🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابُ: تَحْرِيمِ الْقَتْلِ
باب: قتل کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4121
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ، قَالَ: سَمِعْتُ رِبْعِيًّا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَشَارَ الْمُسْلِمُ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بِالسِّلَاحِ , فَهُمَا عَلَى جُرُفِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا قَتَلَهُ خَرَّا جَمِيعًا فِيهَا".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی پر ہتھیار اٹھائے (اور دونوں جھگڑنے کے ارادے سے ہوں) تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہیں، جب ایک دوسرے کو قتل کرے گا تو دونوں ہی اس میں جا گریں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4121]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے بھائی کی طرف اسلحے کے ساتھ اشارہ کرے (ایک مسلمان دوسرے پر ہتھیار اٹھا لے اور دوسرا بھی اٹھا لے) تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں۔ اور جب ایک، دوسرے کو قتل کر دے تو دونوں اکٹھے جہنم میں گر پڑتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الفتن 10 (7083 تعلیقًا)، صحیح مسلم/الفتن 4 (2888)، سنن ابن ماجہ/الفتن 11 (3965)، (تحفة الأشراف: 11672)، مسند احمد (5/41) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کے قتل کے درپے تھے، ایک کامیاب ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4122
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ:" إِذَا حَمَلَ الرَّجُلَانِ الْمُسْلِمَانِ السِّلَاحَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ , فَهُمَا عَلَى جُرُفِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَهُمَا فِي النَّارِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہیں، پھر جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرے گا تو وہ دونوں جہنم میں ہوں گے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4122]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: جب دو مسلمان ایک دوسرے پر اسلحے کے ساتھ حملہ کریں، وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں۔ پھر جب ان میں سے کوئی ایک، دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو دونوں آگ میں جاتے ہیں۔ (قاتل تو مسلمان کو قتل کرنے کی وجہ سے اور مقتول اس لیے کہ اس کی نیت بھی مسلمان کو قتل کرنے ہی کی تھی)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4123
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا , فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَهُمَا فِي النَّارِ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ:" أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں اور ان میں ایک دوسرے کو قتل کر دے تو وہ دونوں جہنم میں ہوں گے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہے، لیکن مقتول کا قصور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے اپنے (مقابل) ساتھی کو مارنا چاہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4123]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابل آ جائیں، پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! قاتل کا جہنم میں جانا تو سمجھ میں آتا ہے مگر مقتول کے جہنم میں جانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ارادہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الفتن 11 (3964)، (تحفة الأشراف: 8984)، مسند احمد (4/401، 403، 410، 418) ویأتي عند المؤلف فیما یلي وبرقم4129 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4124
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا , فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ , فَهُمَا فِي النَّارِ". مِثْلَهُ سَوَاءً.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں، پھر ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو قتل کر دے تو وہ دونوں جہنم میں ہوں گے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4124]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابل آ جائیں، پھر ان میں سے کوئی دوسرے کو قتل کر دے تو وہ دونوں آگ میں جائیں گے۔ یہ روایت بھی بالکل پہلی روایت کی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4125
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُرِيدُ قَتْلَ صَاحِبِهِ , فَهُمَا فِي النَّارِ". قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟، قَالَ:" إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں، ان میں سے ہر ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتا ہو، تو وہ دونوں جہنم میں ہوں گے۔ آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہے لیکن مقتول کا کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا حریص اور خواہشمند تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4125]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر آمنے سامنے آ جائیں جبکہ ان میں سے ہر ایک، دوسرے کو قتل کرنا چاہتا ہو (پھر خواہ کوئی کسی کو قتل کر دے) تو دونوں آگ میں جائیں گے۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! قاتل تو ٹھیک ہے مگر مقتول کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے پر حریص تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11666)، مسند احمد 5/46، 51، یأتي فیما یلي: 4126 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4126
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ بھڑ جائیں پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل و مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4126]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان تلواریں لے کر مقابلہ کرنے لگیں، پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4127
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ , فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟، قَالَ:" إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہے آخر مقتول کا کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے بھی اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4127]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب دو مسلمان اپنی تلواریں (یا کوئی بھی اسلحہ) لے کر آمنے سامنے آ جائیں، پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔ صحابہ نے عرض کی: قاتل تو جہنم میں جائے مگر مقتول کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے بھی تو اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4127]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 22 (31)، الدیات 2 (6875)، الفتن 10 (7082)، صحیح مسلم/الفتن 4 (2888)، سنن ابی داود/الفتن 5 (4268، 4269)، (تحفة الأشراف: 11655)، مسند احمد (5/43، 51) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4128
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَالْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ بھڑ جائیں پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4128]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑنے لگیں، پھر ان میں سے ایک دوسرے کو مار دے تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4129
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا , فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ". قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ , فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟، قَالَ:" إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے، ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہے لیکن مقتول کا کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے بھی اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4129]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان تلواروں سے مسلح ہو کر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جائیں (اور لڑنے لگیں)، پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے (یا دونوں ایک دوسرے کو قتل کر دیں) تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! قاتل کا جہنم میں جانا تو صحیح ہے مگر مقتول کیوں آگ میں جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ارادہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے ہی کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4123 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4130
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا ۱؎ کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4130]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگو۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 77 (4402)، الأدب 95 (6043)، الحدود 9 (6785)، الدیات 2 (6868)، الفتن 8 (7077)، صحیح مسلم/الإیمان 29 (66، 4403)، سنن ابی داود/السنة 16 (4686)، سنن ابن ماجہ/الفتن5(3943)، (تحفة الأشراف: 7418) مسند احمد (2/85، 87، 104) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کافروں کی طرح نہ ہو جانا کہ کفریہ اعمال کرنے لگو، جیسے ایک دوسرے کو ناحق قتل کرنا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں