🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب : ذكر الاختلاف على خالد الحذاء
باب: تلامذہ خالدالحذاء کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4805
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ"، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ , وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ إِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا , وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا عَلَى نَحْوِ الزَّمَانِ مَا كَانَ , فَبَلَغَ قِيمَتُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الْأَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلِهَا مِنَ الْوَرِقِ، قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الْبَقَرِ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَمَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الشَّاةِ أَلْفَيْ شَاةٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى فَرَائِضِهِمْ فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَةِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ يَعْقِلَ عَلَى الْمَرْأَةِ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا , وَلَا يَرِثُونَ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا , وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا , وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص خطا (غلطی) سے مارا جائے اس کی دیت سو اونٹ ہے: تیس اونٹنیاں ہیں جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں، اور آپ نے گاؤں والوں پر دیت کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت (کی مالیت) بھی زیادہ ہوتی اور جب سستے ہوتے تو دیت بھی کم ہو جاتی، چنانچہ آپ کے زمانے میں دیت کی قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک پہنچ گئی یا اسی کے برابر چاندی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فیصلہ فرمایا: گائے والوں سے دو سو گائیں اور بکری والوں سے دو ہزار بکریاں (دیت میں) لی جائیں، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: دیت مقتول کے ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق ترکہ ہے، پھر جو بچ رہے وہ عصبہ کے اوپر ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کی طرف سے اس کی دیت اس کے عصبہ ادا کریں گے جو بھی ہوں، لیکن وہ (ملنے والی) دیت میں کسی چیز کے وارث نہیں ہوں گے سوائے اس کے جو بچ رہے، اور اگر عورت مقتول ہو تو اس کی دیت اس کے ورثاء میں تقسیم ہو گی اور وہ اس کے قاتل کو قتل کریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4805]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 18 (4541)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2630)، (تحفة الأشراف: 8709، 8710)، مسند احمد (2/183، 217، 224) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥سليمان بن موسى القرشي، أبو الربيع، أبو أيوب، أبو هاشم
Newسليمان بن موسى القرشي ← عمرو بن شعيب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن راشد الخزاعي، أبو يحيى، أبو عبد الله
Newمحمد بن راشد الخزاعي ← سليمان بن موسى القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← محمد بن راشد الخزاعي
ثقة متقن
👤←👥أحمد بن سليمان الرهاوي، أبو الحسين
Newأحمد بن سليمان الرهاوي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4542
قيمة الدية على عهد رسول الله ثمان مائة دينار أو ثمانية آلاف درهم ودية أهل الكتاب يومئذ النصف من دية المسلمين قال فكان ذلك كذلك حتى استخلف عمر رحمه الله فقام خطيبا فقال ألا إن الإبل قد غلت قال ففرضها عمر على أهل الذهب ألف دينار وعلى أهل
سنن أبي داود
4541
من قتل خطأ فديته مائة من الإبل ثلاثون بنت مخاض وثلاثون بنت لبون وثلاثون حقة وعشرة بني لبون ذكر
سنن ابن ماجه
2630
من قتل خطأ فديته من الإبل ثلاثون بنت مخاض وثلاثون بنت لبون وثلاثون حقة وعشرة بني لبون يقومها على أهل القرى أربعمائة دينار أو عدلها من الورق يقومها على أزمان الإبل إذا غلت رفع ثمنها وإذا هانت نقص من ثمنها على نحو الزمان
سنن النسائى الصغرى
4805
من قتل خطأ فديته مائة من الإبل ثلاثون بنت مخاض وثلاثون بنت لبون وثلاثون حقة وعشرة بني لبون ذكور يقومها على أهل القرى أربع مائة دينار أو عدلها من الورق يقومها على أهل الإبل إذا غلت رفع في قيمتها وإذا هانت نقص من قيمت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2647
يعقل المرأة عصبتها من كانوا ولا يرثوا منها شيئا إلا ما فضل عن ورثتها إن قتلت فعقلها بين ورثتها فهم يقتلون قاتلها
سنن النسائى الصغرى
4805
العقل ميراث بين ورثة القتيل على فرائضهم فما فضل فللعصبة
سنن النسائى الصغرى
4805
يعقل على المرأة عصبتها من كانوا ولا يرثون منه شيئا
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2647
يعقل المرأة عصبتها من كانوا ولا يرثوا منها شيئا إلا ما فضل عن ورثتها إن قتلت فعقلها بين ورثتها فهم يقتلون قاتلها
سنن النسائى الصغرى
4805
العقل ميراث بين ورثة القتيل على فرائضهم فما فضل فللعصبة
سنن النسائى الصغرى
4805
يعقل على المرأة عصبتها من كانوا ولا يرثون منه شيئا
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4805 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4805
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث مبارکہ میں قتل خطا کی دیت کی مقدار کا بیان ہے اور وہ چار قسم کے سو اونٹ ہے، اس کی تفصیل حدیث مذکورہ میں بیان کر دی گئی ہے۔
(2) یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اصل دیت اونٹ ہی ہیں، تاہم اونٹ میسر نہ ہونے کی صورت میں سو اونٹوں کی قیمت دیت ہوگی، اگر اونٹ مہنگے ہوں گے تو دیت کی رقم یا زیادہ ہوگی اور اگر اونٹ سستے ہوں گے تو پھر دیت کی رقم بھی کم ہوگی۔ اگر کوئی شخص دیت میں گائے بیل دینا چاہے تو دیت دو سو گائے بیل ہوگی۔ اور اگر دیت بکریوں کی صورت میں ادا کرنا چاہے تو دو ہزار بکریاں دیت ہوگی۔
(3) قاتل سے قصاص لینا ورثاء کا حق ہے۔ وہ چاہیں تو قصاص لیں اور اگر چاہیں تو معاف کر دیں۔ مقتول کے ورثاء، یعنی ورثائے مال کے علاوہ دیگر عصبات (عزیز واقارب) وغیرہ کو قصاص لینے یا معافی دینے کا کوئی حق نہیں۔ ہاں، اگر مقتول کے ورثاء میں سے کوئی مرد یا عورت نہ ہو تو پھر دیگر عزیز واقارب کو یہ حق مل جائے گا۔ واللہ أعلم!
(4) مقتول کی دیت، اس کے دوسرے مال کی طرح اس کے ورثاء کا حق ہے، یعنی دیت بھی، انھی میں تقسیم ہوگی۔ پہلے اصحاب الفروض (جن کا حصہ شریعت نے مقرر کر دیا ہے) لیں گے، ان سے جو بچ جائے وہ عصبہ لیں گے۔ البتہ اگر کسی شخص سے خطا (غلطی سے) قتل ہو جائے تو اس کے ذمہ عائد ہونے والی دیت اس کے عصبہ ہی ادا کریں گے، عصبہ قریب ترین مذکر کو کہتے ہیں، مثلاً: بیٹے، پوتے، باپ، دادا، بھائی، بھتیجے، چچا، تایا، ان کی اولاد۔ اور ورثاء سے مراد وہ رشتے دار ہیں جن کا حصہ وراثت میں مقرر کیا گیا ہے۔
(5) یہ حدیث متعلقہ باب سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ البتہ آئندہ باب سے اس کا تعلق ہے اور سنن نسائی میں بہت جگہ ایسا ہوا ہے، خصوصاً جب کہ سابقہ باب کے تحت روایات زیادہ ہوں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4805]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4542
دیت کی مقدار کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت ۱؎ آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: سنو، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار (درہم) دیت ٹھہرائی، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی، ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4542]
فوائد ومسائل:
حکومت اسلامیہ کے اصحاب حل وعقد پر لازم ہے کہ دیت جیسے شرعی واجبات میں بازار کے بھاؤ کے مطابق عوام میں اعلان عام کرتے رہا کریں تاکہ کسی پر ظلم نہ ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4542]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2630
قتل خطا کی دیت۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلطی سے مارا جائے اس کا خون بہا تیس اونٹنیاں ہیں، جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں، اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں، اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں، اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گاؤں والوں پر دیت (خون بہا) کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت بھی زیادہ ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2630]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دیت کی اصل مقدار اونٹوں سے متعین ہوتی ہے۔

(2)
اگر اونٹ ادا کرنا ممکن نہ ہوں تو گائے بکری کی صورت میں بھی دیت ادا ہوسکتی ہے۔

(3دیت کی ادائیگی نقد رقم کی صورت میں بھی ممکن ہے، اس صورت میں حکومت کو یا جج کو چاہیے کہ سو اونٹوں کی قیمت کا اندازہ کرکے اتنی دیت کا فیصلہ دے۔

(4)
اونٹوں کی قیمت میں کمی پیشی سے نقد رقم کی مقدار میں بھی کمی بیشی ہوسکتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2630]