🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. باب صفة الصلاة
نماز کی صفت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 240
وعن مالك بن الحويرث رضي الله عنه: أنه رأى النبي صلى الله عليه وآله وسلم يصلي فإذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي قاعدا. رواه البخاري.
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا فرماتے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی وتر (رکعت) پڑھتے تو (پہلے تھوڑا) بیٹھتے پھر سیدھا کھڑے ہو جاتے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 240]
تخریج الحدیث: «أجرجه البخاري، الأذان، باب من استوي قاعدًا في وترمن صلاته ثم نهض، حديث:823.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 241
وعن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قنت شهرا بعد الركوع يدعو على أحياء من العرب ثم تركه. متفق عليه. ولأحمد والدارقطني نحوه من وجه آخر وزاد:"وأما في الصبح فلم يزل يقنت حتى فارق الدنيا".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا مہینہ رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، پھر اسے چھوڑ دیا۔ (بخاری و مسلم) احمد اور دارقطنی وغیرہ نے ایک اور طریق سے اسے روایت کیا ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ صبح کی نماز میں دعائے قنوت تا دم زیست ہمیشہ پڑھتے رہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 241]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوتر، باب القنوت قبل الركوع وبعده، حديث: 1003، ومسلم، المساجد، باب استحباب القنوت في جميع الصلوات، حديث:677، وحديث "حتي فارق الدنيا" أخرجه أحمد:3 /162، والدار قطني:2 /39، حديث:1677، وسنده ضعيف* أبوجعفر الرازي ضعيف فيما يرويه عن الربيع بن أنس، وهذا منه.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 242
وعنه رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم: كان لا يقنت إلا إذا دعا لقوم أو دعا على قوم.صححه ابن خزيمة.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے حق میں یا کسی کے لیے بد دعا فرماتے تو اس صورت میں قنوت پڑھتے ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔ اس کو ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 242]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة: 1 /314، حديث:620* سعيد بن أبي عروبة وقتادة عنعنا.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 243
وعن سعد بن طارق الأشجعي رضي الله عنه قال: قلت لأبي: يا أبت إنك قد صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان وعلي أفكانوا يقنتون في الفجر؟ قال: أي بني محدث. رواه الخمسة إلا أبا داود.
سیدنا سعد بن طارق اشجعی رحمہ اللہ سے مروی ہے (کہتے ہیں کہ) میں نے اپنے والد سے استفسار کیا کہ ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ کیا یہ سب نماز فجر میں قنوت پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ بیٹا! یہ نئی بات ہے۔ اس کو ابوداؤد کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 243]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الصلاة، باب ما جاء في ترك القنوت، حديث:402، وقال:"هذا حديث حسن صحيح"، والنسائي، التطبيق، حديث:1080، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1241، وأحمد:3 /472 و6 /394.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 244
وعن الحسن بن علي رضي الله عنهما أنه قال: علمني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كلمات أقولهن في قنوت الوتر: «‏‏‏‏اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» .‏‏‏‏ رواه الخمسة. وزاد الطبراني والبيهقي: «‏‏‏‏ولا يعز من عاديت» .‏‏‏‏ زاد النسائي من وجه آخر في آخره: «‏‏‏‏وصلى الله تعالى على النبي» .‏‏‏‏ وللبيهقي عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يعلمنا دعاء ندعو به في القنوت من صلاة الصبح. وفي سنده ضعف.
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات ایسے سکھائے ہیں جنہیں میں وتروں میں (دعائے قنوت کے طور پر) پڑھتا ہوں «اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرے میں شامل فرما جنھیں تو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت دے کر ان میں شامل فرما دے جنھیں تو نے عافیت بخشی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست قرار دیا ہے ان میں مجھے بھی شامل کر کے اپنا دوست بنا لے۔ جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت نازل فرما اور جس برائی کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس سے مجھے محفوظ رکھ۔ یقیناً فیصلہ تو ہی صادر فرماتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا۔ آقا۔ ہمارے پروردگار! تو ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے۔
اسے پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ طبرانی اور بیہقی نے، «ولا يعز من عاديت» کا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔ نیز نسائی نے ایک دوسرے طریق سے اس دعا کے آخر میں «وصلى الله تعالى على النبي» کا بھی اضافہ روایت کیا ہے۔ اور بیہقی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دعا سکھاتے تھے جسے ہم صبح کی نماز میں دعائے قنوت کی صورت میں مانگتے تھے۔ اس کی سند میں ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 244]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب القنوت في الوتر، حديث:1425، والترمذي، الوتر، حديث:464، والنسائي، قيام الليل، حديث:1746، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1178، وأحمد:1 /199، قوله: "ولا يعز من عاديت" أخرجه البيهقي:2 /209، والطبراني في الكبير:3 /73، حديث:2701، وأبوداود: الوتر، حديث: 1425، وقوله:"صلي الله علي النبي" أخرجه النسائي، قيام اللّيل، حديث:1747 وزاد" محمد" وسنده ضعيف، وثبت، موقوفًا عن أبي بن كعب عند ابن خزيمة:2 /155، حديث:1100، وحديث ابن عباس أخرجه البيهقي:2 /210 وسنده ضعيف، ابن جريج عنعن.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 245
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه» . أخرجه الثلاثة،‏‏‏‏ وهو أقوى من حديث وائل بن حجر: رأيت النبي صلى الله عليه وآله وسلم: إذا سجد وضع ركبتيه قبل يديه. أخرجه الأربعة. فإن للأول شاهدا من حديث ابن عمر رضي الله تعالى عنه صححه ابن خزيمة وذكره البخاري معلقا موقوفا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے اور گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے۔ (نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ) اور یہ حدیث وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے مروی اس حدیث سے قوی تر ہے جس میں ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ میں جاتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے زمین پر رکھتے تھے۔
اس کو چاروں یعنی ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ پہلی حدیث کا شاہد ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔ ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیقا موقوف بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 245]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب كيف يضع ركبتيه قبل يديه، حديث:840، والترمذي، الصلاة، حديث:269، والنسائي، التطبيق، حديث:1092، وحديث وائل: "وضع ركبتيه قبل يديه" أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث: 838، والترمذي، الصلاة، حديث:268، والنسائي، التطبيق، حديث:1090، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:882، وسنده ضعيف، شريك القاضي عنعن، وحديث ابن عمر ذكره البخاري معلقًا موقوفًا، الأذان، قبل حديث:803، وابن خزيمة:1 /318، 319، حديث:627.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 246
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: كان إذا قعد للتشهد وضع يده اليسرى على ركبتيه اليسرى واليمنى على اليمنى وعقد ثلاثا وخمسين وأشار بإصبعه السبابة.رواه مسلم. وفي رواية له: وقبض أصابعه كلها وأشار بالتي تلي الإبهام.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد کیلئے بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر دایاں ہاتھ اپنے دائیں گھٹنے پر رکھتے اور ترپن کی گرہ دیتے (یعنی تریپن کا عدد بناتے) اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کرتے۔ (مسلم) اور ایک روایت میں ہے جسے مسلم، ہی نے روایت کیا ہے کہ اپنی تمام انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی انگلی سے اشارہ کرتے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 246]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب صفة الجلوس في الصلاة، حديث:580.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 247
وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: التفت إلينا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏إذا صلى أحدكم فليقل: التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ثم ليتخير من الدعاء أعجبه إليه فيدعو» .‏‏‏‏ متفق عليه واللفظ للبخاري. وللنسائي: كنا نقول قبل أن يفرض علينا التشهد. ولأحمد: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم علمه التشهد وأمره أن يعلمه الناس. ولمسلم عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يعلمنا التشهد: «‏‏‏‏التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله» إلى آخره.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف توجہ فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو تشہد میں یوں کہے۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام سلامیاں اللہ ہی کیلئے ہیں اور نمازیں پاکیزیاں بھی (زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ کے لئے ہیں) اے نبی! سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت (معبود) نہیں اور اس کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر اسے دعا کا انتخاب کرنا چاہیئے کہ جو اسے سب سے اچھی لگے وہ مانگے۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں اور نسائی میں ہے کے ہم تشہد فرض ہونے سے پہلے کہا کرتے تھے اور احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تشہد سکھایا اور حکم دیا کہ لوگوں کو اسے سکھاؤ اور مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے تھے (وہ اس طرح تھا) «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله» إلى آخره۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 247]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب التشهد فلي الآخرة، حديث:831، ومسلم، الصلاة، باب التشهد في الصلاة، حديث:402، والترمذي، الصلاة، حديث:289، والنسائي، السهو، حديث:1278، وأحمد:1 /376، وحديث ابن عباس أخرجه مسلم، الصلاة، حديث:403.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 248
وعن فضالة بن عبيد رضي الله عنه قال: سمع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رجلا يدعو في صلاته ولم يحمد الله ولم يصل على النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال:«‏‏‏‏عجل هذا» ‏‏‏‏ ثم دعاه فقال: «‏‏‏‏إذا صلى أحدكم فليبدأ بتحميد ربه والثناء عليه ثم يصلي على النبي صلى الله عليه وآله وسلم ثم يدعو بما شاء» ‏‏‏‏ رواه أحمد والثلاثة وصححه الترمذي وابن حبان والحاكم.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنی نماز میں دعا کرتے سنا۔ نہ تو اس نے اللہ کی حمد کی اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے جلدی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلایا اور سمجھایا کہ تم میں سے کوئی جب دعا مانگنے لگے تو پہلے اسے اپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہیئے پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔
اسے احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 248]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الدعاء، حديث:1481، والترمذي، الدعوات، حديث:3476-3477، والنسائي، السهو حديث:1285، وأحمد:6 /18، وابن حبان (الإحسان):3 /208، حديث:1957، والحاكم:1 /230.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 249
وعن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه قال: قال بشير بن سعد: يا رسول الله! أمرنا الله أن نصلي عليك،‏‏‏‏ فكيف نصلي عليك؟ فسكت ثم قال:«‏‏‏‏قولوا: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد،‏‏‏‏ والسلام كما علمتم» . رواه مسلم. وزاد ابن خزيمة: فكيف نصلي عليك إذا نحن صلينا عليك في صلاتنا؟.
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے لہذا ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں؟ تھوڑے سے توقف کے بعد فرمایا اس طرح کہا کرو «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے رحمت نازل فرمائی ابراھیم علیہ السلام پر اور برکت نازل فرما محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی ابراھیم علیہ السلام پر دونوں جہانوں میں۔ یقیناً تو ستودہ صفات ہے اور بزرگ ہے اور رہا سلام تو اس کا علم تمہیں سکھلا دیا گیا ہے۔ (مسلم) اور ابن خزیمہ نے اس میں اتنا اضافہ نقل کیا ہے کہ ہم جب نماز پڑھ رہے ہوں تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کس طرح پڑھیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 249]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وسلم بعد التشهد، حديث:405، وابن خزيمة:1 /351، حديث:711.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں