مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ .
اس چیز (یعنی کلمہ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 63
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذِيَابٍ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْتُ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ.
رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَسَمَّاهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ سَعِيدًا، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَفِي إِسْنَادِهِ مُنِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ أَيْضًا.
رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَسَمَّاهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ سَعِيدًا، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَفِي إِسْنَادِهِ مُنِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ أَيْضًا.
سیدنا سعد بن ابوزیاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے اسلام قبول کر لیا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری قوم کے افراد جن اموال (یعنی زمینوں) سمیت اسلام قبول کریں گے، آپ وہ (زمینیں) ان لوگوں کی ملکیت رہنے دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان لوگوں پر عامل مقرر کر دیا، نبي اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے عامل مقرر کیا، اور اُن کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے ہی عامل مقرر کیا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور دوسرے مقام پر، انہوں نے راوی کا نام ”سعید“ (بن ابوذیاب) نقل کیا ہے اور اپنی سند کے ساتھ، اس راوی کے حوالے سے یہی حدیث نقل کی ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
اس کی سند میں ایک راوی منیر بن عبداللہ ہے اور وہ مجہول ہے، ازدی نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 63]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور دوسرے مقام پر، انہوں نے راوی کا نام ”سعید“ (بن ابوذیاب) نقل کیا ہے اور اپنی سند کے ساتھ، اس راوی کے حوالے سے یہی حدیث نقل کی ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
اس کی سند میں ایک راوی منیر بن عبداللہ ہے اور وہ مجہول ہے، ازدی نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 63]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 79/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 52»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
Majma al-Zawa'id Hadith 63 in Urdu