سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
روز قیامت لوگ ننگے ہوں گے، سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوشاک سبز رنگ کی ہو گی، آدمی انہی کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں مرتا ہے
ترقیم الباني: 3469 ترقیم فقہی: -- 3707
ـ (يُبعَثُ الناسُ حفاةً عُراةً غُرْلاً، يُلْجِمُهم العَرَقُ، ويبلغُ شحمةَ الأُذنِ، قالتْ سَودةُ: قلت: يا رسولَ اللهِ! وا سوْءتاهُ! ينظرُ بعضُنا إلى بعْضٍ؟! قال: شُغِلَ الناسُ عن ذلكَ. وتلا" يومَ يفرُّ المرءُ من أخِيه *وأمِّه وأبيهِ *وصاحبتهِ وبنيهِ *لكلّ امْرئٍ منهم يوْمئذٍ شأْنٌ يغْنيهِ") .
زوجہ رسول سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت والے دن) جب لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو وہ ننگے بدن، ننگے پاؤں اور غیر مختون (بغیر ختنے کے) ہوں گے، (ان کا پسینہ) ان کو لگام ڈال لے گا اور وہ ان کے کانوں کی لو تک پہنچ جائے گا۔“ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہائے! شرمگاہیں نظر آئیں گی اور لوگ ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کام کرنے سے لوگ مشغول ہوں گے (یعنی موقف کی ہولناکی اور شدت انہیں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی مہلت ہی نہیں دے گی)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ ٭ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ ٭ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ ٭ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ”اس دن آدمی اپنے بھائی سے اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔ ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر دامن گیر ہو گی، جو اس کے لیے کافی ہو گی۔“ (۸۰-عبس:۳۴، ۳۵، ۳۶، ۳۷) [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3707]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3469
ترقیم الباني: 1129 ترقیم فقہی: -- 3708
-" أول من يكسى خليل الله إبراهيم صلى الله عليه وسلم".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(روز محشر) سب سے پہلے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3708]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1129
ترقیم الباني: 2370 ترقیم فقہی: -- 3709
-" يبعث الناس يوم القيامة، فأكون أنا وأمتي على تل، ويكسوني ربي حلة خضراء، ثم يؤذن لي، فأقول ما شاء الله أن أقول، فذاك المقام المحمود".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا، میں اور میری امت ایک ٹیلے پر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ مجھے سبز رنگ کی پوشاک پہنائیں گے۔ پھر مجھے اجازت دی جائے گی اور میں کہوں گا جو اللہ تعالیٰ چاہیں گے، یہی مقام محمود ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3709]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2370
ترقیم الباني: 1671 ترقیم فقہی: -- 3710
-" إن الميت يبعث في ثيابه التي يموت فيها".
جب سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے جدید کپڑے منگوا کر زیب تن کئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک میت کو ان کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں وہ فوت ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3710]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1671