سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیوی آسائشوں کو ترجیح نہ دینا، دنیا کے عارضی پن کی مثال
ترقیم الباني: 438 ترقیم فقہی: -- 2209
-" مالي وللدنيا؟! ما أنا والدنيا؟! إنما مثلي ومثل الدنيا كراكب ظل تحت شجرة ثم راح وتركها".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور وغیرہ کے پتوں سے بنی ہوئی چٹائی پر لیٹے، اس سے آپ کے پہلو پر نشان پڑ گئے، جب آپ بیدار ہوئے تو میں نے آپ کے پہلو پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں کیوں نہیں بتلایا، ہم آپ کے لیے چٹائی پر (کوئی گدا وغیرہ) بچھا دیتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا دنیا سے کیا تعلق ہے؟ میری دنیا سے کیا نسبت ہے؟ میری اور دنیا کی مثال اس سوار کی طرح ہے جو (سستانے کے لیے) کسی درخت کے سائے میں (چند لمحوں کے لیے) بیٹھا اور پھر اسے ترک کر کے چل دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2209]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 438
ترقیم الباني: 439 ترقیم فقہی: -- 2210
-" ما لي وللدنيا؟! ما مثلي ومثل الدنيا إلا كراكب سار في يوم صائف، فاستظل تحت شجرة ساعة من نهار، ثم راح وتركها".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور وغیرہ کے پتوں سے بنی ہوئی چٹائی پر تشریف فرما تھے، اس سے آپ کے پہلو پر نشان پڑ گئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے نبی! اگر آپ کوئی نرم بچھونا بنوا لیں (تو اچھا ہو گا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا دنیا (کی آسائشوں) سے کیا تعلق ہے؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی طرح ہے، جو گرمی والے دن سفر کرتا رہا اور (سستانے کی خاطر) دن کی ایک گھڑی کے لیے درخت کے سائے میں قیام کیا اور پھر اسے چھوڑ کر چل دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2210]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 439