🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

اولاد کے مابین عدل کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1240 ترقیم فقہی: -- 1516
-" اعدلوا بين أولادكم، اعدلوا بين أولادكم، اعدلوا بين أولادكم".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کے مابین انصاف کرو، اپنی اولاد کے مابین انصاف کرو، اپنی اولاد کے مابین انصاف کرو۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1516]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1240

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2994 ترقیم فقہی: -- 1517
-" فما عدلت بينهما. أي بين الابن والبنت في التقبيل".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس کے پاس اس کا بیٹا آیا، اس نے اس کا بوسہ لیا اور اسے اپنی گود میں بیٹھا لیا، اس کے بعد اس کی بیٹی آئی، اس نے اسے اپنے ساتھ بیٹھا لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کے درمیان انصاف کیوں نہیں کیا؟ یعنی بیٹے کا بوسہ لیا اور بیٹی کا نہیں لیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1517]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2994

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3946 ترقیم فقہی: -- 1518
- (اتقُوا الله، واعدِلُوا بينَ أولادِكم؛ كما تُحبُّون أنْ يَبَرُّوكم).
عامر کہتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ وہ خطبہ دے رہے تھے: میرے باپ نے مجھ پر صدقہ کیا، سیدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر شاہد نہیں بنائے گا۔ پس سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے اپنے بیٹے پر صدقہ کیا ہے اور عمرہ بنت رواحہ نے مجھے کہا کہ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہیں بنائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا اس کے علاوہ تیرے اور بیٹے بھی ہیں؟۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ان سب کو وہ چیز دی جو اس کو دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ظلم ہے، مجھے ظلم پر گواہ نہ بناؤ، اللہ سے ڈر جاؤ اور اپنی اولاد کے مابین عدل و انصاف کیا کرو، جیسا کہ تم پسند کرتے ہو کہ وہ سب تم سے (برابر کا) حسن سلوک کریں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1518]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3946

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2847 ترقیم فقہی: -- 1519
-" إن عليك من الحق أن تعدل بين ولدك كما عليهم من الحق أن يبروك".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا، پھر اس نے چاہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر شاہد بنائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو نے ایک بیٹے کی طرح اپنے تمام بیٹوں کو عطیے دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تجھ پر لازم ہے کہ تو اپنی اولاد کے مابین عدل کرے، جیسا کہ ان پر فرض ہے کہ وہ تجھ سے (برابر کا) حسن سلوک کریں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1519]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2847

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں