🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

132. بَابُ الْخُطْبَةِ أَيَّامَ مِنًى:
باب: منیٰ کے دنوں میں خطبہ سنانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1739
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ , أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ , قَالُوا: يَوْمٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ , قَالُوا: بَلَدٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فَأَعَادَهَا مِرَارًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ" , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَوَصِيَّتُهُ إِلَى أُمَّتِهِ، فَلْيُبْلِغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے فضل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ دسویں تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں خطبہ دیا، خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لوگو! آج کون سا دن ہے؟ لوگ بولے یہ حرمت کا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا اور یہ شہر کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا شہر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا مہینہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس تمہارا خون تمہارے مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت، اس شہر اور اس مہینہ کی حرمت ہے، اس کلمہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار دہرایا اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) پہنچا دیا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت اپنی تمام امت کے لیے ہے، لہٰذا حاضر (اور جاننے والے) غائب (اور ناواقف لوگوں کو اللہ کا پیغام) پہنچا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا دیکھو میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1739]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو قربانی کے دن خطبہ دیا تو فرمایا: اے لوگو! یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ حرمت والا دن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے اس شہر میں، اس مہینے کے دوران میں یہ دن حرمت والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو بار بار دہرایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھا کر فرمایا: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ» اے اللہ! میں نے تیرا حکم پہنچا دیا ہے، میں نے تیرے حکم سے لوگوں کو آگاہ کر دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً امت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت ہے: موجود لوگوں کو چاہیے کہ وہ غائب لوگوں کو یہ پیغام دیں کہ میرے بعد تم کافروں کی طرح نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1739]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1740
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ" تَابَعَهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی، کہا کہ میں نے جابر بن زید سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ میدان عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ میں نے خود سنا تھا۔ اس کی متابعت ابن عیینہ نے عمرو سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1740]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے میدان عرفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ خود سنا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1740]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1741
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَوَرَجُلٌ أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ , قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ , قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ ذُو الْحَجَّةِ، قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: أَيُّ بَلَدٍ هَذَا، قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: أَلَيْسَتْ بِالْبَلْدَةِ الْحَرَامِ؟ , قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ، فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے قرہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ایک اور شخص نے جو میرے نزدیک عبدالرحمٰن سے بھی افضل ہے یعنی حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لوگو! معلوم ہے آج یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں۔ ہم بولے ہاں ضرور ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے لیے۔ آپ اس مرتبہ بھی خاموش ہو گئے اور ہمیں خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ کا نام کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم بولے کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ شہر کون سا ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح خاموش ہو گئے کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی کیوں نہیں ضرور ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس تمہارا خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے، تاآنکہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ کہو کیا میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو گواہ رہنا اور ہاں! یہاں موجود غائب کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے لوگ جن تک یہ پیغام پہنچے گا سننے والوں سے زیادہ (پیغام کو) یاد رکھنے والے ثابت ہوں گے اور میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی (ناحق) گردنیں مارنے لگو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1741]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: تم جانتے ہو یہ دن کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے۔ ہم نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام تجویز کریں گے تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں! اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چپ رہے۔ ہم نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام تجویز کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، یہ ذوالحجہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے، ہم نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام ذکر کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ مکہ مکرمہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، یہ مکہ مکرمہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں اور اس شہر میں ہے تاآنکہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ خبردار! کیا میں نے حکم پہنچا دیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اب چاہیے کہ حاضر شخص یہ تعلیمات غیر موجود کو پہنچا دے کیونکہ بسا اوقات براہ راست سننے والے سے وہ شخص زیادہ یاد رکھتا ہے جسے بعد میں حکم پہنچایا جائے۔ لوگو! میرے بعد کافروں کی طرح نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1741]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1742
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى:" أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ , قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ: فَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ، أَفَتَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: بَلَدٌ حَرَامٌ، أَفَتَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ , قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: شَهْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا" , وَقَالَ هِشَامُ بْنُ الْغَازِ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ بِهَذَا، وَقَالَ: هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ وَوَدَّعَ النَّاسَ، فَقَالُوا: هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو عاصم بن محمد بن زید نے خبر دی، انہیں ان کے باپ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا کہ تم کو معلوم ہے! آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا دن ہے اور یہ بھی تم کو معلوم ہے کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر ہے اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ کون سا مہینہ ہے، لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا مہینہ ہے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا خون! تمہارا مال اور عزت ایک دوسرے پر (ناحق) اس طرح حرام کر دی ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے۔ ہشام بن غاز نے کہا کہ مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں دسویں تاریخ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ دیکھو! یہ ( «يوم النحر») حج اکبر کا دن ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے کہ اے اللہ! گواہ رہنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر چونکہ لوگوں کو رخصت کیا تھا۔ (آپ سمجھ گئے کہ وفات کا زمانہ آن پہنچا) جب سے لوگ اس حج کو حجۃ الوداع کہنے لگے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1742]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ کے میدان میں فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ دن کون سا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ باخبر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دن حرمت والا ہے۔ کیا تم جانتے ہو یہ شہر کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہر بھی حرمت والا ہے۔ کیا تم جانتے ہو یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ بھی عزت والا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں حرام کی ہیں جس طرح اس دن کی حرمت اس مہینے کے دوران اس شہر میں ہے۔ ہشام بن غاز نے کہا: مجھے حضرت نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں قربانی کے دن جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: یہ دن حجِ اکبر کا ہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنا شروع کیا: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» اے اللہ! تو گواہ رہ، اور لوگوں کو الوداع کہا تو لوگوں نے کہا: یہ الوداعی حج ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1742]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں