🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. بَابُ هِبَةِ الْمَرْأَةِ لِغَيْرِ زَوْجِهَا:
باب: اگر عورت اپنے خاوند کے سوا اور کسی کو کچھ ہبہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2590
وَعِتْقُهَا إِذَا كَانَ لَهَا زَوْجٌ فَهُوَ جَائِزٌ إِذَا لَمْ تَكُنْ سَفِيهَةً، فَإِذَا كَانَتْ سَفِيهَةً لَمْ يَجُزْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَلا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ سورة النساء آية 5.
‏‏‏‏ یا غلام لونڈی آزاد کرے اور ہبہ کے وقت اس کا خاوند موجود ہو، تو یہ ہبہ جائز ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ عورت بے عقل نہ ہو۔ کیونکہ اگر وہ بے عقل ہو گی تو جائز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «ولا تؤتوا السفهاء أموالكم‏» بے عقل لوگوں کو اپنا مال نہ دو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: Q2590]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2590
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِيَ مَالٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، فَأَتَصَدَّقُ؟ قَالَ:" تَصَدَّقِي، وَلَا تُوعِي فَيُوعَى عَلَيْكِ".
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عباد بن عبداللہ نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس صرف وہی مال ہے جو (میرے شوہر) زبیر نے میرے پاس رکھا ہوا ہے تو کیا میں اس میں سے صدقہ کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کرو، جوڑ کے نہ رکھو، کہیں تم سے بھی۔ (اللہ کی طرف سے نہ) روک لیا جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2590]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس مال تو وہی ہوتا ہے جو میرے شوہر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ لاتے ہیں تو کیا میں اس میں سے صدقہ کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو، اسے مت روکو، ورنہ اللہ بھی تجھ سے روک لے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2590]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2591
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَنْفِقِي، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ".
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کر، گنا نہ کر، تاکہ تمہیں بھی گن کے نہ ملے اور جوڑ کے نہ رکھو، تاکہ تم سے بھی اللہ تعالیٰ (اپنی نعمتوں کو) نہ چھپا لے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2591]
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرچ کرو اور اسے گن گن کر مت رکھو کہ پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن کر دے، نیز اسے مت روکو ورنہ اللہ بھی تم سے روک لے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2591]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2592
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً، وَلَمْ تَسْتَأْذِنْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُهَا الَّذِي يَدُورُ عَلَيْهَا فِيهِ، قَالَتْ: أَشَعَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي أَعْتَقْتُ وَلِيدَتِي، قَالَ: أَوَفَعَلْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّكِ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ". وَقَالَ بَكْرُ بْنُ مُضَرَ: عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، إِنَّ مَيْمُونَةَ أَعْتَقَتْ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے بکیر نے، ان سے ابن عباس کے غلام کریب نے اور انہیں (ام المؤمنین) میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے ایک لونڈی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیے بغیر آزاد کر دی۔ پھر جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باری آپ کے گھر آنے کی تھی، انہوں نے خدمت نبوی میں عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو معلوم بھی ہوا، میں نے ایک لونڈی آزاد کر دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا تم نے آزاد کر دیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں! فرمایا کہ اگر اس کے بجائے تم نے اپنے ننھیال والوں کو دی ہوتی تو تمہیں اس سے بھی زیادہ ثواب ملتا۔ اس حدیث کو بکیر بن مضر نے عمرو بن حارث سے، انہوں نے بکیر سے، انہوں نے کریب سے روایت کیا کہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی لونڈی آزاد کر دی۔ اخیر تک۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2592]
حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی ایک لونڈی کو آزاد کر دیا جس کی بابت انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہیں لی تھی۔ جب ان کی باری کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے اپنی لونڈی کو آزاد کر دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی تم آزاد کر چکی ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم وہ لونڈی اپنے ننھیال کو دیتیں تو تمہیں زیادہ ثواب ہوتا۔ بکر بن مضر نے عمرو سے، انہوں نے بکیر سے، انہوں نے کریب سے بیان کیا کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے (لونڈی) آزاد کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2592]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2593
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی زہری سے، وہ عروہ سے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے لیے قرعہ اندازی کرتے اور جن کا قرعہ نکل آتا انہیں کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی طریقہ تھا کہ اپنی تمام ازواج کے لیے ایک ایک دن اور رات کی باری مقرر کر دی تھی، البتہ (آخر میں) سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی، اس سے ان کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا حاصل کرنی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2593]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس بیوی کا نام نکل آتا، اسے سفر میں اپنے ہمراہ لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ باقی ہر بیوی کے ہاں فروکش ہونے (ٹھہرنے) کے لیے دن رات کی باری مقرر کر رکھی تھی۔ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دن رات کی باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی تھی جس سے ان کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2593]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں