صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔
حدیث نمبر: 3675
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ:" اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”احد! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3675]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ احد پہاڑ پر چڑھے۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ اتنے میں پہاڑ لرزنے اور کانپنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے احد! ٹھہر جا کیونکہ تجھ پر اس وقت ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3675]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3676
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَمَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَنْزِعُ مِنْهَا جَاءَنِي أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ الدَّلْوَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا , فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ , فَنَزَعَ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ"، قَالَ وَهْبٌ: الْعَطَنُ مَبْرَكُ الْإِبِلِ، يَقُولُ: حَتَّى رَوِيَتِ الْإِبِلُ فَأَنَاخَتْ.
مجھ سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے صخر نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک کنویں پر (خواب میں) کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس ابوبکر اور عمر بھی پہنچ گئے۔ پھر ابوبکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے، ان کے کھینچنے میں ضعف تھا اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے گا۔ پھر ابوبکر کے ہاتھ سے ڈول عمر نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ایک بہت بڑے ڈول کی شکل میں ہو گیا۔ میں نے کوئی ہمت والا اور بہادر انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسن تدبیر اور مضبوط قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو، چنانچہ انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ لوگوں نے اونٹوں کے پانی پلانے کی جگہیں بھر لیں، وہب نے بیان کیا کہ «العطن» اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں، عرب لوگ بولتے ہیں، اونٹ سیراب ہوئے کہ (وہیں) بیٹھ گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3676]
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں (خواب میں) ایک کنویں پر کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی پہنچ گئے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے۔ ان کے پانی بھرنے میں کچھ کمزوری تھی، اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے گا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے وہ ڈول حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ڈول ایک بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا۔ میں نے کوئی ہمت والا شہ زور انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسنِ تدبیر اور قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو، چنانچہ انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو بھی پانی پلا کر بٹھا دیا۔“ (راویِ حدیث) وہب نے بیان کیا کہ «الْعَطَنُ» اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں، عرب کا محاورہ ہے، اونٹ سیراب ہوئے کہ (وہیں) بیٹھ گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3676]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3677
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ الْمَكِّيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوْا اللَّهَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي قَدْ وَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى مَنْكِبِي، يَقُولُ:" رَحِمَكَ اللَّهُ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ , لِأَنِّي كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كُنْتُ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ، فَإِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَهُمَا , فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ".
ہم سے ولید بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن سعید بن ابی الحسین مکی نے ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیں کر رہے تھے، اس وقت ان کا جنازہ چارپائی پر رکھا ہوا تھا، اتنے میں ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آ کر میرے شانوں پر اپنی کہنیاں رکھ دیں اور (عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے) کہنے لگے اللہ آپ پر رحم کرے۔ مجھے تو یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ (دفن) کرائے گا، میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کرتا تھا کہ ”میں اور ابوبکر اور عمر تھے“، ”میں نے اور ابوبکر اور عمر نے یہ کام کیا“، ”میں اور ابوبکر اور عمر گئے“ اس لیے مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان ہی دونوں بزرگوں کے ساتھ رکھے گا۔ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3677]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا اور ہم اللہ تعالیٰ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے مغفرت کر رہے تھے جبکہ ان کا جنازہ چارپائی پر رکھا جا چکا تھا۔ اتنے میں ایک شخص نے میرے پیچھے سے آکر اپنی کہنی میرے کندھے پر رکھ دی اور کہنے لگا: ”اللہ تم پر رحم کرے! میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے ساتھیوں کے ہمراہ رکھے گا کیونکہ میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کرتا تھا: ”فلاں جگہ پر میں تھا اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ساتھ تھے۔ میں نے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام کیا۔ میں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما روانہ ہوئے۔“”مجھے اس لیے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے ساتھ رکھے گا۔“ پھر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ (دعائیہ) کلمات کہنے والے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3677]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3678
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، عَنْ أَشَدِّ مَا صَنَعَ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَوَضَعَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ بِهِ خَنْقًا شَدِيدًا , فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَفَعَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ: رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ".
مجھ سے محمد بن یزید کوفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے، ان سے یحییٰ ابن ابی کثیر نے، ان سے محمد بن ابراہیم نے اور ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی تھی تو انہوں نے بتلایا کہ میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈال کر کھینچی جس سے آپ کا گلا بڑی سختی کے ساتھ پھنس گیا۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اس بدبخت کو دفع کیا اور کہا کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3678]
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مشرکینِ مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی تھی، تو انہوں نے بتایا: ”میں نے عقبہ بن ابومعیط کو دیکھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے اپنی چادر آپ کی گردن میں ڈالی اور اس سے آپ کا گلا گھونٹتے ہوئے اسے سختی سے دبایا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے اس لعین کو آپ سے ہٹایا اور فرمایا: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة غافر: 28] ”کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے پاس اپنے رب کی طرف سے دلائل بھی لایا ہے۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3678]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة