سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
مظلوم کے لیے انتقام لینے کا اصول
ترقیم الباني: 2377 ترقیم فقہی: -- 1316
-" نصبر ولا نعاقب".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب احد والے دن چونسٹھ انصاری اور چھ مہاجرین شہید ہو گئے تو اصحاب رسول نے کہا: اب اگر ایسا دن آیا تو ہم (اپنے شہدا کی) تعداد سے بڑھ کر مشرکوں سے انتقام لیں گے۔ جب فتح مکہ والا دن آیا تو ایک غیر معروف آدمی نے کہا: آج کے بعد قریش نیست و نابود ہو جائیں گے اور ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا ہر کالے گورے (یعنی ہر خاص و عام) کو امن ملے گا، مگر فلاں، فلاں . . . چند لوگوں کے نام لیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں: ”اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی جتنا تم کو نقصان پہنچا ہے اور جو (لوگوں کی ایذا پر) صبر کرے تو صبر کرنے والوں کے لیے (بدلہ لینے سے)بہتر ہے۔“(سورہ نحل: 126) رسول اللہ نے فرمایا: ”ہم صبر کرتے ہیں اور بدلہ نہیں لیتے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1316]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2377