سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
صلہ رحمی
ترقیم الباني: 869 ترقیم فقہی: -- 2366
-" اتقوا الله وصلوا أرحامكم".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صلہ رحمی کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2366]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 869
ترقیم الباني: 1538 ترقیم فقہی: -- 2367
-" أرحامكم أرحامكم".
سیدنا انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے، بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے ایام میں فرمایا: ”قرابتوں (کا خیال رکھو)، رشتہ داریوں (کا خیال رکھو)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2367]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1538
ترقیم الباني: 277 ترقیم فقہی: -- 2368
-" اعرفوا أنسابكم، تصلوا أرحامكم، فإنه لا قرب بالرحم إذا قطعت، وإن كانت قريبة، ولا بعد بها إذا وصلت، وإن كانت بعيدة".
اسحاق بن سعید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ کو میرے باپ نے بیان کیا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تها، ان کے پاس ایک آدمی آیا، انہوں نے اس سے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے دور کی رشتے داری کا تعلق بیان کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے نرمی سے بات کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے نسب کی معرفت حاصل کرو، تاکہ صلہ رحمی کر سکو۔ کیونکہ رشتوں کے قریبی ہونے کا (کوئی مقصد نہیں) جب سرے سے قطع رحمی کر دی جائے اگرچہ وہ رشتے بہت ہی قریبی ہوں۔ اور رشتوں کے بعید ہونے (کا کوئی معنی نہیں) جب صلہ رحمی کی جائے، اگرچہ وہ بہت دور کی قرابتیں ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2368]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 277
ترقیم الباني: 2166 ترقیم فقہی: -- 2369
-" أمرني خليلي صلى الله عليه وسلم بسبع: أمرني بحب المساكين والدنو منهم، وأمرني أن أنظر إلى من هو دوني ولا أنظر إلى من هو فوقي، وأمرني أن أصل الرحم وإن أدبرت، وأمرني أن لا أسأل أحدا شيئا، وأمرني أن أقول بالحق وإن كان مرا، وأمرني أن لا أخاف في الله لومة لائم، وأمرني أن أكثر من قول:" لا حول ولا قوة إلا بالله"، فإنهن من كنز تحت العرش، (وفي رواية: فإنها كنز من كنوز الجنة) ".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات امور کا حکم دیا: ”(۱) مسکینوں سے محبت کرنے اور ان کے قریب رہنے کا حکم دیا (۲) اپنے سے کم تر شخص کو دیکھنے اور اپنے سے برتر شخص کی طرف توجہ نہ کرنے کا حکم دیا (٣) مجھے صلہ رحمی کرنے کا حکم دیا اگرچہ وہ رخ پھیرنے لگے (٤) مجھے حکم دیا کہ میں کسی سے کوئی سوال نہ کروں (٥) مجھے حکم دیا کہ میں حق بات کہوں، اگرچہ وہ کڑوی ہو۔ ( ۶) مجھے حکم دیا کہ میں اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں اور ( ۷) مجھے حکم دیا کہ میں کثرت سے «لاحول ولا قوة الا بالله» پڑھوں، کیونکہ یہ کلمات عرش سے نیچے والے خزانوں میں سے ہیں۔“ اور ایک روایت میں ہے: ” یہ کلمات جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2369]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2166
ترقیم الباني: 2741 ترقیم فقہی: -- 2370
-" إن الله عز وجل لما خلق الخلق قامت الرحم فأخذت بحقو الرحمن، [فقال: مه] ، قالت: هذا مقام العائذ [بك] من القطيعة، قال: [نعم] ، أما ترضين أن أصل من وصلك وأقطع من قطعك؟ [قالت: بلى يا رب!] قال: فذاك [لك] . قال أبو هريرة: [ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:] اقرءوا إن شئتم * (فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم. أولئك الذين لعنهم الله فأصمهم وأعمى أبصارهم. أفلا يتدبرون القرآن أم على قلوب أقفالها) *".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو صلہ رحمی اللہ کی کمر پکڑ کر کھڑی ہو گئی۔ اللہ نے فرمایا: ”رک جا“، صلہ رحمی نے کہا: قطع رحمی سے پناہ طلب کرنے والے کا یہ مقام ہے۔ اللہ نے فرمایا: ”ہاں۔“ کیا تو (اس منقبت پر) راضی نہیں ہو گی کہ جس نے تجھے ملایا میں بھی اس کو ملاوں گا اور جس نے تجھے کاٹا میں بھی اسے کاٹ دوں گا؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”سو یہی (مقام) تیرا ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کی یہ آیت پڑھ لو: «فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ (۲۲) أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ (۲۳) أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (۲۴)» ”اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناطے توڑ ڈالو۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی بصارت اللہ تعالیٰ نے چھین لی ہے۔ کیا یہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2370]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2741
ترقیم الباني: 1602 ترقیم فقہی: -- 2371
-" إن الرحم شجنة آخذة بحجزة الرحمن، يصل من وصلها ويقطع من قطعها".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بلاشبہ صلہ رحمی رحمٰن کی کمر کو پکڑنے والی شاخ ہے۔ وہ (اللہ) اس کو ملانے والے کو ملا لیتا ہے اور اس کو کاٹنے والے کو کاٹ دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2371]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1602
ترقیم الباني: 2474 ترقیم فقہی: -- 2372
-" إن الرحم شجنة من الرحمن عز وجل واصلة، لها لسان ذلق تتكلم بما شاءت، فمن وصلها وصله الله ومن قطعها قطعه الله".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے اپنی انگلی کو مروڑا اور فرمایا: ”صلہ رحمی رحمٰن سے ملی ہوئی شاخ ہے۔ اس کی ایک فصیح و بلیغ زبان ہے، جیسے چاہتی ہے کلام کرتی ہے۔ جس نے اس (صلہ رحمی) کو ملایا اللہ اس کو ملائے گا اور جس نے اس کو کاٹ دیا اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2372]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2474
ترقیم الباني: 2597 ترقیم فقہی: -- 2373
-" إن كان كما تقول فكأنما تسفهم المل، ولا يزال معك من الله ظهير [ما دمت على ذلك] ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، (صورتحال یہ ہے کہ) میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں، لیکن وہ قطع رحمی کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہوں جبکہ وہ میرے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں اور میں (ان کے بارے میں) حکمت و دانائی سے کام لیتا ہوں جبکہ وہ جہالت سے پیش آتے ہیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر بات ایسے ہی ہے جیسا کہ تو کہہ رہا ہے تو، تو ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہا ہے۔ جب تک تیری یہ کیفیت رہے گی، الله کی طرف سے ہمیشہ تیرے ساتھ ایک مددگار رہے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2373]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2597
ترقیم الباني: 519 ترقیم فقہی: -- 2374
-" إنه من أعطي حظه من الرفق، فقد أعطي حظه من خير الدنيا والآخرة وصلة الرحم وحسن الخلق وحسن الجوار يعمران الديار ويزيدان في الأعمار".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: ”جس کو نرمی عطا کی گئی، اس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسن اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امور خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2374]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 519
ترقیم الباني: 1777 ترقیم فقہی: -- 2375
-" بلوا أرحامكم ولو بالسلام".
سیدنا سوید بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی کو تروتازہ رکھو، اگرچہ سلام کے ذریعہ ہی ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2375]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1777