🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول مختلف دعائیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2091 ترقیم فقہی: -- 3024
-" كان أكثر دعائه: يا مقلب القلوب! ثبت قلبي على دينك. فقيل له في ذلك. فقال: إنه ليس آدمي إلا وقلبه بين إصبعين من أصابع الله، فمن شاء أقام ومن شاء أزاغ".
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے ام المؤمنین! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس ہوتے تو کون سی دعا کثرت سے پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر یہ دعا کرتے تھے: اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دعا کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: ہر آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے، وہ جس کو چاہے (‏‏‏‏ ‏‏‏‏ہدایت پر) ثابت رکھے اور جس کو چاہے گمراہ کر دے۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3024]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2091

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3336 ترقیم فقہی: -- 3025
- (قل: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر. فعقد الأعرابي على يده، وقضى وتفكر ثم رجع، فتبسم النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: تفكر البائس. فجاء فقال: يا رسول الله! سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر؛ هذا لله، فما لي؟ فقال له النبي - صلى الله عليه وسلم -: يا أعرابي! إذا قلت: سبحان الله، قال الله: صدقت، وإذا قلت: الحمد لله، قال الله: صدقت، وإذا قلت: لا إله إلا الله، قال الله: صدقت، وإذا قلت: الله أكبر؛ قال الله: صدقت. وإذا قلت: اللهم! اغفر لي، قال الله: قد فعلت، وإذا قلت: اللهم! ارحمني؛ قال الله: [قد] فعلت، وإذا قلت: اللهم! ارزقني، قال الله: قد فعلت. فعقد الأعرابي على سبع في يده، ثم ولّى) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک بدو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی بہترین چیز کی تعلیم دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اس طرح کہا کرو: اللہ پاک ہے، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے۔ بدو نے (‏‏‏‏ان چار چیزوں کو) اپنی انگلیوں پر شمار کیا اور چل دیا لیکن سوچنے کے بعد پھر واپس آ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا ‏‏‏‏ خستہ حال بدو سوچنے لگ گیا ہے۔ اس نے واپس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ پاک ہے، ساری تعریف اللہ کی ہے، اللہ ہی معبود برحق ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ یہ سارے (‏‏‏‏تعریفی) کلمات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: بدو! جب تو «سبحان الله» ‏‏‏‏ کہے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا: «صدقت» (‏‏‏‏تو نے سچ کہا)۔ جب تو «الحمد لله» کہے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا: «صدقت»، جب تو «لا اله الا الله» کہے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا: «صدقت»، جب تو «‏‏‏‏اللہ اکبر» کہے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا: «صدقت» اور جب تو «اللهم اغفرلى» ‏‏‏‏اے اللہ! مجھے بخش دے کہے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا: میں نے تجھے بخش دیا۔ جب تو «اللهم ارحمنى» ‏‏‏‏ اے اللہ! مجھ پر رحم فرما کہے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا: میں نے تجھ پر رحم کر دیا اور جب تو «اللهم ارزقني» ‏‏‏‏اے اللہ! مجھے رزق دے، تو اللہ تعالیٰ کہے گا: میں نے تجھے رزق دینے کا فیصلہ کر دیا۔ بدو نے اپنے ہاتھ پر یہ سات کلمات شمار کئے اور چل دیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3025]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3336

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1318 ترقیم فقہی: -- 3026
-" قل اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني - يجمع أصابعه إلا الإبهام - فإن هؤلاء تجمع لك دنياك وآخرتك".
ابومالک اشجعی اپنے باپ سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کر: اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں بند کیں سوائے انگوٹھے کے۔ (‏‏‏‏اور فرمایا:) یہ کلمات تیرے لیے تیری دنیا و آخرت کو جمع کر دیں گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3026]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1318

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1542 ترقیم فقہی: -- 3027
-" اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم، اللهم إني أسألك من خير ما سألك عبدك ونبيك، وأعوذ بك من شر ما عاذ بك عبدك ونبيك، اللهم إني أسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل وأعوذ بك من النار وما قرب إليها من قول أو عمل، وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيته لي خيرا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھائی: اے اللہ! میں تجھ سے ہر بھلائی کا سوال کرتا ہوں، وہ جلد ملنے والی ہو یا بدیر اور مجھے اس کا علم ہو یا نہ ہو اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر شر سے، وہ جلدی طاری ہونے والی ہو یا بدیر اور وہ میرے علم میں ہو یا نہ ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں، جس کا تجھ سے تیرے بندے اور نبی نے سوال کیا اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس شر سے، جس سے تیرے بندے اور نبی نے تیری پناہ چاہی۔ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے قول و فعل کا سوال کرتا ہوں اور میں جہنم اور قریب کرنے والے قول و فعل سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر فیصلہ، جو تو میرے بارے میں کرے، اسے میرے حق میں بہتر قرار دے۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3027]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1542

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 4005 ترقیم فقہی: -- 3028
- (اللهم! إني أعوذ بك من العجز والكسل، والجبن والبخل، والهرم، وعذاب القبر. اللهم! آت نفسي تقواها، وزكها أنت خير من زكاها، أنت وليها ومولاها. اللهم! إني أعوذ بك من علم لا ينفع، ومن قلب لا يخشع، ومن نفس لا تشبع، ومن دعوة لا يستجاب لها) .
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہ بات کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں بےبسی و لاچارگی اور سستی و کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے اور بڑھاپے اور عذاب قبر سے، اے اللہ! تو میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما اور اس کو پاک کر دے، تو بہترین ہستی ہے جو اسے پاک کر سکتی ہے، تو ہی اس کا نگران کار اور پروردگار ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جو فائدہ نہیں دیتا اور ایسے دل سے جو عاجزی و انکساری نہیں کرتا اور ایسے نفس سے جو سیر و سیراب نہیں ہوتا اور ایسی دعا سے جو قبول نہیں ہوتی۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3028]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 4005

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 556 ترقیم فقہی: -- 3029
-" إن كنا لنعد لرسول الله صلى الله عليه وسلم في المجلس يقول: (رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور مائة مرة) ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم شمار کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک مجلس میں سو سو دفعہ یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ پر رجوع فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3029]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 556

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2524 ترقیم فقہی: -- 3030
-" اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد، من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين".
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر کہا: اے اللہ! جو تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس چیز کو تو روک دے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں اور کسی مرتبے والے کو اس کا مرتبہ تجھ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ جس کے ساتھ بھلائی کاارادہ کرتا ہے اسے علم شریعت کی مہارت عطا کر دیتا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ کلمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس منبر پر سنے۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3030]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2524

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3937 ترقیم فقہی: -- 3031
- (اللهمّ! إنِّي أعوذُ بك من البخلِ، وأعوذُ بك من الجُبنِ، وأعوذُ بك أن أردّ إلى أرذلِ العُمُر، وأعوذُ بك من فتنة الدنيا، وأعوذ بك من عذاب القبر) .
مصعب سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پانچ چیزوں کا حکم دیتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا حکم دیتے تھے: اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں بخل سے، تیری پناہ چاہتا ہوں بزدلی سے، اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ مجھے ادھیڑ عمر کی طرف لوٹا دیا جائے، تیری پناہ چاہتا ہوں دنیوی فتنے سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں عذاب قبر سے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے دنیوی فتنے کے الفاظ کے بعد فتنہ دجال کا بھی ذکر کیا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3031]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3937

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3137 ترقیم فقہی: -- 3032
- (كان من دعائه - صلى الله عليه وسلم -: اللهمَّ إني أعوذُ بكَ من جارِ السُّوءِ، ومن زوجٍ تشيِّبني قبلَ المشيب، ومن ولد يكونُ عليّ رَبّاً، ومن مال يكونُ عليّ عذاباً، ومن خليلٍ ماكر عينَه تراني، وقلبُه يرعاني؛ إن رأى حسنة دفنها، وإذا رأى سيّئةً أذاعها) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں برے پڑوسی سے اور ایسی بیوی سے جو مجھے بڑھاپے سے پہلے بوڑھا کر دے اور ایسی اولاد سے جو میرا آقا بن بیٹھے اور ایسے مال سے جو میرے لیے باعث عذاب بن جائے اور ایسے چالباز دوست سے جس کی آنکھیں مجھے تک رہی ہوں اور جس کا دل میرے پیچھے پڑا ہو اور میری ہر نیکی کو دباتا جائے اور ہر برائی کو نشر کرتا جائے۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3032]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3137

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1544 ترقیم فقہی: -- 3033
-" اللهم رب جبرائيل وميكائيل ورب إسرافيل أعوذ بك من حر النار وعذاب القبر".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جبرائیل و میکائیل کے رب! اسرافیل کے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں آگ کی تپش اور قبر کے عذاب سے۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3033]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1544

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں