🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى خَالِدٍ الْحَذَّاءِ
باب: تلامذہ خالدالحذاء کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4797
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! جو شخص قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے، یا ڈنڈے سے مر جائے تو اس کی دیت سو اونٹ ہے، جن میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4797]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ رہو! جو شخص شبہ عمد والی صورت میں غلطی سے مارا جائے، مثلاً: کوڑے اور ڈنڈے وغیرہ سے، اس کی دیت سو اونٹ ہے جن میں سے چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4797]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 19 (4547، 4548)، سنن ابن ماجہ/الدیات 5 (2627)، (تحفة الأشراف: 8889، 19100)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4798-4802، 4804) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4798
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ:" أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ، بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ فِيهَا أَرْبَعُونَ ثَنِيَّةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌ".
ایک صحابی سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اور فرمایا: سنو! قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے، ڈنڈے اور پتھر سے مرنے والے کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس «ثنی» سے لے کر «بازلت» ہوں (یعنی چھ برس سے نو برس تک کی ہوں) اور سب بوجھ لادنے کے لائق ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4798]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا۔ (اس میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ رہو! شبہ عمد کی صورت میں کوڑے، ڈنڈے یا پتھر کے ساتھ غلطی سے مارے جانے والے شخص کی دیت سو اونٹ ہے جن میں سے چالیس ثنیہ سے بازل عام تک ہوں اور ان میں سے ہر ایک حاملہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4798]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4799
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ قَتِيلَ السَّوْطِ , وَالْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ أَرْبَعُونَ مِنْهَا فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
عقبہ بن اوس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! جو قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے یا ڈنڈے سے مر جائے تو اس کی دیت مغلظہ سو اونٹ ہے، ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4799]
حضرت عقبہ بن اوس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوڑے یا ڈنڈے سونٹے کے ساتھ غلطی سے مارا جائے، اس کی دیت «مُغَلَّظَہ»، یعنی سخت ہو گی، سو اونٹ جن میں سے چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4799]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4497 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ اس میں صحابی کا ذکر نہیں ہے، مگر دوسری سند سے متصل مرفوع ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4800
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ كُلَّ قَتِيلِ خَطَإِ الْعَمْدِ أَوْ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلِ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا، أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
ایک صحابی رسول (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا: سنو! ہر مقتول خواہ غلطی سے مارا گیا ہو یا شبہ عمد کے طور پر ہو، وہ کوڑے یا ڈنڈے سے قتل کیے گئے شخص کی طرح ہے (یعنی اس کی دیت بھی وہی ہے جو اس کی ہے) اس میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4800]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا: آگاہ رہو! جو شخص غلطی سے شبہ عمد کی صورت میں مارا جائے کوڑے اور ڈنڈے سونٹے کے ساتھ تو اس کی دیت کے اونٹوں میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4800]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4497 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4801
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
ایک صحابی رسول (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب مکہ آئے تو فرمایا: سنو! خطا سے مقتول ہونے والا کوڑے اور ڈنڈے سے مر جانے والے کی طرح ہے (یعنی اس کی دیت بھی وہی ہے) ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4801]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: آگاہ رہو! جو مقتول شبہ عمد کی صورت میں غلطی سے کوڑے یا ڈنڈے سونٹے سے مارا جائے، اس کی دیت کے اونٹوں میں سے چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4801]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4497 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4802
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
ایک صحابی رسول (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا: خطا سے مقتول ہونے والا، کوڑے اور ڈنڈے سے مقتول ہونے والے کی طرح ہے، ان میں چالیس ایسی اونٹنیاں ہوں جو حاملہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4802]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو شخص شبہ عمد کی صورت میں کوڑے یا سونٹے کے ساتھ غلطی سے قتل ہو جائے، اس کی دیت میں سے چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4497 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4803
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُدْعَانَ سَمِعَهُ مِن الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَة، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ , عَلَى دَرَجَةِ الْكَعْبَةِ , فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ , وَنَصَرَ عَبْدَهُ , وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَإِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا شِبْهِ الْعَمْدِ فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبے کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: شکر ہے اس اللہ کا جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، جماعتوں کو اکیلے ہی شکست دی، سنو! کوڑے اور ڈنڈے سے غلطی سے مر جانے والا شبہ عمد کی طرح ہے، اس میں بھی دیت مغلظہ سو اونٹ ہے، ان میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4803]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتحِ مکہ کے دن کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور اپنے بندے (محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مدد فرمائی، نیز اس اکیلے نے کفار کی تمام جماعتوں کو شکست سے دوچار کیا۔ سنو! جو شخص شبہِ عمد کی صورت میں کوڑے یا سونٹے کے ساتھ خطاً مارا جائے، اس کی دیت سخت ہوگی، (یعنی ایسے) سو اونٹ جن میں سے چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 19 (4549)، سنن ابن ماجہ/الدیات 5 (2628)، (تحفة الأشراف: 7372) (صحیح) (اس کے راوی ”علی بن زید بن جدعان“ ضعیف ہیں، لیکن پچھلی سن دوں سے یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4539) ابن ماجه (2628) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4804
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْخَطَأُ شِبْهُ الْعَمْدِ يَعْنِي بِالْعَصَا , وَالسَّوْطِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
قاسم بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ڈنڈے یا کوڑے سے غلطی سے قتل ہو جانا شبہ عمد کی طرح ہے، اس میں سو اونٹ کی دیت ہو گی جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4804]
قاسم بن ربیعہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتلِ خطا شبہِ عمد کی صورت میں، یعنی جو کوڑے یا سونٹے کے ساتھ ہو، اس میں دیت سو اونٹ ہے جن میں سے چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4804]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4797 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، مگر پچھلی روایتیں متصل مرفوع ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4805
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ"، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ , وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ إِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا , وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا عَلَى نَحْوِ الزَّمَانِ مَا كَانَ , فَبَلَغَ قِيمَتُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الْأَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلِهَا مِنَ الْوَرِقِ، قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الْبَقَرِ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَمَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الشَّاةِ أَلْفَيْ شَاةٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى فَرَائِضِهِمْ فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَةِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ يَعْقِلَ عَلَى الْمَرْأَةِ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا , وَلَا يَرِثُونَ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا , وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا , وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص خطا (غلطی) سے مارا جائے اس کی دیت سو اونٹ ہے: تیس اونٹنیاں ہیں جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں، اور آپ نے گاؤں والوں پر دیت کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت (کی مالیت) بھی زیادہ ہوتی اور جب سستے ہوتے تو دیت بھی کم ہو جاتی، چنانچہ آپ کے زمانے میں دیت کی قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک پہنچ گئی یا اسی کے برابر چاندی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فیصلہ فرمایا: گائے والوں سے دو سو گائیں اور بکری والوں سے دو ہزار بکریاں (دیت میں) لی جائیں، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: دیت مقتول کے ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق ترکہ ہے، پھر جو بچ رہے وہ عصبہ کے اوپر ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کی طرف سے اس کی دیت اس کے عصبہ ادا کریں گے جو بھی ہوں، لیکن وہ (ملنے والی) دیت میں کسی چیز کے وارث نہیں ہوں گے سوائے اس کے جو بچ رہے، اور اگر عورت مقتول ہو تو اس کی دیت اس کے ورثاء میں تقسیم ہو گی اور وہ اس کے قاتل کو قتل کریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4805]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص خطا (غلطی سے) مارا جائے، اس کی دیت سو اونٹ ہے۔ تیس «بِنْتُ مَخَاضٍ» (ایک سالہ اونٹنی)، تیس «بِنْتُ لَبُونٍ» (دو سالہ اونٹنی)، تیس «حِقَّةٌ» (تین سالہ اونٹنی) اور دس «اِبْنُ لَبُونٍ» (ایک سالہ مذکر)۔ انہوں (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بستیوں (گاؤں) میں رہنے والے لوگوں پر اس دیت کی قیمت چار سو دینار یا اس کے برابر چاندی مقرر فرماتے تھے اور اونٹوں والوں پر ان کی قیمت وقت کے لحاظ سے عائد فرماتے تھے۔ جب اونٹ مہنگے ہوتے تو قیمت بڑھا دیتے اور اگر سستے ہو جاتے تو قیمت کم لگاتے، جو بھی ہوتی۔ آپ کے دور مبارک میں یہ قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک رہی یا اس کے برابر چاندی تھی۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ جو شخص گایوں سے دیت دینا چاہے تو گایوں والوں پر دیت دو سو گائے ہو گی اور جو شخص بکریوں سے دینا چاہے تو دیت دو ہزار بکریاں ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ دیت بھی وراثت کی طرح مقتول کے ورثاء میں تقسیم ہو گی، ان کو ان کے مقررہ حصوں کے مطابق دی جائے گی۔ اگر کوئی مال بچ جائے تو وہ مقتول کے عصبہ کو ملے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ عورت کی طرف سے دیت تو اس کے عصبہ بھریں گے، جو بھی ہوں، لیکن وہ اس کی وراثت سے کچھ حاصل نہیں کریں گے الا یہ کہ ورثاء کو ان کے مقررہ حصوں کی ادائیگی کے بعد کچھ بچ جائے (تو وہ بطور عصبہ ان کو ملے گا)۔ اور اگر کوئی عورت قتل کر دی جائے تو اس کی دیت ورثاء میں تقسیم ہو گی اور وہی قاتل کو قتل کریں گے (اگر وہ معاف نہ کریں)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4805]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 18 (4541)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2630)، (تحفة الأشراف: 8709، 8710)، مسند احمد (2/183، 217، 224) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں