سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
اگر زیور کا مقصد محض نمائش اور عجب پسندی ہو تو . . .
ترقیم الباني: 2975 ترقیم فقہی: -- 2003
-" لا ألبسه أبدا. يعني خاتم الذهب".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، (جب لوگوں کو پتہ چلا تو) انہوں نے بھی یہ انگوٹھیاں بنوا لیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی کو پھینک دیا اور فرمایا: ” میں یہ کبھی بھی نہیں پہنوں گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/اللباس والزينة واللهو والصور/حدیث: 2003]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2975
ترقیم الباني: 411 ترقیم فقہی: -- 2004
-" يا فاطمة أيسرك أن يقول الناس: فاطمة بنت محمد في يدها سلسلة من نار؟!".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدہ بنت ہبیرہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے ہاتھ میں سونے کی بڑی بڑی انگوٹھیاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ پر مار نے لگ گئے۔ اس نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شکایت کی۔ ثوبان کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو میں بھی آپ کے ساتھ تھا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی گردن میں پہنی ہوئی زنجیر یعنی چین ہاتھ میں پکڑی اور کہا: یہ ابوحسن نے مجھے بطور تحفہ دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ! کیا تجھے لوگوں کا یہ کہنا اچھا لگے گا کہ فاطمہ بنت محمد کے ہاتھ میں آگ کی ایک زنجیر ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور وہاں نہ بیٹھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وہ چین فروخت کر دی اور اس کی قیمت سے ایک غلام خرید کر اسے آزاد کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر موصول ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تعر یف اس اللہ کی ہے، جس نے فاطمہ کو آگ سے نجات دلائی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/اللباس والزينة واللهو والصور/حدیث: 2004]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 411