سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. بَابُ: ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الأَنْبِذَةِ وَمَا لاَ يَجُوزُ
باب: کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔
حدیث نمبر: 5748
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , أَنَّهُ قَالَ:" فِي النَّبِيذِ خَمْرُهُ دُرْدِيُّهُ".
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیذ کے بارے میں کہا: نبیذ کی شراب اس کی تل چھٹ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5748]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: نبیذ میں تلچھٹ شامل کی جائے تو وہ شراب بن جاتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18702) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 369
حدیث نمبر: 5749
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , قَالَ:" إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْخَمْرُ لِأَنَّهَا تُرِكَتْ حَتَّى مَضَى صَفْوُهَا وَبَقِيَ كَدَرُهَا , وَكَانَ يَكْرَهُ كُلَّ شَيْءٍ يُنْبَذُ عَلَى عَكَرٍ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ خمر کا نام خمر اس لیے پڑا کہ وہ کچھ دیر رکھ چھوڑا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نتھر کر بالکل صاف ہو جاتا ہے، اور نیچے تل چھٹ بیٹھ جاتی ہے، اور وہ ہر اس نبیذ کو مکروہ سمجھتے تھے جس میں تل چھٹ ملا دی گئی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5749]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: شراب کو شراب اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے رکھا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب صاف صاف (جوس) ختم ہو جاتا ہے اور نیچے میل کچیل اور تلچھٹ باقی رہ جاتی ہے (تو اسے استعمال کیا جاتا ہے، اسی لیے) وہ ہر اس نبیذ کو ناپسند فرماتے تھے جس میں تلچھٹ شامل کی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18723) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح