🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4158. -- باب: : الرجلان يتنازعان المال، وما يتنازعان في يد أحدهما
-- باب: دو آدمی کسی مال پر جھگڑیں اور متنازعہ مال ان میں سے کسی ایک کے قبضے میں ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q21210
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَهُوَ لِلَّذِي فِيُ يَدِهِ مَعَ يَمِينِهِ إِذَا لَمْ تَقُمْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ".
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: جب دونوں میں سے کسی کے پاس دلیل نہ ہو تو جس کے قبضہ میں ہے اس سے قسم لی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: Q21210]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21210
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِيُ يَدِي، أَزْرَعُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ:" أَلَكَ بَيِّنَةٌ"؟ قَالَ: لَا، قَالَ:" فَلَكَ يَمِينُهُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ رَجُلٌ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، ⦗٤٣٠⦘ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ"، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ، قَالَ: فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ عَلَى مَالٍ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَجَمَاعَةٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.
(٢١٢١٠) حضرت علقمہ بن وائل بن حجر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضر موت اور کندہ قبیلے کے دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے۔ ضرمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اس نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے۔ کندی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ میری زمین ہے، میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ہوں اور اس کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرمی سے کہا کہ آپ کے پاس دلیل ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرمی سے کہا کہ آپ کے پاس دلیل ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے اس کی جانب سے قسم ہے کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فاجر آدمی ہے اس کو قسم کی کیا پروا یہ کسی چیز سے نہیں بچتا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے یہی ہے۔ وہ آدمی قسم اٹھانے کے لیے چلا۔ جب وہ واپس مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس بندے نے قسم اٹھائی تاکہ وہ دوسرے کا ظلم کی وجہ سے مال کھا سکے تو کل وہ اللہ رب العزت سے ملاقات کرے گا تو اللہ اس سے منہ موڑنے والے ہوں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21210]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 139»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21210 in Urdu