المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. عامر الشعبي، عن كعب بن عجرة
عامر شعبی کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16357
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الطَّحَّانُ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَزِيرُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ السُّدِّيُّ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» ، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ، وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ، وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي جَانِبِ الْمِصْرِ فِي الْجَنَّةِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِنِسَائِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» ، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" الْوَدُودُ الْوَلُودُ الَّتِي إِنْ ظَلَمَتْ أَوْ ظُلِمَتْ قَالَتْ: هَذِهِ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، لَا أَذُوقُ غَمْضًا حَتَّى تَرْضَى"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے ان مردوں کی خبر نہ دوں جو اہلِ جنت میں سے ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی جنت میں ہے، شہید جنت میں ہے، صدیق جنت میں ہے، (کم سنی میں فوت ہونے والا) بچہ جنت میں ہے، اور وہ آدمی جو شہر کے دوسرے کونے میں اپنے (دینی) بھائی سے ملنے جاتا ہے، وہ بھی جنت میں ہے۔ کیا میں تمہیں تمہاری ان عورتوں کی خبر نہ دوں جو اہلِ جنت میں سے ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ محبت کرنے والی، بہت بچے جننے والی عورت، جو اگر (شوہر پر) ظلم کرے یا اس پر ظلم کیا جائے تو کہے: یہ میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، میں آپ کے راضی ہونے تک نیند کا مزہ نہیں چکھوں گی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16357]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 140، حدیث 307»
حدیث نمبر: 16358
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا سَابِعُ سَبْعَةٍ، مِنَّا خَمْسَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: «أَلَا هَلْ تَسْتَمِعُونَ؟» ، قَالَهَا ثَلَاثًا، «إِنَّهُ» سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَلْقَانِي فَيَكُونُ مَعِي"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے، اس وقت میں سات آدمیوں میں ساتواں تھا، ہم میں سے پانچ قریش سے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو، کیا تم سنتے ہو؟“ یہ بات آپ نے تین بار فرمائی، ”میرے بعد کچھ حکمران ہوں گے، جو ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ اور جو ان کے پاس نہ جائے، نہ ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے، اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ مجھ سے ملے گا اور میرے ساتھ ہو گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16358]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 140، حدیث 308»
حدیث نمبر: 16359
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلَوَيْهِ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ، ثنا طَاهِرُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ سَبْعَةٌ عَلَى وِسَادَةٍ، فَقَالَ: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ أُعِيذُكَ بِاللهِ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ؟، قَالَ: «أُمَرَاءُ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَى الْحَوْضِ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ»
: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ»
:" يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالنَّاسُ غَادِيَانِ: فَغَادٌ مُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقٌ رَقَبَتَهُ، وَغَادٌ بَائِعٌ نَفْسَهُ وَمُوبِقٌ رَقَبَتَهُ"
: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ»
:" يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالنَّاسُ غَادِيَانِ: فَغَادٌ مُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقٌ رَقَبَتَهُ، وَغَادٌ بَائِعٌ نَفْسَهُ وَمُوبِقٌ رَقَبَتَهُ"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے، اس وقت ہم سات آدمی ایک تکیے پر بیٹھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! میں تمہیں بے وقوفوں کی حکمرانی سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بے وقوفوں کی حکمرانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد آنے والے حکمران، جو ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ کبھی حوض پر نہیں آئے گا۔ اور جو ان کے پاس نہ جائے، نہ ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے، اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ حوض پر آئے گا۔“
”اے کعب بن عجرہ! حرام کمائی سے پلا ہوا گوشت کبھی جنت میں داخل نہیں ہو گا، آگ اس کے زیادہ حق دار ہے۔“
”اے کعب بن عجرہ! نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، روزہ ڈھال ہے، اور لوگ دو طرح کے صبح کرنے والے ہیں: ایک وہ جو اپنے آپ کو (گناہوں سے) خرید کر اپنی گردن آزاد کروانے والا ہے، اور دوسرا وہ جو اپنے آپ کو بیچ کر اپنی گردن ہلاک کرنے والا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16359]
”اے کعب بن عجرہ! حرام کمائی سے پلا ہوا گوشت کبھی جنت میں داخل نہیں ہو گا، آگ اس کے زیادہ حق دار ہے۔“
”اے کعب بن عجرہ! نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، روزہ ڈھال ہے، اور لوگ دو طرح کے صبح کرنے والے ہیں: ایک وہ جو اپنے آپ کو (گناہوں سے) خرید کر اپنی گردن آزاد کروانے والا ہے، اور دوسرا وہ جو اپنے آپ کو بیچ کر اپنی گردن ہلاک کرنے والا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16359]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 141، حدیث 309»
حدیث نمبر: 16360
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا عُبَيْدُ بْنُ مُغِيثٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّهَا سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ، فَمَنْ غَشِيَ أَبْوَابَهُمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَى الْحَوْضِ، وَمَنْ لَمْ يَغْشَ أَبْوَابَهُمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَارِدٌ عَلَى الْحَوْضِ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تم پر کچھ حکمران مقرر ہوں گے، جو ان کے دروازوں پر حاضری دے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ کبھی حوض پر نہیں آئے گا۔ اور جو ان کے دروازوں پر حاضری نہ دے، نہ ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے، اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ حوض پر آنے والا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16360]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 141، حدیث 310»
حدیث نمبر: 16361
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّابُونِيُّ التُّسْتَرِيُّ، ثنا زُرَيْقُ بْنُ السُّخْتِ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَخْبَرَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ سَبْعَةُ نَفَرٍ، أَرْبَعَةٌ مِنْ مَوَالِينَا وَثَلَاثَةٌ مِنْ عَرَبِنَا مُسْنِدِينَ ظُهُورَنَا إِلَى مَسْجِدِهِ، فَقَالَ: «مَا أَجْلَسُكُمْ؟» ، قُلْنَا: جَلَسْنَا نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَأَرَمَّ قَلِيلًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ؟» ، قُلْنَا: لَا، قَالَ:" فَإِنَّ رَبَّكُمْ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَحَافَظَ عَلَيْهَا وَلَمْ يُضَيِّعْهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا فَلَهُ عَلِيَّ عَهْدٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُصَلِّهَا لِوَقْتِهَا وَلَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا فَلَا عَهْدَ لَهُ عَلِيَّ إِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُهُ وَإِنْ شِئْتُ غَفَرْتُ لَهُ"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے، اس وقت ہم سات آدمی تھے، چار ہمارے موالی میں سے اور تین ہمارے عربوں میں سے، اپنی پیٹھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی طرف ٹکائے بیٹھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: آپ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر ہماری طرف اپنا چہرہ متوجہ کر کے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے تمہارا رب کیا فرماتا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا رب فرماتا ہے: جو نماز کو اس کے وقت پر پڑھے، اس کی پابندی کرے اور اس کے حق میں کوتاہی برتتے ہوئے اسے ضائع نہ کرے، تو اس کے لیے میرے ذمے یہ عہد ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا۔ اور جو اسے اس کے وقت پر نہ پڑھے اور اس کے حق میں کوتاہی برتتے ہوئے اس کی پابندی نہ کرے، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی عہد نہیں، اگر میں چاہوں تو اسے عذاب دوں اور اگر چاہوں تو اسے بخش دوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16361]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 142، حدیث 311»
حدیث نمبر: 16362
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا يُجْلِسُكُمْ؟» قُلْنَا: نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ؟» ، قُلْنَا: لَا، قَالَ:" فَإِنَّهُ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ لِوَقْتِهَا وَلَمْ يُضَيِّعْهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا فَلَهُ عَلِيَّ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ لَمْ يُصَلِّهَا لِوَقْتِهَا وَضَيَّعَهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا فَلَيْسَ لَهُ عِنْدِي عَهْدٌ إِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُهُ وَإِنْ شِئْتُ عَفَوْتُ عَنْهُ"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے تو فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے تمہارا رب کیا فرماتا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ فرماتا ہے: جو اپنی نمازیں وقت پر پڑھے اور ان کے حق میں کوتاہی برتتے ہوئے انہیں ضائع نہ کرے، تو اس کے لیے میرے ذمے یہ ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں۔ اور اگر وہ انہیں وقت پر نہ پڑھے اور ان کے حق میں کوتاہی برتتے ہوئے انہیں ضائع کر دے، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی عہد نہیں، اگر میں چاہوں تو اسے عذاب دوں اور اگر چاہوں تو اسے معاف کر دوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16362]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 142، حدیث 312»
حدیث نمبر: 16363
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةُ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مِسْكِينِ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَنَحْنُ سَبْعَةُ رَهْطٍ، أَرْبَعَةٌ مِنَ الْعَرَبِ وَثَلَاثَةٌ مِنَ الْمَوَالِي، فَجَلَسَ فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا قَالَ رَبُّكُمْ؟» ، قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَلَمْ يَذَرْهَا اسْتِخْفَافًا بِهَا لَقِيَنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عِنْدِي عَهْدٌ أُدْخِلَهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُصَلِّهَا لِوَقْتِهَا وَتَرَكَهَا اسْتِخْفَافًا بِهَا لَقِيَنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ لَهُ عِنْدِي عَهْدٌ إِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُهُ وَإِنْ شِئْتُ غَفَرْتُ لَهُ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہماری طرف تشریف لائے، اس وقت ہم سات آدمی تھے، چار عرب اور تین موالی میں سے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فرمایا؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نماز کو اس کے وقت پر پڑھے اور اس کے حق میں کوتاہی برتتے ہوئے اسے نہ چھوڑے، وہ قیامت کے دن مجھ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے لیے میرے پاس ایک عہد ہو گا جس کی بنا پر میں اسے جنت میں داخل کروں گا۔ اور جو اسے اس کے وقت پر نہ پڑھے اور اس کے حق میں کوتاہی برتتے ہوئے اسے چھوڑ دے، وہ قیامت کے دن مجھ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے لیے میرے پاس کوئی عہد نہیں ہو گا، اگر میں چاہوں تو اسے عذاب دوں اور اگر چاہوں تو اسے بخش دوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16363]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 143، حدیث 313»
53. إسحاق بن كعب بن عجرة، عن أبيه كعب
اسحاق بن کعب بن عجرہ کی اپنے والد سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16364
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ سَبْعَةٌ، ثَلَاثَةٌ عَرَبًا وَأَرْبَعَةٌ مَوَالِينَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: «مَا يُجْلِسُكُمْ هَهُنَا؟» ، قُلْنَا: نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، فَنَكَتَ بِأَصَابِعِهِ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ نَكَسَ سَاعَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِلَيْنَا رَأْسَهُ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ؟» ، قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ لِوَقْتِهَا فَأَقَامَ حَدَّهَا كَانَ لَهُ عَهْدٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَوَاتِ لِوَقْتِهَا وَيُقِمْ حَدَّهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدِي عَهْدٌ إِنْ شِئْتُ أَدْخَلْتُهُ النَّارَ وَإِنْ شِئْتُ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت ہم سات آدمی تھے، تین عرب اور چار ہمارے موالی میں سے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی حجرے سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے زمین پر کریدنا شروع کیا، پھر تھوڑی دیر سر جھکائے رہے، پھر ہماری طرف اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے تمہارا رب عزوجل کیا فرماتا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ فرماتا ہے: جو نمازیں ان کے وقت پر پڑھے اور ان کی حدود قائم رکھے، اس کے لیے یہ عہد ہو گا کہ میں اسے جنت میں داخل کروں۔ اور جو نمازیں ان کے وقت پر نہ پڑھے اور ان کی حدود قائم نہ رکھے، اس کے لیے میرے پاس کوئی عہد نہیں ہو گا، اگر میں چاہوں تو اسے آگ میں داخل کروں اور اگر چاہوں تو اسے جنت میں داخل کروں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16364]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 143، حدیث 314»
