السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2604. -- باب: من قال بنسخ الوصية للأقربين الذين لا يرثون وجوازها للأجنبيين
-- باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے ان قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا کہا جو وارث نہیں ہوتے اور اجنبیوں کے لیے اس کے جواز کا قول کیا
حدیث نمبر: 12556
زَادَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ عَنِ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا وَلَّى رَضَخَ، وَإِذَا كَانَ فِي الْمَالِ قِلَّةٌ اعْتَذَرَ إِلَيْهِمْ. فَذَلِكَ الْقَوْلُ الْمَعْرُوفُ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أنا إِبْرَاهِيمُ، فَذَكَرَهُ.
ابراہیم بن ابی اللیث نے اشجعی سے (اس روایت میں) یہ اضافہ کیا ہے: جب ابن عباس رضی اللہ عنہما (ترکہ کی تقسیم کے) ذمہ دار ہوتے تو (حاضرین کو) تھوڑا سا دے دیتے اور جب مال کم ہوتا تو ان سے معذرت کر لیتے، یہی ”قول معروف“ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12556]
تخریج الحدیث: «موضوع»
الحكم على الحديث: موضوع
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12556 in Urdu