مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ .
اس چیز (یعنی کلمہ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 62
وَعَنْ قُطْبَةَ بْنِ قَتَادَةَ السَّدُوسِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْسُطْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى نَفْسِي وَعَلَى ابْنَتِي الْحُوَيْصَلَةِ، وَلَوْ كَذَبْتُ عَلَى اللَّهِ لَخَدَعْتُكَ، قَالَ: وَحَمَلَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، [ فِي خَيْلِهِ ] فَقُلْنَا: إِنَّا مُسْلِمُونَ، فَتَرَكَنَا، وَغَزَوْنَا مَعَهُ الْأُبُلَّةَ، فَفَتَحَهَا، فَمَلَأْنَا أَيْدِيَنَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ وَهُوَ قَتَادَةُ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ قُطْبَةَ لَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ وَهُوَ قَتَادَةُ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ قُطْبَةَ لَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ.
سیدنا قطبہ بن قتادہ سدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اپنا دست مبارک آگے کیجیئے، تاکہ میں اپنی ذات اور اپنی بیٹی ”حویصلہ“ کے حوالے سے، آپ کی بیعت کر لوں، اور اگر میں اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کروں گا، تو میں آپ کو دھوکا دوں گا۔
سیدنا قطبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے شہسواروں کے ساتھ ہم پر حملہ کیا تھا، تو ہم نے کہا: ہم مسلمان ہیں، تو انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ ”ابلہ“ میں حصہ لیا تھا، انہیں فتح نصیب ہوئی، تو انہوں نے ہمارے ہاتھ (مال غنیمت کے ذریعے) بھر دیے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے، اور وہ قتادہ نامی شخص ہے، جس نے سیدنا قطبہ رضٰ اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا، جس نے اس راوی (قتادہ) کا ذکر کیا ہو۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 62]
سیدنا قطبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے شہسواروں کے ساتھ ہم پر حملہ کیا تھا، تو ہم نے کہا: ہم مسلمان ہیں، تو انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ ”ابلہ“ میں حصہ لیا تھا، انہیں فتح نصیب ہوئی، تو انہوں نے ہمارے ہاتھ (مال غنیمت کے ذریعے) بھر دیے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے، اور وہ قتادہ نامی شخص ہے، جس نے سیدنا قطبہ رضٰ اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا، جس نے اس راوی (قتادہ) کا ذکر کیا ہو۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 62]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 191/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 78/4»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
Majma al-Zawa'id Hadith 62 in Urdu