حدیث نمبر: 16365
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، مَوْلَى بَنِي جُمَحَ الْمَدِينِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ حِينَ" ارْتَقَى دَرَجَةً: «آمِينَ» ، ثُمَّ ارْتَقَى الْأُخْرَى فَقَالَ: «آمِينَ» ، ثُمَّ ارْتَقَى الثَّالِثَةَ فَقَالَ: «آمِينَ» ، فَلَمَّا نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ وَفَرَغَ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ سَمِعْنَا مِنْكَ كَلَامًا الْيَوْمَ مَا كُنَّا نَسْمَعُهُ قَبْلَ الْيَوْمِ؟، قَالَ: «وَسَمِعْتُمُوهُ؟» ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ لِي حِينَ ارْتَقَيْتُ دَرَجَةً فَقَالَ: بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبْرِ أَوْ أَحَدَهُمَا لَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: آمِينَ، وَقَالَ: بَعُدَ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ، فَقُلْتُ: آمِينَ، ثُمَّ قَالَ: بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر کی طرف نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (منبر کا) ایک درجہ چڑھا تو فرمایا: ”آمین۔“ پھر دوسرا درجہ چڑھے تو فرمایا: ”آمین۔“ پھر تیسرا درجہ چڑھے تو فرمایا: ”آمین۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور (خطبے سے) فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آج آپ سے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے سن لیا؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام میرے سامنے آئے جب میں نے پہلا درجہ چڑھا تو انہوں نے کہا: دور ہو جائے وہ شخص جس نے اپنے والدین کو یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور انہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کرایا۔ میں نے کہا: آمین۔ پھر انہوں نے کہا: دور ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے۔ تو میں نے کہا: آمین۔ پھر انہوں نے کہا: دور ہو جائے وہ شخص جو رمضان پائے اور اس کی بخشش نہ ہو۔ تو میں نے کہا: آمین۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16365]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 144، حدیث 315»
حدیث نمبر: 16366
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَوْسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ مَوْلَى آلِ جَحْشٍ، ثنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَقَالَ: «لَئِنْ سَلَّمَهُمُ اللهُ لَأَشْكُرَنَّهُ» - أَوْ قَالَ: «عَلِيَّ إِنْ سَلَّمَهُمُ اللهُ أَنْ أَشْكُرَهُ» ، فَغَنِمُوا وَسَلِمُوا، فَقَالَ: «اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا، وَلَكَ الْمَنُّ فَضْلًا» ، فَانْتَظَرَهُ النَّاسُ أَنْ يَصْنَعَ شَيْئًا، فَلَمْ يَرَوْهُ يَصْنَعُ شَيْئًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ قُلْتَ لَلَّذِي قَالَ، فَقَالَ:" أَوَلَمْ تَقُلْ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا، وَلَكَ الْمَنُّ فَضْلًا"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا اور فرمایا: ”اگر اللہ انہیں سلامت رکھے تو میں ضرور اس کا شکر ادا کروں گا“، یا فرمایا: ”میرے ذمے یہ (بات) ہے کہ اگر اللہ انہیں سلامت رکھے تو میں اس کا شکر ادا کروں۔“ چنانچہ وہ مالِ غنیمت لے کر سلامتی سے واپس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تیرے لیے شکر کے ساتھ حمد ہے، اور تیرے ہی فضل سے یہ احسان ہے۔“ لوگ انتظار کرتے رہے کہ آپ (شکرانے کے طور پر) کچھ خاص کریں گے، مگر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ کرتے نہ دیکھا، تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو وہ بات فرمائی تھی جو فرمائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے یہ نہیں کہا تھا: اے اللہ! تیرے لیے شکر کے ساتھ حمد ہے، اور تیرے ہی فضل سے یہ احسان ہے؟“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16366]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 144، حدیث 316»