سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب
باب
حدیث نمبر: 3726
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ، فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا انْتَجَيْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْأَجْلَحِ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ فُضَيْلٍ أَيْضًا، عَنِ الْأَجْلَحِ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: وَلَكِنَّ اللَّهَ انتجاه يَقُولُ: اللَّهُ أَمَرَنِي أَنْ أَنْتَجِيَ مَعَهُ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن علی رضی الله عنہ کو بلایا اور ان سے سرگوشی کے انداز میں کچھ باتیں کیں، لوگ کہنے لگے: آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ بڑی دیر تک سرگوشی کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان سے سرگوشی نہیں کی ہے بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اجلح کی روایت سے جانتے ہیں، اور اسے ابن فضیل کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی اجلح سے روایت کیا ہے،
۲- آپ کے قول ”بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھے ان کے ساتھ سرگوشی کا حکم دیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3726]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اجلح کی روایت سے جانتے ہیں، اور اسے ابن فضیل کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی اجلح سے روایت کیا ہے،
۲- آپ کے قول ”بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھے ان کے ساتھ سرگوشی کا حکم دیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2654) (ضعیف) (سند میں ابوالزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (6088) ، الضعيفة (3084) // ضعيف الجامع الصغير (5022) //
قال الشيخ زبير على زئي:(3726) إسناده ضعيف
أبو الزبير عنعن (تقدم: 10)
أبو الزبير عنعن (تقدم: 10)
حدیث نمبر: 3727
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: " يَا عَلِيُّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُجْنِبَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرِكَ ". قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: قُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرِكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ سَمِعَ مِنِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل هَذَا الْحَدِيثَ فَاسْتَغْرَبَهُ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”علی! میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس مسجد میں جنبی رہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- علی بن منذر کہتے ہیں: میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا: اس حدیث کا مفہوم کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ حالت جنابت میں وہ اس مسجد میں سے گزرے،
۳- مجھ سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنا تو وہ اچنبھے میں پڑ گئے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3727]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- علی بن منذر کہتے ہیں: میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا: اس حدیث کا مفہوم کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ حالت جنابت میں وہ اس مسجد میں سے گزرے،
۳- مجھ سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنا تو وہ اچنبھے میں پڑ گئے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4203) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف ہیں، اور سالم بن ابی حفصہ غالی شیعہ ہے، اور روایت میں تشیع ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (6089) ، الضعيفة (4973) // ضعيف الجامع الصغير (6402) //
قال الشيخ زبير على زئي:(3727) إسناده ضعيف
عطية: ضعيف (تقدم:477)
عطية: ضعيف (تقدم:477)
حدیث نمبر: 3728
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ , وَصَلَّى عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، وَمُسْلِمٌ الْأَعْوَرُ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ حَبَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوشنبہ کو مبعوث کیا گیا اور علی نے منگل کو نماز پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اور یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف مسلم اعور کی روایت سے جانتے ہیں اور مسلم اعور محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں،
۲- اسی طرح یہ حدیث مسلم اعور سے بھی آئی ہے اور مسلم نے حبہ کے واسطہ سے اسی طرح علی سے روایت کی ہے،
۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3728]
۱- اور یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف مسلم اعور کی روایت سے جانتے ہیں اور مسلم اعور محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں،
۲- اسی طرح یہ حدیث مسلم اعور سے بھی آئی ہے اور مسلم نے حبہ کے واسطہ سے اسی طرح علی سے روایت کی ہے،
۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1589) (ضعیف الإسناد) (سند میں علی بن عابس اور مسلم بن کیسان اعور دونوں ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(3728) إسناده ضعيف
علي بن عابس وشيخه مسلم الملائي الأعور ضعيفان (تق:4757، مسلم الملائي تقدم: 984)
علي بن عابس وشيخه مسلم الملائي الأعور ضعيفان (تق:4757، مسلم الملائي تقدم: 984)
حدیث نمبر: 3729
حَدَّثَنَا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن عمرو بن ہند جملی سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ کہتے تھے: جب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگتا تو آپ مجھے دیتے تھے اور جب میں چپ رہتا تو خود ہی پہل کرتے (دینے میں یا بولنے میں)۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3729]
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 3722 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(3729) إسناده ضعيف / تقدم:3722
حدیث نمبر: 3730
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔ (اور ہارون علیہ السلام اللہ کے نبی تھے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں سعد، زید بن ارقم، ابوہریرہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3730]
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں سعد، زید بن ارقم، ابوہریرہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2370) (صحیح) (سند میں شریک القاضی ضعیف الحفظ ہیں، مگر سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کی حدیث (3724) سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح بما قبله (3729)
حدیث نمبر: 3731
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُسْتَغْرَبُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون، موسیٰ کے لیے تھے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے
۲- اور یہ سعد بن ابی وقاص کے واسطہ سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کئی سندوں سے آئی ہے،
۳- اور یحییٰ بن سعید انصاری کی سند سے یہ حدیث غریب سمجھی جاتی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3731]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے
۲- اور یہ سعد بن ابی وقاص کے واسطہ سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کئی سندوں سے آئی ہے،
۳- اور یحییٰ بن سعید انصاری کی سند سے یہ حدیث غریب سمجھی جاتی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 2830 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (121)
حدیث نمبر: 3732
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ کے دروازے کے علاوہ (مسجد نبوی میں کھلنے والے تمام) دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے شعبہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3732]
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے شعبہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6314) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مناقب ابی بکر رضی الله عنہ میں یہ حدیث گزری کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ کے دروازے کے سوا مسجد نبوی میں کھلنے والے سارے دروازوں کو بند کر دینے کا حکم دیا“ ان دونوں حدیثوں کے درمیان بظاہر نظر آنے والے تعارض کو اس طرح دور کیا گیا ہے، کہ شروع میں مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے سوائے علی رضی الله عنہ کے بند کر دینے کا حکم ہوا، تو لوگوں نے دروازے بند کر کے روشندان کھول لیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض کے ایام میں آپ نے ابوبکر رضی الله عنہ کے روشندان کے سوا سارے لوگوں کے روشندان بند کر دیئے، (یہ روشندان اوپر بھی ہوتے تھے اور نیچے بھی، نیچے والے سے لوگ آمدورفت بھی کرتے تھے، مسجد کی طرف دروازوں کے بند ہو جانے کے بعد مسجد میں آنے جانے کے لیے لوگوں نے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا، «کما فی کتب مشکل الحدیث» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الضعيفة تحت الحديث (4932 و 4951)
حدیث نمبر: 3733
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَخِي مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ , وَحُسَيْنٍ , فَقَالَ: " مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ , وَأَبَاهُمَا , وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”جو مجھ سے محبت کرے، اور ان دونوں سے، اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت کرے، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے جعفر بن محمد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3733]
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے جعفر بن محمد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10073)، و مسند احمد (1/77) (ضعیف) (سند میں علی بن جعفر مجہول ہیں، اور حدیث کا متن منکر ہے، ملاحظہ ہو الضعیفة رقم: 3122)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (3122) ، تخريج المختارة (392 - 397) // ضعيف الجامع الصغير (5344) //
قال الشيخ زبير على زئي:(3733) إسناده ضعيف
علي بن جعفر مقبول (تق: 4699) أى مجهول الحال، ولم يوثقه غير الترمذي فيما أعلم والحديث غريب جدًا
علي بن جعفر مقبول (تق: 4699) أى مجهول الحال، ولم يوثقه غير الترمذي فيما أعلم والحديث غريب جدًا
حدیث نمبر: 3734
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ صَلَّى عَلِيٌّ ". قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمَ عَلِيٌّ وَهُوَ غُلَامٌ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ، وَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ پہلے پہل جس نے نماز پڑھی وہ علی رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، شعبہ کی یہ حدیث جسے وہ ابوبلج سے روایت کرتے ہیں ہم اسے صرف محمد بن حمید کی روایت سے جانتے ہیں اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن سلیم ہے،
۲- اہل علم نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ہے، بعض راویوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جس نے اسلام قبول کیا ہے وہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جو اسلام لائے ہیں وہ علی رضی الله عنہ ہیں، اور بعض اہل علم نے کہا ہے: بڑے مردوں میں جو پہلے پہل اسلام لائے ہیں وہ ابوبکر رضی الله عنہ ہیں اور علی رضی الله عنہ جب اسلام لائے تو وہ آٹھ سال کی عمر کے لڑکے تھے، اور عورتوں میں جو سب سے پہلے اسلام لائی ہیں وہ خدیجہ رضی الله عنہا ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3734]
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، شعبہ کی یہ حدیث جسے وہ ابوبلج سے روایت کرتے ہیں ہم اسے صرف محمد بن حمید کی روایت سے جانتے ہیں اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن سلیم ہے،
۲- اہل علم نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ہے، بعض راویوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جس نے اسلام قبول کیا ہے وہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جو اسلام لائے ہیں وہ علی رضی الله عنہ ہیں، اور بعض اہل علم نے کہا ہے: بڑے مردوں میں جو پہلے پہل اسلام لائے ہیں وہ ابوبکر رضی الله عنہ ہیں اور علی رضی الله عنہ جب اسلام لائے تو وہ آٹھ سال کی عمر کے لڑکے تھے، اور عورتوں میں جو سب سے پہلے اسلام لائی ہیں وہ خدیجہ رضی الله عنہا ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (6315) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور یہی قول سب سے بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الضعيفة تحت الحديث م (4932)
حدیث نمبر: 3735
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَال: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: " أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ، قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، فَأَنْكَرَهُ فَقَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ: طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ علی رضی الله عنہ ہیں۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں: میں نے اسے ابراہیم نخعی سے ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا: سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3735]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 3664) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد عن زيد، متصل عن النخعى