🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب نواقض الوضوء
وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 62
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: کان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على عهده ينتظرون العشاء،‏‏‏‏ حتى تخفق رؤوسهم،‏‏‏‏ ثم يصلون ولا يتوضأون. أخرجه أبو داود،‏‏‏‏ وصححه الدارقطني،‏‏‏‏ وأصله في مسلم.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عہدرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز عشاء کا اتنا انتظار کرتے کہ غلبہ نیند کی وجہ سے ان کے سر جھک جاتے۔ مگر وہ ازسر نو وضو کئے بغیر نماز پڑھ لیتے۔
ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ دارقطنی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور اس کی اصل مسلم میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 62]
«عَنْ» سے – «أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ» انس بن مالک – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «كَانَ» تھے – «أَصْحَابُ» صحابہ – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «عَلَى عَهْدِهِ» آپ کے زمانے میں – «يَنْتَظِرُونَ» وہ انتظار کرتے تھے – «الْعِشَاءَ» عشاء کا – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «تَخْفِقَ» جھک جاتے تھے – «رُءُوسُهُمْ» ان کے سر – «ثُمَّ» پھر – «يُصَلُّونَ» وہ نماز پڑھتے تھے – «وَلَا يَتَوَضَّأُونَ» اور وہ (نئے سرے سے) وضو نہیں کرتے تھے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا ہے – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي» میں (ہے) – «مُسْلِمٍ» (صحیح) مسلم۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ کے عہد مبارک میں عشاء (کی نماز) کا انتظار کرتے تھے یہاں تک کہ (نیند کے غلبے سے) ان کے سر جھکنے لگتے، پھر وہ نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے، دارقطنی نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور اس کی اصل مسلم میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 62]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في الوضوء من النوم، حديث:200، والدارقطني:1 / 131، ومسلم، الصلاة، باب الدليل علي أن نوم الجالس لا ينقض الوضوء، حديث:376.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 63
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: جاءت فاطمة بنت أبي حبيش إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقالت: يا رسول الله! إني امرأة أستحاض فلا أطهر،‏‏‏‏ أفأدع الصلاة؟ قال: «‏‏‏‏لا،‏‏‏‏ إنما ذلك عرق وليس بحيض،‏‏‏‏ فإذا أقبلت حيضتك فدعي الصلاة،‏‏‏‏ وإذا أدبرت فاغسلي عنك الدم ثم صلي» .‏‏‏‏ متفق عليه. وللبخاري: «‏‏‏‏ثم توضأي لكل صلاة» .‏‏‏‏ وأشار مسلم إلى أنه حذفها عمدا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں ایسی عورت ہوں جو ہمیشہ استخاضہ کے خون میں مبتلا رہتی ہوں، پاک ہوتی ہی نہیں۔ کیا ایسی حالت میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں، یہ تو ایک رگ ہے (جو پھٹ جاتی ہے اور خون بہتا رہتا ہے) حیض کا خون نہیں ہے۔ ہاں جب ایام حیض شروع ہوں تو نماز کو چھوڑ دو اور جب یہ ایام پورے ہو جائیں تو خون دھو کر نماز پڑھو۔“ (بخاری و مسلم) اور بخاری میں مزید یہ الفاظ ہیں ”پھر ہر نماز کے لئے وضو کرو“۔ مسلم نے اشارہ کیا ہے کہ اسے انہوں نے عمداً چھوڑا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 63]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» انہوں نے کہا: – «جَاءَتْ» آئیں – «فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ» فاطمہ بنت ابی حبیش – «إِلَى النَّبِيِّ» نبی کی طرف (پاس) – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «فَقَالَتْ» تو انہوں نے کہا: – «يَا» اے – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول! – «إِنِّي» بیشک میں – «امْرَأَةٌ» ایک عورت ہوں – «أُسْتَحَاضُ» مجھے استحاضہ (بیماری کا خون) آتا ہے – «فَلَا أَطْهُرُ» پس میں پاک نہیں ہوتی – «أَفَأَدَعُ» تو کیا میں چھوڑ دوں – «الصَّلَاةَ» نماز؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «لَا» نہیں – «إِنَّمَا» درحقیقت – «ذَلِكَ» یہ – «عِرْقٌ» ایک رگ (کا خون) ہے – «وَلَيْسَ» اور نہیں ہے – «بِحَيْضٍ» حیض – «فَإِذَا» پس جب – «أَقْبَلَتْ» آئے – «حَيْضَتُكِ» تمہارا حیض – «فَدَعِي» تو چھوڑ دو – «الصَّلَاةَ» نماز – «وَإِذَا» اور جب – «أَدْبَرَتْ» وہ پیٹھ پھیرے (ختم ہو جائے) – «فَاغْسِلِي» تو دھو لو – «عَنْكِ» اپنے آپ سے – «الدَّمَ» خون – «ثُمَّ» پھر – «صَلِّي» نماز پڑھو۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق کیا گیا ہے۔ – «وَلِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری کے لیے (کی روایت میں) ہے: – «ثُمَّ» پھر – «تَوَضَّئِي» وضو کرو – «لِكُلِّ صَلَاةٍ» ہر نماز کے لیے۔ – «وَأَشَارَ» اور اشارہ کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «إِلَى» طرف – «أَنَّهُ» کہ بیشک انہوں نے – «حَذَفَهَا» اسے حذف کیا ہے – «عَمْدًا» جان بوجھ کر۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: فاطمہ بنت ابی حبیش نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ آتا ہے اور میں پاک نہیں ہوتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے اور حیض نہیں ہے۔ پس جب تمہارا حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب وہ ختم ہو جائے تو اپنے جسم سے خون دھو لو اور پھر نماز پڑھو۔“ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اور بخاری کی روایت میں یہ ہے: ”پھر ہر نماز کے لیے وضو کرو۔“ اور امام مسلم نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ انہوں نے اس (جملے) کو جان بوجھ کر حذف کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 63]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحيض، باب غسل الدم، حديث:228، 320، ومسلم، الحيض، باب المستحاضة و غسلها وصلاتها، حديث:333، 334.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 64
وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: كنت رجلا مذاء فأمرت المقداد أن يسأل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم،‏‏‏‏ فسأله فقال: «‏‏‏‏فيه الوضوء» .‏‏‏‏ متفق عليه،‏‏‏‏ واللفظ للبخاري.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کثرت سے مذی کے خارج ہونے کا مریض تھا۔ میں نے مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کریں۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا (کہ اس کی وجہ سے وضو کرنا ہو گا یا غسل جنابت؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایسی حالت میں وضو ہی ہے۔“ (بخاری و مسلم) البتہ یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 64]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ» علی بن ابی طالب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «كُنْتُ» تھا میں – «رَجُلًا» ایک آدمی – «مَذَّاءً» جسے بہت مذی آتی تھی – «فَأَمَرْتُ» تو میں نے حکم دیا (کہا) – «الْمِقْدَادَ» مقداد کو – «أَنْ يَسْأَلَ» کہ وہ پوچھیں – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «فَسَأَلَهُ» تو انہوں نے آپ سے پوچھا – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «فِيهِ» اس میں – «الْوُضُوءُ» وضو (واجب) ہے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق کیا گیا ہے – «وَاللَّفْظُ» اور یہ الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔
اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک ایسا آدمی تھا جسے مذی بہت آتی تھی، تو میں نے مقداد کو کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھیں، پس انہوں نے آپ سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں وضو (واجب) ہے۔“ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 64]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب من استحيا فأمر غيره بالسؤال، حديث:132، ومسلم، الحيض، باب المذي، حديث:303.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 65
وعن عائشة رضي الله عنها،‏‏‏‏: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قبل بعض نسائه ثم خرج إلى الصلاة ولم يتوضأ. أخرجه أحمد وضعفه البخاري.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی اہلیہ کا بوسہ لیا اور نماز کے لئے نکل گئے اور وضو نہیں فرمایا۔ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 65]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» بیشک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «قَبَّلَ» آپ نے بوسہ لیا – «بَعْضَ» بعض – «نِسَائِهِ» اپنی ازواج کا – «ثُمَّ» پھر – «خَرَجَ» آپ نکلے – «إِلَى الصَّلَاةِ» نماز کی طرف – «وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» اور آپ نے وضو نہیں کیا۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا ہے – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَضَعَّفَهُ» اور اسے ضعیف قرار دیا ہے – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات کا بوسہ لیا، پھر آپ نماز کے لیے تشریف لے گئے اور آپ نے وضو نہیں کیا۔ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 65]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد: 6 /210، والترمذي، الطهارة، حديث: 86، وله شاهد حسن عند البزار(انظر نصب الراية:1 / 74).»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 66
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا فأشكل عليه: أخرج منه شيء أم لا؟ فلا يخرجن من المسجد،‏‏‏‏ حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا» .‏‏‏‏ أخرجه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں ہوا کی حرکت محسوس کرے اور فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے کہ آیا پیٹ سے کوئی چیز خارج ہوئی ہے یا نہیں تو ایسی صورت میں (وضو کرنے کیلئے) وہ مسجد سے باہر نہ جائے، تاوقتیکہ (یقین نہ ہو جائے) ہوا کے خارج ہونے کی آواز یا بدبو سے محسوس کرے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 66]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «إِذَا» جب – «وَجَدَ» پائے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فِي» میں – «بَطْنِهِ» اپنے پیٹ – «شَيْئًا» کچھ (گڑگڑاہٹ) – «فَأَشْكَلَ» پھر وہ شک میں پڑ جائے – «عَلَيْهِ» اس پر – «أَخَرَجَ» کیا نکلا ہے – «مِنْهُ» اس سے – «شَيْءٌ» کچھ – «أَمْ» یا – «لَا» نہیں؟ – «فَلَا يَخْرُجَنَّ» تو وہ ہرگز نہ نکلے – «مِنَ» سے – «الْمَسْجِدِ» مسجد – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يَسْمَعَ» وہ سن لے – «صَوْتًا» آواز – «أَوْ» یا – «يَجِدَ» وہ پا لے (محسوس کرے) – «رِيحًا» بو۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں کچھ (گڑبڑ) محسوس کرے اور اسے شک ہو جائے کہ اس سے کوئی چیز (ہوا) خارج ہوئی ہے یا نہیں؟ تو وہ مسجد سے ہرگز نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سن لے یا بو محسوس کر لے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 66]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحيض، باب الدليل علي أن من تيقن الطهارة ثم شك في الحدث...، حديث:362.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 67
وعن طلق بن علي رضي الله عنه قال: قال رجل: مسست ذكري أو قال: الرجل يمس ذكره في الصلاة أعليه الوضوء؟ فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا إنما هو بضعة منك» .‏‏‏‏ أخرجه الخمسة،‏‏‏‏ وصححه ابن حبان،‏‏‏‏ وقال ابن المديني: هو أحسن من حديث بسرة.
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے کہا میں نے اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگایا ہے یا یوں کہا کہ ایک آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگاتا ہے تو کیا اسے نئے سرے سے وضو کرنا چاہیئے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں، وہ تو تیرے اپنے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔
اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔“ ابن مدینی کہتے ہیں بسرہ کی حدیث سے یہ حدیث بہت بہتر ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 67]
«وَعَنْ» اور سے – «طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ» طلق بن علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «قَالَ» کہا – «رَجُلٌ» ایک آدمی نے: – «مَسَسْتُ» میں نے چھوا – «ذَكَرِي» اپنی شرمگاہ کو – «أَوْ» یا – «قَالَ» اس نے کہا: – «الرَّجُلُ» (کوئی) آدمی – «يَمَسُّ» چھو لیتا ہے – «ذَكَرَهُ» اپنی شرمگاہ کو – «فِي» میں – «الصَّلَاةِ» نماز – «أَعَلَيْهِ» تو کیا اس پر – «الْوُضُوءُ» وضو (واجب) ہے؟ – «فَقَالَ» تو فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی نے: – «لَا» نہیں – «إِنَّمَا» درحقیقت – «هُوَ» وہ – «بَضْعَةٌ» ایک ٹکڑا (حصہ) ہے – «مِنْكَ» تجھ میں سے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) ہے – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا ہے – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «وَقَالَ» اور کہا – «ابْنُ الْمَدِينِيِّ» ابن المدینی نے: – «هُوَ» یہ – «أَحْسَنُ» زیادہ بہتر ہے – «مِنْ» سے – «حَدِيثِ» حدیث – «بُسْرَةَ» بسرہ۔
اور سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے عرض کیا: میں نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا ہے، یا اس نے یوں کہا: کوئی آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو کیا اس پر وضو واجب ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ تو بس تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے، اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور ابن المدینی نے فرمایا: یہ بسرہ کی حدیث سے زیادہ بہتر ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 67]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب الرخصة في ذلك، حديث: 182، والترمذي، الطهارة، حديث:85، والنسائي، الطهارة، حديث: 165، وابن ماجه، الطهارة، حديث: 483، وأحمد:4 / 23، وابن حبان(الموارد). حديث:207، 209، (الإحسان): 2 /223، حديث:1116 وقال، ص: 224: "خبر طلق بن علي الذي ذكرناه خبرمنسوخ، لأن طلبق بن علي، كان قدومه علي النبي صلي الله عليه وسلم أول سنةٍ من سني الهجرةحيث كان المسلمون يبنون مسجد رسول الله صلي الله عليه وسلم بالمدينة....."»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 68
وعن بسرة بنت صفوان رضي الله عنها: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من مس ذكره فليتوضأ» .‏‏‏‏ أخرجه الخمسة،‏‏‏‏ وصححه الترمذي وابن حبان،‏‏‏‏ وقال البخاري: هو أصح شيء في هذا الباب.
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگایا اسے وضو کرنا چاہیئے۔“
اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ امام بخاری کی رائے یہ ہے کہ اس باب میں یہ صحیح ترین حدیث ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 68]
«وَعَنْ» اور سے – «بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ» بسرہ بنت صفوان – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو: – «أَنَّ» بیشک – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «قَالَ» فرمایا: – «مَنْ» جو – «مَسَّ» چھوئے – «ذَكَرَهُ» اپنی شرمگاہ کو – «فَلْيَتَوَضَّأْ» تو چاہیے کہ وہ وضو کرے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا ہے – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا ہے – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے – «وَقَالَ» اور کہا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے: – «هُوَ» یہ – «أَصَحُّ» سب سے صحیح – «شَيْءٍ» چیز (حدیث) ہے – «فِي» میں – «هَذَا» اس – «الْبَابِ» باب۔
اور سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وضو کرے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور بخاری نے فرمایا: اس باب میں یہ سب سے صحیح حدیث ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 68]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب الوضوء من مس الذكر، حديث:181، والترمذي، الطهارة، حديث: 82، والنسائي، الطهارة، حديث: 163، 164، وابن ماجه، الطهارة، حديث:479، وأحمد: 6 / 406، وابن حبان(الموارد)، حديث:211، 214.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 69
وعن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من أصابه قيء أو رعاف أو قلس أو مذي،‏‏‏‏ فلينصرف فليتوضأ،‏‏‏‏ ثم ليبن على صلاته،‏‏‏‏ وهو في ذلك لا يتكلم» ‏‏‏‏. أخرجه ابن ماجه،‏‏‏‏ وضعفه أحمد وغيره.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کو نماز میں قے آ جائے یا نکسیر پھوٹ پڑے یا پیٹ کے اندر کی چیز منہ کے راستہ سے باہر آ جائے یا مذی کا خروج ہو جائے تو اسے نماز سے نکل کر وضو کرنا چاہیئے اور جہاں سے نماز چھوڑی تھی اسی پر بنا کر لے۔ بشرطیکہ اس دوران میں اس نے گفتگو نہ کی ہو۔“
ابن ماجہ نے اسے روایت کیا ہے اور احمد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 69]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» بیشک – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «قَالَ» فرمایا: – «مَنْ» جسے – «أَصَابَهُ» لاحق ہو (آ جائے) – «قَيْءٌ» قے (الٹی) – «أَوْ» یا – «رُعَافٌ» نکسیر (ناک سے خون آنا) – «أَوْ» یا – «قَلَسٌ» منہ بھر کر قے آنا – «أَوْ» یا – «مَذْيٌ» مذی – «فَلْيَنْصَرِفْ» تو چاہیے کہ وہ لوٹ جائے – «فَلْيَتَوَضَّأْ» پھر چاہیے کہ وضو کرے – «ثُمَّ» پھر – «لِيَبْنِ» چاہیے کہ وہ بنا کرے (بقیہ نماز پوری کرے) – «عَلَى» پر – «صَلَاتِهِ» اپنی (اسی) نماز کے – «وَهُوَ» اور وہ – «فِي» میں – «ذَلِكَ» اس دوران – «لَا يَتَكَلَّمُ» بات نہ کرے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا ہے – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «وَضَعَّفَهُ» اور اسے ضعیف قرار دیا ہے – «أَحْمَدُ» احمد – «وَغَيْرُهُ» اور ان کے علاوہ نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جسے قے آ جائے یا نکسیر پھوٹ پڑے یا قلس (منہ بھر کر قے) آ جائے یا مذی نکل آئے، تو وہ لوٹ جائے اور وضو کرے، پھر اپنی (اسی) نماز پر بنا کرے (بقیہ نماز پڑھے)، اور وہ اس دوران کوئی بات نہ کرے۔“ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور احمد وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 69]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، إقامة الصلوات والسنة فيها، باب ما جاء في البناء علي الصلاة، حديث: 1221، وقال البوصيري: "هذا إسناد ضعيف، لأنه من رواية إسماعيل(بن عياش) عن الحجازيين وهي ضعيفة".»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 70
وعن جابر بن سمرة رضي الله عنه أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وآله وسلم:أتوضأ من لحوم الغنم؟ قال: «‏‏‏‏إن شئت» ‏‏‏‏ قال: أتوضأ من لحوم الإبل؟ قال: «‏‏‏‏نعم» . أخرجه مسلم.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، کیا میں بکری کا گوشت کھاؤں تو بعد میں وضو کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر دل چاہے تو کر لو۔“ اس شخص نے پھر عرض کیا اور اونٹ کے گوشت سے؟ فرمایا ”اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنا چاہیئے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 70]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ» جابر بن سمرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» بیشک – «رَجُلًا» ایک آدمی نے – «سَأَلَ» پوچھا – «النَّبِيَّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «أَتَوَضَّأُ» کیا میں وضو کروں – «مِنْ» سے – «لُحُومِ» گوشت – «الْغَنَمِ» بکری کے؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «إِنْ» اگر – «شِئْتَ» تم چاہو – «قَالَ» اس نے کہا: – «أَتَوَضَّأُ» کیا میں وضو کروں – «مِنْ» سے – «لُحُومِ» گوشت – «الْإِبِلِ» اونٹ کے؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «نَعَمْ» ہاں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: کیا میں بکری کا گوشت کھانے سے وضو کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو۔“ اس نے پوچھا: کیا میں اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 70]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحيض، باب الوضوء من لحوم الإبل، حديث: 360.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 71
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من غسل ميتا فليغتسل،‏‏‏‏ ومن حمله فليتوضأ» .‏‏‏‏ أخرجه أحمد والنسائي والترمذي،‏‏‏‏ وحسنه،‏‏‏‏ وقال أحمد: لا يصح في هذا الباب شيء.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے میت کو غسل دیا وہ خود بھی غسل کرے اور جس نے میت کو اٹھایا وہ وضو کرے۔“
اس حدیث کو احمد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور احمد کا قول ہے کہ اس باب میں کوئی بھی حدیث صحیح ثابت نہیں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 71]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «مَنْ» جو – «غَسَّلَ» غسل دے – «مَيِّتًا» کسی مردے کو – «فَلْيَغْتَسِلْ» تو چاہیے کہ وہ غسل کرے – «وَمَنْ» اور جو – «حَمَلَهُ» اسے اٹھائے – «فَلْيَتَوَضَّأْ» تو چاہیے کہ وہ وضو کرے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) ہے – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن قرار دیا ہے – «وَقَالَ» اور کہا – «أَحْمَدُ» احمد نے: – «لَا يَصِحُّ» صحیح نہیں ہے – «فِي» میں – «هَذَا» اس – «الْبَابِ» باب – «شَيْءٌ» کوئی چیز (حدیث)۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مردے کو غسل دے تو اسے چاہیے کہ وہ غسل کرے، اور جو اسے اٹھائے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔“ اسے احمد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور (ترمذی نے) اسے حسن قرار دیا ہے، اور امام احمد نے فرمایا: اس باب میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 71]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الجنائز، باب ما جاء في الغسل من غسل الميت، حديث: 993، وأحمد: 2 / 280، 433، وله طريق حسن عند أبي داود، حديث: 3162، وغيره والنسائي: لم أجده.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں