سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابُ: رَضَاعِ الْكَبِيرِ
باب: بڑے کو دودھ پلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3321
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ نَافِعٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْضِعِيهِ" قُلْتُ:" إِنَّهُ لَذُو لِحْيَةٍ" فَقَالَ:" أَرْضِعِيهِ يَذْهَبْ مَا فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ" , قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُهُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ بَعْدُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! سالم جب میرے پاس آتے ہیں تو میں (اپنے شوہر) ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر (ناگواری) دیکھتی ہوں (اور ان کا آنا ناگزیر ہے) ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں دودھ پلا دو“، میں نے کہا: وہ تو ڈاڑھی والے ہیں، (بچہ تھوڑے ہیں)، آپ نے فرمایا: ”(پھر بھی) دودھ پلا دو، دودھ پلا دو گی تو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر جو تم (ناگواری) دیکھتی ہو وہ ختم ہو جائے گی“، سہلہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! دودھ پلا دینے کے بعد پھر میں نے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر کبھی کوئی ناگواری نہیں محسوس کی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3321]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سالم کے میرے پاس آنے جانے کی وجہ سے میں (اپنے خاوند) حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر کراہت کے آثار دیکھتی ہوں۔ (کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے دودھ پلا دے۔“ انہوں نے کہا: وہ تو داڑھی والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دے، اس سے ابو حذیفہ کے چہرے کی کراہت ختم ہو جائے گی۔“ وہ فرماتی ہیں: اس کے بعد میں نے کبھی حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر کراہت محسوس نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 7 (1453)، (تحفة الأشراف: 17841)، مسند احمد (6/174) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوحذیفہ سہلہ رضی الله عنہا کے شوہر تھے، انہوں نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب متبنی کے سلسلہ میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی تھی، پھر جب تبنی حرام قرار پایا تو ابوحذیفہ رضی الله عنہ کو یہ چیز ناپسند آئی کہ سالم ان کے گھر میں پہلے کی طرح آئیں، یہی وہ مشکل تھی جسے حل کرنے کے لیے سہلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3322
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ، قَالَ:" فَأَرْضِعِيهِ" قَالَتْ: وَكَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ، فَقَالَ:" أَلَسْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ" ثُمَّ جَاءَتْ بَعْدُ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ بَعْدُ شَيْئًا أَكْرَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور کہا: میں سالم کے اپنے پاس آنے جانے سے (اپنے شوہر) ابوحذیفہ کے چہرے میں کچھ (تبدیلی و ناگواری) دیکھتی ہوں، آپ نے فرمایا: ”تم انہیں اپنا دودھ پلا دو“، انہوں نے کہا: میں انہیں کیسے دودھ پلا دوں وہ تو بڑے (عمر والے) آدمی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ بڑی عمر کے ہیں“، اس کے بعد وہ (دودھ پلا کر پھر ایک دن) آئیں اور کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو نبی بنا کر حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس کے بعد ابوحذیفہ کے چہرے پر کوئی ناگواری کی چیز نہیں دیکھی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3322]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں سالم کے اپنے پاس آنے جانے کی وجہ سے اپنے خاوند ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر کراہت کے آثار محسوس کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دے۔“ وہ کہنے لگی: اسے کیسے دودھ پلاؤں؟ وہ تو پورا آدمی ہے؟ پھر وہ بعد میں آئی اور کہنے لگی: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق نبی بنا دیا! میں نے اس کے بعد ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے میں ذرا بھر بھی کراہت محسوس نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 7 (1453)، سنن النسائی/النکاح 36 (1943)، (تحفة الأشراف: 17484)، مسند احمد (6/38) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3323
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْوَزِيرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى، وَرَبِيعَةُ , عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ حَتَّى تَذْهَبَ غَيْرَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَأَرْضَعَتْهُ وَهُوَ رَجُلٌ، قَالَ رَبِيعَةُ: فَكَانَتْ رُخْصَةً لِسَالِمٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوحذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ تم ابوحذیفہ کے غلام سالم کو دودھ پلا دو تاکہ ابوحذیفہ کی غیرت (ناگواری) ختم ہو جائے۔ تو انہوں نے انہیں دودھ پلا دیا اور وہ (بچے نہیں) پورے مرد تھے۔ ربیعہ (اس حدیث کے راوی) کہتے ہیں: یہ رخصت صرف سالم کے لیے تھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3323]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کو حکم دیا تھا کہ ”وہ سالم مولیٰ ابو حذیفہ کو دودھ پلا دے تاکہ ابو حذیفہ کی غیرت (اس کے آنے جانے پر) نہ بھڑکے۔“ انہوں نے اسے دودھ پلا دیا، حالانکہ وہ پورا مرد تھا۔ ربیعہ راوی نے کہا: یہ (رخصت) حضرت سالم رضی اللہ عنہ کے لیے تھی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17452)، مسند احمد (6/249) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کسی دوسرے بڑے شخص کو دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہو گی، جمہور کی رائے یہی ہے کہ یہ سالم کے ساتھ خاص تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3324
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَقَدْ عَقَلَ مَا يَعْقِلُ الرِّجَالُ، وَعَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ، قَالَ:" أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ بِذَلِكَ"، فَمَكَثْتُ حَوْلًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ وَلَقِيتُ الْقَاسِمَ، فَقَالَ: حَدِّثْ بِهِ وَلَا تَهَابُهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کہا: اللہ کے رسول! سالم ہمارے پاس آتا جاتا ہے (اب وہ بڑا ہو گیا ہے) جو باتیں لوگ سمجھتے ہیں وہ بھی سمجھتا ہے اور جو باتیں لوگ جانتے ہیں وہ بھی جان گیا ہے (اور اس کا آنا جانا بھی ضروری ہے) آپ نے فرمایا: ”تو اسے اپنا دودھ پلا دے تو اپنے اس عمل سے اس کے لیے حرام ہو جائے گی“۔ ابن ابی ملیکہ (اس حدیث کے راوی) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو سال بھر کسی سے بیان نہیں کیا، پھر میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی (اور اس کا ذکر آیا) تو انہوں نے کہا: اس حدیث کو بیان کرو اور اس کے بیان کرنے میں (شرماؤ) اور ڈرو نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3324]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! سالم ہمارے ہاں (بلا روک ٹوک) آتا جاتا رہتا ہے لیکن اب وہ مردوں کی طرح (جنسی معاملات) سمجھنے لگا ہے اور ان باتوں کو جاننے لگا ہے جنہیں مرد سمجھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے دودھ پلا دے، پھر اس وجہ سے تو اس کے لیے حرام ہو جائے گی۔“ (راویِ حدیث ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے کہا:) میں ایک برس ٹھہرا رہا، یہ حدیث بیان نہیں کرتا تھا۔ میں قاسم رحمہ اللہ سے ملا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث بیان کیا کرو اور کسی سے بھی نہ ڈرو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 7 (1453)، (تحفة الأشراف: 17464)، مسند احمد (6/201) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3325
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَانَ مَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَأَهْلِهِ فِي بَيْتِهِمْ، فَأَتَتْ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَالِمًا قَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ، وَعَقَلَ مَا عَقَلُوهُ، وَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَإِنِّي أَظُنُّ فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ"، فَأَرْضَعْتُهُ، فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُهُ، فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ابوحذیفہ اور ان کی بیوی (بچوں) کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے۔ تو سہیل کی بیٹی (سہلہ ابوحذیفہ کی بیوی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور کہا کہ سالم لوگوں کی طرح جوان ہو گیا ہے اور اسے لوگوں کی طرح ہر چیز کی سمجھ آ گئی ہے اور وہ ہمارے پاس آتا جاتا ہے اور میں اس کی وجہ سے ابوحذیفہ کے دل میں کچھ (کھٹک) محسوس کرتی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے دودھ پلا دو، تو تم اس پر حرام ہو جاؤ گی“ تو انہوں نے اسے دودھ پلا دیا، چنانچہ ابوحذیفہ کے دل میں جو (خدشہ) تھا وہ دور ہو گیا، پھر وہ لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (دوبارہ) آئیں اور (آپ سے) کہا: میں نے (آپ کے مشورہ کے مطابق) اسے دودھ پلا دیا، اور میرے دودھ پلا دینے سے ابوحذیفہ کے دل میں جو چیز تھی یعنی کبیدگی اور ناگواری وہ ختم ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3325]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ (متبنیٰ ہونے کی وجہ سے) حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے ساتھ ان کے گھر میں ہی رہتا تھا، پھر (ابوحذیفہ کی بیوی سہلہ) بنت سہیل رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: سالم اب پورا مرد بن گیا ہے اور وہ مردوں والی (مخصوص) باتیں سمجھنے لگا ہے، وہ ہمارے پاس (اب بھی اسی طرح) آتا جاتا ہے، میں اس کی وجہ سے حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل میں کچھ کراہت محسوس کرتی ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے دودھ پلا دے، تو اس پر حرام ہو جائے گی۔“ (وہ کہتی ہیں:) میں نے اسے دودھ پلایا، اس طرح حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل کی کراہت ختم ہو گئی، میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں نے اسے دودھ پلا دیا تھا، اس طرح ابوحذیفہ کے دل کی ناگواری ختم ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3326
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَمَالِكٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ:" أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضْعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُرِيدُ رَضَاعَةَ الْكَبِيرِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللَّهِ مَا نُرَى الَّذِي أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلَّا رُخْصَةً فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضْعَةِ وَلَا يَرَانَا".
زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبھی ازواج مطہرات ۱؎ نے اس بات سے انکار کیا کہ کوئی ان کے پاس اس رضاعت کا سہارا لے کر (گھر کے اندر) آئے، مراد اس سے بڑے کی رضاعت ہے اور سب نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: قسم اللہ کی! ہم سمجھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہلہ بنت سہیل کو (سالم کو دودھ پلانے کا) جو حکم دیا ہے وہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے سالم کی رضاعت کے سلسلہ میں خاص تھا۔ قسم اللہ کی! اس رضاعت کے ذریعہ کوئی شخص ہمارے پاس آ نہیں سکتا اور نہ ہمیں دیکھ سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3326]
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ تمام ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے منکر تھیں کہ لوگوں میں سے کوئی شخص اس قسم، یعنی بڑی عمر کی رضاعت کے رشتے سے ان کے پاس آئے جائے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی کہا تھا کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو دیا تھا، وہ صرف سالم رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھا اور وہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خصوصی رخصت تھی۔ اللہ کی قسم! اس قسم کی رضاعت کے رشتے سے کوئی شخص نہ ہمارے گھر آ سکتا ہے اور نہ ہمیں بے حجاب دیکھ سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «النکاح 10 (2061) مطولا، (تحفة الأشراف: 18377) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عائشہ رضی الله عنہا کے علاوہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3327
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ تَقُولُ:" أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخَلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللَّهِ مَا نُرَى هَذِهِ إِلَّا رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِسَالِمٍ، فَلَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا يَرَانَا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی تھیں کہ سبھی ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس رضاعت (یعنی بڑے کی رضاعت) کو دلیل بنا کر ان کے پاس (یعنی کسی بھی عورت کے پاس) جایا جائے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: قسم اللہ کی! ہم اس رخصت کو عام رخصت نہیں سمجھتے، یہ رخصت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص سالم کے لیے دی تھی، اس رضاعت کو دلیل بنا کر ہم عورتوں کے پاس کوئی آ جا نہیں سکتا اور نہ ہی ہم عورتوں کو دیکھ سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3327]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ فرمایا کرتی تھیں کہ باقی تمام ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی قائل نہ تھیں کہ کوئی شخص اس قسم کی رضاعت کے ساتھ ان کے پاس آئے جائے، بلکہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی کہا تھا: اللہ کی قسم! ہم تو اسے ایسی رخصت سمجھتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر سالم رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائی تھی، لہٰذا کوئی شخص اس جیسی رضاعت کے رشتے سے ہمارے ہاں نہ آئے جائے اور نہ ہمیں دیکھے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 7 (1454)، سنن ابن ماجہ/النکاح 37 (1947)، (تحفة الأشراف: 18274)، مسند احمد (6/312) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم