْلَى بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحَبَّهُمْ إِلَيْهِ، وَقَالَ إِخْوَانُنَا الْمُهَاجِرُونُ: نَحْنُ الَّذِينَ هَاجَرْنَا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، فَارَقْنَا الْعَشَائِرَ وَالْأَهْلِينَ وَالْأَمْوَالَ، وَقَدْ حَضَرْنَا مَا حَضَرْتُمْ وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتُمْ، فَنَحْنُ أَوْلَى النَّاسِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحَبُّهُمْ إِلَيْهِ، فَقَالَ إِخْوَانُنَا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ: نَحْنُ عَشِيرَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَضَرْنَا الَّذِي حَضَرْتُمْ وَشَهِدْنَا الَّذِي شَهِدْتُمْ، فَنَحْنُ أَوْلَى بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحَبُّهُمْ إِلَيْهِ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ شَيْئًا» ، فَقُلْنَا مِثْلَ مَقَالَتِنَا، فَقَالَ لِلْأَنْصَارِ: «صَدَقْتُمْ، مَنْ يَرُدُّ هَذَا عَلَيْكُمْ» ، وَأَخْبَرْنَاهُ بِمَا قَالَ إِخْوَانُنَا الْمُهَاجِرُونَ، فَقَالَ: «صَدَقُوا وَبَرُّوا، مَنْ يَرُدُّ هَذَا عَلَيْهِمْ» ، وَأَخْبَرْنَاهُ بِمَا قَالَ بَنُو هَاشِمٍ، فَقَالَ: «صَدَقُوا وَبَرُّوا، مَنْ يَرُدُّ هَذَا عَلَيْهِمْ» ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ؟» ، قُلْنَا: بَلَى، بِأَبِينَا وَأُمِّنَّا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «أَمَّا أَنْتُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فَإِنَّمَا أَنَا أَخُوكُمْ» ، فَقَالُوا: اللهُ أَكْبَرُ ذَهَبْنَا بِهِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، «وَأَمَّا أَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنَّمَا أَنَا مِنْكُمْ» ، فَقَالُوا: اللهُ أَكْبَرُ ذَهَبْنَا بِهِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، «وَأَمَّا أَنْتُمْ بَنِي هَاشِمٍ، فَأَنْتُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ» ، فَقُمْنَا وَكُلُّنَا رَاضٍ مُغْتَبِطٌ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن ہم مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے سامنے بیٹھے تھے، ہم انصار کی ایک جماعت، مہاجرین کی ایک جماعت اور بنو ہاشم کی ایک جماعت تھی، تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھگڑنے لگے کہ ہم میں سے کون آپ کا زیادہ حق دار اور آپ کو زیادہ محبوب ہے؟ ہم نے کہا: ہم انصار آپ پر ایمان لائے، آپ کی پیروی کی، آپ کے ساتھ مل کر لڑے، اور آپ کا لشکر دشمن کے سینے پر (ہمارے ہی ساتھ) رہا، لہٰذا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ حق دار اور آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ ہمارے مہاجر بھائیوں نے کہا: ہم وہ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی، اپنے قبیلے، گھر والے اور مال چھوڑ دیے، اور جہاں تم حاضر ہوئے ہم بھی حاضر ہوئے اور جن معرکوں میں تم شریک ہوئے ہم بھی شریک ہوئے، لہٰذا ہم لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ حق دار اور آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ پھر ہمارے بنو ہاشم کے بھائیوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہیں، جہاں تم حاضر ہوئے ہم بھی حاضر ہوئے اور جن معرکوں میں تم شریک ہوئے ہم بھی شریک ہوئے، لہٰذا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ حق دار اور آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم کوئی بات کہہ رہے ہو؟“ ہم نے آپ کو اپنی بات بتائی، تو آپ نے انصار سے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، یہ بات تمہارے خلاف کون رد کر سکتا ہے؟“ پھر ہم نے آپ کو بتایا کہ ہمارے مہاجر بھائیوں نے کیا کہا، تو آپ نے فرمایا: ”انہوں نے بھی سچ کہا اور نیکی کی بات کہی، یہ بات ان کے خلاف کون رد کر سکتا ہے؟“ پھر ہم نے آپ کو بتایا کہ بنو ہاشم نے کیا کہا، تو آپ نے فرمایا: ”انہوں نے بھی سچ کہا اور نیکی کی بات کہی، یہ بات ان کے خلاف کون رد کر سکتا ہے؟“ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے درمیان فیصلہ نہ کر دوں؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ انصار! میں تو تمہارا بھائی ہوں“، تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر، رب کعبہ کی قسم! ہمیں یہ مل گیا۔ ”اور اے گروہ مہاجرین! میں تو تم ہی میں سے ہوں“، تو انہوں نے بھی کہا: اللہ اکبر، رب کعبہ کی قسم! ہمیں یہ مل گیا۔ ”اور اے بنو ہاشم! تم مجھ سے ہو اور میری طرف ہو“، پھر ہم سب اس حال میں کھڑے ہوئے کہ ہر ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے راضی اور خوش تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16343]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 133، حدیث 293»
49. عاصم العدوي، عن كعب بن عجرة
عاصم عدوی کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16344
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ آدَمٍ، فَقَالَ: «إِنَّهُ» سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَى الْحَوْضِ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَارِدٌ عَلَى الْحَوْضِ".
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے، ہم چمڑے کے ایک تکیے پر بیٹھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کچھ حکمران ہوں گے، جو ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ (میرے) حوض پر نہیں آئے گا۔ اور جو ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرے اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ حوض پر آئے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16344]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 134، حدیث 294»
حدیث نمبر: 16345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْعَسَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا سَابِعُ سَبْعَةٍ، فَقَالَ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ» ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت میں سات آدمیوں میں ساتواں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کچھ حکمران ہوں گے“، پھر آپ نے اسی طرح کی حدیث بیان فرمائی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16345]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 134، حدیث 295»
حدیث نمبر: 16346
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا فَيْضُ بْنُ الْفَضْلِ، أنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ أبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ، خَمْسَةٌ مِنَ الْعَرَبِ وَأَرْبَعَةٌ مِنَ الْعَجَمِ، فَقَالَ: «اسْمَعُوا أَمَا سَمِعْتُمْ أَنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَى الْحَوْضِ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ» .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے، ہم نو آدمی تھے، پانچ عرب اور چار عجمی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو، کیا تم نے نہیں سنا کہ میرے بعد کچھ حکمران ہوں گے، جو ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ حوض پر آنے والا نہیں۔ اور جو ان کے پاس نہ جائے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ حوض پر آئے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16346]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 135، حدیث 296»