المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. محمد بن كعب بن عجرة، عن أبيه
محمد بن کعب بن عجرہ کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 16377
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ الْعِيدِ إِلَى الْمُصَلَّى" فَجَلَسَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْإِمَامُ، وَلَمْ يَأْتِ حَتَّى إِذَا انْصَرَفَ الْإِمَامُ انْصَرَفُوا ذَاهِبِينَ نَحْوَ الْمَسْجِدِ كَأَنَّهُمْ عُنُقٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا تَرَى النَّاسَ؟، فَقَالَ: «هَذِهِ بِدْعَةٌ وَتَرْكُ السُّنَّةِ»
سعد بن اسحاق کے چچا (سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے) کہتے ہیں: میں عید کے دن اپنے والد کے ساتھ عید گاہ کی طرف نکلا، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، تو وہ امام کے آنے سے پہلے بیٹھ گئے، اور جب تک امام واپس نہ ہوا (کچھ اور) نہ کیا، پھر جب لوگ واپس ہوئے تو قطار در قطار مسجد کی طرف جانے لگے، تو میں نے ان سے عرض کیا: کیا آپ لوگوں کو نہیں دیکھتے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ بدعت ہے اور سنت کو چھوڑنا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16377]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 149، حدیث 327»
56. الربيع بن كعب بن عجرة، عن أبيه
ربیع بن کعب بن عجرہ کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 16378
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ دِهْقَانَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا فُلَانُ تَزَوَّجْتَ؟» ، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ لِي: «تَزَوَّجْتَ؟» ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: «أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟» ، قُلْتُ: لَا، بَلْ ثَيِّبًا، فَقَالَ: «فَهَلَّا بِكْرًا تَعَضُّهَا وَتَعَضُّكَ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے ربیع بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک صحابی سے) فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے شادی کی؟“ اس نے کہا: نہیں۔ پھر مجھ سے فرمایا: ”کیا تم نے شادی کی؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ شوہر دیدہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کیوں نہ کی، جس کے ساتھ تم چھیڑ چھاڑ کرتے اور وہ تمہارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی؟“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16378]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 149، حدیث 328»
57. سليمان بن محمد بن كعب بن عجرة، عن جده
سلیمان بن محمد بن کعب بن عجرہ کی اپنے دادا سے روایات
حدیث نمبر: 16379
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عُمَرَ، سَأَلَ كَعْبًا، فَقَالَ: أَيَّ شَيْءِ افْتَدَى كَعْبٌ حِينَ حَلَقَ رَأْسَهُ؟، قَالَ: «ذَبَحَ بَقَرَةً»
سلیمان بن محمد بن کعب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کعب نے سر منڈواتے وقت کیا فدیہ دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”ایک گائے ذبح کی تھی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16379]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 150، حدیث 329»
حدیث نمبر: 16380
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ كَعْبًا، قَالَ لِعُمَرَ: «ذَبَحْتُ بَقَرَةً»
سلیمان بن کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ کعب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں نے ایک گائے ذبح کی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16380]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 151، حدیث 330»
58. أنس بن سليمان مولى كعب بن عجرة، عن كعب
انس بن سلیمان، سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایت
حدیث نمبر: 16381
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَنَسَ بْنِ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ:" أَشْهَدُ لَقَدْ رَأَيْتُ أَرْبَعَةً أَوْ خَمْسَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُونَ الْمُعَصْفَرَ، مِنْهُمْ كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے غلام انس بن سلیمان کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چار یا پانچ صحابہ کو کسم (عصفر) سے رنگے ہوئے کپڑے پہنے دیکھا، جن میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16381]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 151، حدیث 331»
59. أبو ثمامة الحناط، عن كعب بن عجرة
ابوثمامہ حناط کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16382
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْمُجَوِّزُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمَ الْمُؤَذِّنُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ، ثنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أبِي ثُمَامَةَ الْحَنَّاطِ، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ وَأَنَا مُتَوَجِّهٌ إِلَى الْمَسْجِدِ مُشَبِّكٌ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَلَا يُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ»
ابو ثمامہ الحناط کہتے ہیں: سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مجھے اس حال میں ملے کہ میں مسجد کی طرف جا رہا تھا اور اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں، تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور مسجد آئے تو اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں نہ پھنسائے، کیونکہ وہ نماز کی حالت میں ہوتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16382]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 151، حدیث 332»
حدیث نمبر: 16383
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، عَنْ أبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أبِي ثُمَامَةَ، قَالَ: لَقِيتُ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ، وَأَنَا أُرِيدُ الْجُمُعَةَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ أَسْرَعْتُ نَحْوَهُ وَقَدْ شَبَّكْتُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ ضَرَبَ يَدَيَّ وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟، فَقَالَ: إِنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ يُشَبِّكَ أَحَدُنَا بَيْنَ أَصَابِعِهِ فِي الصَّلَاةِ، قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ تَوَضَّأْتَ وَأَنْتَ تُرِيدُ الْجُمُعَةَ؟، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ
ابو ثمامہ کہتے ہیں: میں جمعہ کے دن سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے ملا، اس وقت میں جمعہ کے لیے جا رہا تھا، جب میں نے انہیں دیکھا تو ان کی طرف تیزی سے بڑھا، اور میں نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں، جب میں ان کے قریب پہنچا تو انہوں نے میرے ہاتھ پر مار کر میری انگلیاں الگ کر دیں، تو میں نے عرض کیا: ابو محمد! یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہمیں منع کیا گیا ہے کہ ہم میں سے کوئی نماز کی حالت میں اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے۔ میں نے عرض کیا: میں تو نماز میں نہیں ہوں۔ انہوں نے فرمایا: کیا تم نے وضو نہیں کیا جبکہ تم جمعہ کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو تم نماز ہی کی حالت میں ہو۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16383]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 152، حدیث 333»
60. سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن كعب بن عجرة
سعید بن ابی سعید مقبری کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16384
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَوَضَّأْتَ ثُمَّ خَرَجْتَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا تُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِكَ فَإِنَّكَ فِي صَلَاةٍ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو، پھر مسجد کا ارادہ کر کے نکلو، تو اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں ہرگز نہ پھنساؤ، کیونکہ تم نماز کی حالت میں ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16384]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 152، حدیث 334»
حدیث نمبر: 16385
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا كَعْبُ» إِذَا خَرَجْتَ مِنْ مَنْزِلِكَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَلَا تُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے کعب! جب تم نماز کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلو تو اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں نہ پھنساؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16385]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 153، حدیث 335»
حدیث نمبر: 16386
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجْتَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا تُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِكَ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر مسجد کا ارادہ کر کے نکلو، تو اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں ہرگز نہ پھنساؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16386]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 153، حدیث 336»