🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
109. كيسان أبو نافع ويكنى أبا رافع
سیدنا کیسان، ابونافع، جن کی کنیت ابورافع بھی تھی، رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16487
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى، أنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ كَيْسَانَ الدِّمَشْقِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ كَيْسَانَ نَفْسَهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ يَتَّجِرُ فِي الْخَمْرِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ وَمَعَهُ خَمْرٌ فِي الزِّقَاقِ يُرِيدُ بِهِ التِّجَارَةَ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي جِئْتُ بِشَرَابٍ جَيِّدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا كَيْسَانُ إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ» ، قَالَ كَيْسَانُ: فَأَذْهَبُ فَأَبِيعُهَا يَا نَبِيَّ اللهِ؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ، وَحَرَامٌ ثَمَنُهَا» ، فَانْطَلَقَ كَيْسَانُ إِلَى الزِّقَاقِ فَأَخَذَهَا بِأَرْجُلِهَا ثُمَّ أَهْراَقَهَا جَمِيعًا
سیدنا کیسان ابو نافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شراب کی تجارت کرتے تھے، وہ شام سے آئے اور ان کے ساتھ مشکیزوں میں شراب تھی جسے تجارت کے لیے لائے تھے، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں عمدہ شراب لے کر آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے کیسان! یہ تو حرام کر دی گئی ہے۔“ کیسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! تو کیا میں جا کر اسے بیچ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حرام ہو چکی ہے، اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔“ تو کیسان مشکیزوں کی طرف گئے، انہیں پیروں سے پکڑا اور سب شراب بہا دی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16487]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 195، حدیث 438»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16488
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، ثنا أَبِي يَزِيدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ الْفَدَكِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الطَّائِفِيُّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ كَيْسَانَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ: حَمَلَ خَمْرًا إِلَى الْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ يُحَرِّمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَمَلْتَ يَا أَبَا رَافِعٍ؟» ، قَالَ: خَمْرًا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَمَا تَعْرِفُ أَنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَكَ؟» ، قَالَ: أَمَا أَبِيعُهَا الْيَهُودَ؟، قَالَ: «إِنَّ بَائِعَهَا كَشَارِبِهَا» ، فَشَقَّ أَبُو رَافِعٍ زِقَاقَهُ بِالْبَطْحَاءِ
نافع بن کیسان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد (کیسان رضی اللہ عنہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شراب کو حرام قرار دینے سے پہلے مدینہ میں شراب لائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ابو رافع! تم کیا لائے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: شراب، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ تمہارے بعد حرام کر دی گئی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: تو کیا میں اسے یہودیوں کے ہاتھ بیچ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیچنے والا بھی پینے والے ہی کی طرح ہے۔“ تو ابو رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے مشکیزے بطحاء میں چاک کر دیے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16488]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 196، حدیث 439»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16489
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ فِي دِمَشْقَ»
سیدنا کیسان ابو نافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق میں سفید مینار کے پاس اتریں گے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16489]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 196، حدیث 440»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
110. كدن بن عبد العكي
سیدنا کدن بن عبد عکی رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16490
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الرَّمْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فِهْرِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ أَبِي كَرِيمٍ الْعَكِّيِّ مِنْ أَهْلِ يَافَا، حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ، وَلِفَافُ ابْنَا الْمُفَضَّلِ بْنِ أَبِي كَرِيمِ بْنِ لِفَافِ بْنِ كَدَنَ، عَنْ أبِيهِمَا، عَنْ جَدِّهِمَا، عَنْ لِفَافِ بْنِ كَدَنَ، عَنْ أبِيهِ كَدَنَ بْنِ عَبْدٍ، قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ فَبَايَعْتُهُ وَأَسْلَمَتُ عَلَى يَدِهِ»
سیدنا کدن بن عبد عکی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16490]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 197، حدیث 441»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
111. كرز بن علقمة الخزاعي " كان ينزل المدينة "
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ، جو مدینہ میں رہائش رکھتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16491
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهًى؟، قَالَ: «نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ» ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَأَنَّهَا اللَّيْلُ» ، قَالَ: فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَقُودَنَّ فِيهَا أَسَاوِدُ صِبًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» .
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک اعرابی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، عرب ہو یا عجم، جس گھرانے کے بارے میں اللہ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے اسلام میں داخل کر دیتا ہے۔“ اس نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا، اے اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایسے فتنے واقع ہوں گے گویا وہ رات کی تاریکی ہوں۔“ اعرابی نے کہا: ہرگز نہیں، اے اللہ کے رسول! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان فتنوں میں کالے سانپوں جیسے فتنہ پرداز لوگ رہنمائی کریں گے، تم میں سے ایک دوسرے کی گردنیں مارے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16491]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 197، حدیث 442»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16492
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
سیدنا کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16492]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 197، حدیث 443»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16493
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهًى؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ» ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ» ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَعُودُنَّ فِيهَا أَسَاوِدَ صِبًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اعراب میں سے ایک شخص آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، عرب ہو یا عجم، جس گھرانے کے بارے میں اللہ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے اسلام میں داخل کر دیتا ہے۔“ اعرابی نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا، اے اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فتنے اس طرح واقع ہوں گے جیسے سائبان۔“ اعرابی نے کہا: ہرگز نہیں، اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم ان (فتنوں) میں کالے سانپوں کی طرح (ایک دوسرے پر) لپکنے والے بن جاؤ گے، تم میں سے بعض بعض کی گردنیں ماریں گے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16493]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 198، حدیث 444»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16494
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَعْرَابِ نَجْدٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهًى؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ» ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ» ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صِبًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» .
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نجد کے اعراب میں سے ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، عرب ہو یا عجم، جس گھرانے کے بارے میں اللہ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے اسلام میں داخل کر دیتا ہے۔“ اعرابی نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا، اے اللہ کے رسول؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فتنے اس طرح واقع ہوں گے جیسے سائبان۔“ اعرابی نے کہا: ہرگز نہیں، اے اللہ کے رسول! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم ان (فتنوں) میں کالے سانپوں کی طرح (ایک دوسرے پر) لپکنے والے بن جاؤ گے، تم میں سے بعض بعض کی گردنیں ماریں گے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16494]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 198، حدیث 445»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16495
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي جَدِّي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى الْخَوْلَانِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرْزٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
سیدنا کرز رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16495]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 198، حدیث 446»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
112. كرز بن جابر القرشي ثم الفهري " استشهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح "
سیدنا کرز بن جابر قرشی پھر فہری رضی اللہ عنہ، جو فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شہید ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16496
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ: فِي تَسْمِيَةِ «مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي مُحَارِبِ بْنِ فِهْرٍ، كُرْزُ بْنُ جَابِرٍ»
عروہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن شہید ہونے والے مسلمانوں میں، قریش میں سے، پھر بنو محارب بن فہر میں سے، سیدنا کرز بن جابر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16496]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 199، حدیث 447»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں