🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

68. بَابُ: إِبَاحَةِ التَّزَوُّجِ بِغَيْرِ صَدَاقٍ
باب: بغیر مہر کے نکاح کے جواز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3356
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ , قَالَا: أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا، فَتُوُفِّيَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَلُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيهَا أَثَرًا , قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مَا نَجِدُ فِيهَا، يَعْنِي أَثَرًا، قَالَ: أَقُولُ بِرَأْيِي , فَإِنْ كَانَ صَوَابًا، فَمِنَ اللَّهِ: لَهَا كَمَهْرِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَقَامَ رَجُلٌ مَنْ أَشْجَعَ، فَقَالَ: فِي مِثْلِ هَذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا فِي امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا بَرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ تَزَوَّجَتْ رَجُلًا، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا،" فَقَضَى لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ صَدَاقِ نِسَائِهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ"، فَرَفَعَ عَبْدُ اللَّهِ يَدَيْهِ، وَكَبَّرَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الْأَسْوَدُ غَيْرَ زَائِدَةَ.
علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا جس نے ایک عورت سے شادی تو کی لیکن اس کا مہر متعین نہ کیا اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں کے سامنے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں) ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے کہا: عبداللہ! ہم کوئی ایسی نظیر نہیں پاتے۔ تو انہوں نے کہا: میں اپنی عقل و رائے سے کہتا ہوں اگر درست ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ اسے مہر مثل دیا جائے گا ۱؎، نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث میں اس کا حق و حصہ دیا جائے گا اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی۔ (یہ سن کر) اشجع (قبیلے کا) ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ہمارے یہاں کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا، اس عورت نے ایک شخص سے نکاح کیا، وہ شخص اس کے پاس (خلوت میں) جانے سے پہلے مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاندان کی عورتوں کی مہر کے مطابق اس کی مہر کا فیصلہ کیا اور (بتایا کہ) اسے میراث بھی ملے گی اور عدت بھی گزارے گی۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے (اور خوش ہو کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کا فیصلہ صحیح ہوا) اور اللہ اکبر کہا (یعنی اللہ کی بڑائی بیان کی)۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اسود کا ذکر زائدہ کے سوا کسی نے نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3356]
حضرت علقمہ اور اسود رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کسی عورت سے نکاح کیا مگر مہر مقرر نہ کیا، نیز وہ بیوی کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں سے پوچھو کیا اس بارے میں کوئی فرمانِ رسول موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! ہم اس بارے میں کوئی فرمان نہیں پاتے۔ انہوں نے فرمایا: (اب) میں اپنی رائے سے بات کرتا ہوں، اگر میری بات درست ہے تو اللہ کی طرف سے ہو گی، (میری رائے یہ ہے کہ) اس عورت کو اس جیسی دوسری عورتوں کے مطابق مہر ملے گا (یعنی مہر مثل) نہ کم نہ زیادہ، اسے وراثت بھی ملے گی اور اسے عدتِ وفات بھی گزارنی ہو گی۔ اتنے میں اشجع قبیلے کا آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: ہمارے قبیلے کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا، اس عورت نے ایک آدمی سے نکاح کیا تھا اور وہ اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ: عورت کو اس جیسی دوسری عورتوں کے مطابق مہر ملے گا، اسے وراثت بھی ملے گی اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (بطور تشکر و خوشی) اپنے ہاتھ اٹھائے اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ زائدہ کے علاوہ کسی اور راوی نے اس حدیث میں اسود کا ذکر کیا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 32 (2114، 2115) مختصراً، سنن الترمذی/النکاح 43 (1145)، سنن ابن ماجہ/النکاح 18 (1891)، (تحفة الأشراف: 11461)، مسند احمد (3/480، 4/280، 479)، سنن الدارمی/النکاح 47 (2292)، ویأتی عند المؤلف فیما بعد: 3357-3360 و فی الطلاق57 (برقم3554) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کے کنبے اور قبیلے کی عورتوں کا جو مہر ہوتا ہے اسی اعتبار سے اس کا مہر بھی مقرر کر کے دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3357
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ قَرِيبًا مِنْ شَهْرٍ لَا يُفْتِيهِمْ، ثُمَّ قَالَ: أَرَى لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ، وَلَا شَطَطَ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَشَهِدَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ".
علقمہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے سامنے ایک ایسی عورت کا معاملہ پیش کیا گیا جس سے ایک شخص نے شادی کی اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا، اور اس کی مہر بھی متعین نہ کی تھی (تو اس کے بارے میں کیا فیصلہ ہو گا؟) لوگ ان کے پاس اس مسئلہ کو پوچھنے کے لیے تقریباً مہینہ بھر سے آتے جاتے رہے، مگر وہ انہیں فتویٰ نہ دیتے۔ پھر ایک دن فرمایا: میری سمجھ میں آتا ہے کہ اس عورت کا مہر اسی کے گھر و خاندان کی عورتوں جیسا ہو گا، نہ کم ہو گا، اور نہ ہی زیادہ، اسے میراث بھی ملے گی اور اسے عدت میں بھی بیٹھنا ہو گا، (یہ سن کر) معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں ایسا ہی فیصلہ دیا تھا جیسا آپ نے دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3357]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس سے آدمی نے نکاح کیا اور وہ مر گیا، ابھی تک نہ تو اس نے مہر مقرر کیا تھا اور نہ اس سے جماع ہی کیا تھا۔ وہ لوگ تقریباً ایک ماہ تک آتے رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہیں کوئی فتویٰ نہیں دے رہے تھے۔ آخر کار فرمایا: میرا خیال ہے کہ اسے اس جیسی عورتوں کے مطابق مہر ملے گا، نہ کم نہ زیادہ، اسے (خاوند سے) وراثت بھی ملے گی اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی۔ تو حضرت معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں آپ کے فیصلے جیسا فیصلہ فرمایا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انطر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3358
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَمَاتَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا، قَالَ: لَهَا الصَّدَاقُ , وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ , وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَالَ مَعِقْلُ بْنُ سِنَانٍ: فقد سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِهِ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ،
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے ایک عورت سے شادی کی پھر مر گیا نہ اس سے خلوت کی تھی اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا تھا۔ تو اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا: اس عورت کا مہر (مہر مثل) ہو گا۔ اسے عدت گزارنی ہو گی اور اسے میراث ملے گی۔ (یہ سن کر) معقل بن سنان نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بروع بنت واشق کے معاملہ میں ایسا ہی فیصلہ کرتے سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3358]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کے بارے میں، جس نے ایک عورت سے نکاح کیا اور وہ فوت ہو گیا جب کہ اس نے اس سے نہ جماع کیا تھا اور نہ اس کا مہر ہی مقرر کیا تھا، فرمایا: عورت کو مہرِ مثل ملے گا، اسے عدت گزارنی پڑے گی اور اسے وراثت بھی ملے گی۔ حضرت معقل بن سنان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں ایسا ہی فیصلہ فرماتے سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3356 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3359
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , مِثْلَهُ.
علقمہ نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3359]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسا ہی واقعہ بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3356 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3360
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَتَاهُ قَوْمٌ , فَقَالُوا: إِنَّ رَجُلًا مِنَّا تَزَوَّجَ امْرَأَةً، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَجْمَعْهَا إِلَيْهِ حَتَّى مَاتَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا سُئِلْتُ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ فَأْتُوا غَيْرِي، فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ فِيهَا شَهْرًا، ثُمَّ قَالُوا لَهُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: مَنْ نَسْأَلُ إِنْ لَمْ نَسْأَلْكَ وَأَنْتَ مِنْ جِلَّةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْبَلَدِ وَلَا نَجِدُ غَيْرَكَ؟ قَالَ: سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا، فَمِنَ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بُرَآءُ،" أُرَى أَنْ أَجْعَلَ لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ، وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَ: وَذَلِكَ بِسَمْعِ أُنَاسٍ مَنْ أَشْجَعَ فَقَامُوا، فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّكَ قَضَيْتَ بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا بَرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ" , قَالَ: فَمَا رُئِيَ عَبْدُ اللَّهِ فَرِحَ فَرْحَةً يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِإِسْلَامِهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے شادی کی، نہ اس کا مہر مقرر کیا، نہ اس سے خلوت کی اور مر گیا (اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟)، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑا ہے (یعنی آپ کے انتقال کے بعد) اس سے زیادہ ٹیڑھا اور مشکل سوال مجھ سے نہیں کیا گیا ہے۔ تو تم لوگ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ (اور اس سے فتویٰ پوچھ لو)، لیکن وہ لوگ اس مسئلہ کے سلسلے میں مہینہ بھر ان کا پیچھا کرتے رہے بالآخر انہوں نے ان سے کہا: اگر آپ سے نہ پوچھیں تو پھر کس سے پوچھیں! آپ اس شہر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے اور جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں، آپ کے سوا ہم کسی اور کو نہیں پاتے۔ انہوں نے کہا: (جب ایسی بات ہے) تو میں اپنی عقل و رائے سے اس بارے میں بتاتا ہوں، اگر میری بات درست ہو تو سمجھو یہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہو تو سمجھو کہ وہ میری اور شیطان کی جانب سے ہے، اللہ اور اس کے رسول اس سے بری ہیں، میں اس کے لیے مہر مثل کا فتویٰ دیتا ہوں نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث ملے گی اور وہ چار مہینہ دس دن کی عدت گزارے گی۔ یہ مسئلہ اشجع قبیلہ کے چند لوگوں نے سنا تو کھڑے ہو کر کہنے لگے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے ویسا ہی فیصلہ کیا ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری قوم کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں کیا تھا۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (اپنا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق ہو جانے کے باعث) اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ اسلام لانے کے وقت کی خوشی کے سوا اس سے زیادہ خوش کبھی نہ دیکھے گئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3360]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے کہ ہم میں سے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی، ابھی اس نے مہر مقرر نہ کیا تھا اور نہ اس سے صحبت ہی کی تھی کہ وہ فوت ہو گیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں، مجھ سے اس سے مشکل مسئلہ نہیں پوچھا گیا۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ وہ لوگ ایک ماہ تک اس کی بابت آپ کے پاس آتے رہے۔ آخر وہ کہنے لگے: اگر ہم آپ سے نہ پوچھیں تو اور کس سے پوچھیں؟ اس شہر میں آپ ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ کے علاوہ ہمیں کوئی اور شخص نہیں ملتا۔ آپ فرمانے لگے: میں اس کے متعلق انتہائی سوچ بچار سے فتویٰ دیتا ہوں۔ اگر صحیح اور درست ہوا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور اگر وہ غلط ہوا تو اس میں کوتاہی میری ہوگی اور خرابی شیطان کی طرف سے، اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس سے بری ہوں گے۔ میرا خیال یہ ہے کہ میں اس کے لیے اس جیسی عورتوں کے مطابق مہر مقرر کروں، نہ کم نہ زیادہ، اسے وراثت بھی ملے گی اور اسے چار ماہ دس دن عدت بھی گزارنی ہو گی۔ اشجع قبیلے کے کچھ لوگ بھی یہ فتویٰ سن رہے تھے۔ انہوں نے اٹھ کر گواہی دی کہ بلاشبہ آپ نے وہی فیصلہ کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے متعلق کیا تھا۔ ہمارے دیکھنے میں نہیں آیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اسلام کے علاوہ کسی اور بات پر اتنے خوش ہوئے ہوں جتنے اس دن خوش ہوئے (کہ میرا فتویٰ حدیثِ رسول کے مطابق ہو گیا)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3356 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں