بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب صفة الصلاة
نماز کی صفت کا بیان
حدیث نمبر: 220
وعن نعيم المجمر قال: صليت وراء أبي هريرة رضي الله تعالى عنه. فقرأ بسم الله الرحمن الرحيم، ثم قرأ بأم القران حتى إذا بلغ" ولا الضالين" قال:"آمين" ويقول كلما سجد وإذا قام من الجلوس: الله أكبر ثم يقول إذا سلم: والذي نفسي بيده إني لأشبهكم صلاة برسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. رواه النسائي وابن خزيمة.
سیدنا نعیم المجمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز پڑھی تو انہوں نے پہلے «بسم الله» تلاوت فرمائی پھر بعدازاں «ام القران» (سورۃ «فاتحه») پڑھی تاآنکہ آپ «ولا الضالين» پر پہنچ گئے اور «آمين» کہی۔ راوی کا بیان ہے کہ جب سجدہ کیا اور جب بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوئے تو «الله اكبر» کہتے۔ پھر سلام پھیر کر فرمایا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! یقیناً میں تم سے نماز کی ادائیگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت مشابہ ہوں۔ (میری نماز رسول اللہ کی نماز کے بہت مشابہ ہے) (نسائی، ابن خزیمہ) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 220]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي، الافتتاح، باب قراءة بسم الله الرحمن الرحيم، حديث:906، وابن خزيمة:1 /251، حديث:499.»
حدیث نمبر: 221
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا قرأتم الفاتحة فاقرءوا: بسم الله الرحمن الرحيم فإنها إحدى آياتها» . رواه الدارقطني وصوب وقفه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم سورۃ «فاتحه» پڑھو تو «بسم الله الرحمن الرحيم» بھی ساتھ ہی پڑھا کرو، اس لئے کہ وہ بھی سورۃ «فاتحه» کی ایک آیت ہی ہے۔ “ دارقطنی نے اس کا موقوف ہونا درست قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 221]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:1 /312، وللحديث شواهد معنوية.»
حدیث نمبر: 222
وعنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا فرغ من قراءة أم القران رفع صوته وقال: «آمين» . رواه الدارقطني وحسنه. والحاكم وصححه. ولأبي داود والترمذي من حديث وائل بن حجر نحوه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «ام القران» (سورۃ «فاتحه» ) کی قرآت سے فارغ ہوتے تو آمین بلند آواز سے کہتے۔
اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن کہا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے نیز ابوداؤد اور ترمذی میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 222]
اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن کہا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے نیز ابوداؤد اور ترمذی میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 222]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:1 /335، وصححه الحاكم علي شرط الشيخين:1 /223، ووافقه الذهبي، وسنده حسن، وللحديث شواهد، وحديث وائل أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:932، والترمذي، الصلاة، حديث:248 وسنده صحيح.»
حدیث نمبر: 223
وعن عبد الله بن أبي أوفى رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: إني لا أستطيع أن آخذ من القرآن شيئا فعلمني ما يجزئني عنه. فقال: «قل: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» الحديث.رواه أحمد وأبو داود والنسائي، وصححه ابن حبان والدارقطني والحاكم.
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں قرآن میں سے کچھ بھی یاد نہیں رکھ سکتا۔ لہذا مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیں جو (میری نماز کے لئے) اس کی جگہ کافی ہو جائے۔ فرمایا ” «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» پڑھ لیا کرو۔“
الحدیث اس روایت کو احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور دارقطنی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 223]
الحدیث اس روایت کو احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور دارقطنی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 223]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب ما يجزيء الأمي والأعجمي من القراءة، حديث:832، والنسائي، الافتتاح، حديث:925، وأحمد:4 /353، 356، 382، وابن حبان(الإحسان):3 /148، حديث:1807، والحاكم:1 /241، صححه علي شرط البخاري، ووافقه الذهبي.»
حدیث نمبر: 224
وعن أبي قتادة رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي بنا فيقرأ في الظهر والعصر في الركعتين الأوليين بفاتحة الكتاب وسورتين ويسمعنا الآية أحيانا ويطول الركعة الأولى ويقرأ في الأخريين بفاتحة الكتاب. متفق عليه.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی رکعتوں میں سورۃ «فاتحه» اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور کبھی ہمیں کوئی آیت سنا بھی دیتے تھے۔ پہلی رکعت بھی لمبی کرتے تھے اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف «فاتحة الكتاب» پڑھتے تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 224]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب: يقرأ في الأخريين بفاتحة الكتاب، حديث: 776، ومسلم، الصلاة، باب القرءاة في الظهر والعصر، حديث:451.»
حدیث نمبر: 225
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: كنا نحزر قيام رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الظهر والعصر فحزرنا قيامه في الركعتين الأوليين من الظهر قدر: (الم تنزيل) السجدة. وفي الأخريين قدر النصف من ذلك. وفي الأوليين من العصر على قدر الأخريين من الظهر والأخريين على النصف من ذلك. رواه مسلم.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کا اندازہ لگایا کرتے تھے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعتوں میں کتنا قیام فرماتے تھے) ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں اتنا قیام فرماتے جتنی دیر میں سورۃ «الم السجدة» کی تلاوت کی جا سکے اور آخری دونوں رکعتوں میں پہلی دونوں سے نصف کے برابر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے برابر اور عصر کی آخری دونوں میں عصر کی پہلی دو رکعتوں سے نصف۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب القراءة في الظهر والعصر، حديث:452.»
حدیث نمبر: 226
وعن سليمان بن يسار قال: كان فلان يطيل الأوليين من الظهر ويخفف العصر ويقرأ في المغرب بقصار المفصل وفي العشاء بوسطه وفي الصبح بطواله. فقال أبو هريرة: ما صليت وراء أحد أشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من هذا. أخرجه النسائي بإسناد صحيح.
سیدنا سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ فلاں صاحب ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتے ہیں (ان میں قرآت لمبی کرتے ہیں) اور نماز عصر میں تخفیف کرتے ہیں اور نماز مغرب میں قصار مفصل (چھوٹی سورتیں) اور عشاء میں اوساط مفصل اور صبح کی نماز میں طوال مفصل پڑھتے ہیں۔ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے کسی کی امامت میں اس سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ نماز نہیں پڑھی۔ نسائی نے اسے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 226]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي، الافتتاح، باب القراءة في المغرب بقصار المفصل، حديث:984.»
حدیث نمبر: 227
وعن جبير بن مطعم رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقرأ في المغرب بالطور. متفق عليه.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورۃ «الطور» پڑھتے سنا ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب الجهر في المغرب، حديث:765، ومسلم، الصلاة، باب القراءة في الصبح، حديث:463.»
حدیث نمبر: 228
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقرأ في صلاة الفجر يوم الجمعة (الم تنزيل) السجدة , و (هل أتى على الإنسان) . متفق عليه وللطبراني من حديث ابن مسعود: يديم ذلك.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز نماز فجر کی پہلی رکعت میں «الم تنزيل السجدة» اور دوسری میں «هل أتى على الإنسان» (سورۃ «دهر») پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) اور طبرانی میں ابن مسعود سے مروی روایت میں ہے کہ ایسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کرتے تھے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 228]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجمعة، باب ما يقرأ في صلاة الفجر يوم الجمعة، حديث:891، ومسلم، الجمعة، باب ما يقرأ في يوم الجمعة، حديث:880، وحديث ابن مسعود أخرجه الطبراني في الصغير: 2 /44 وسنده ضعيف، وفيه من لم أعرفه، وقال الهيثمي: رجاله موثقون.»
حدیث نمبر: 229
وعن حذيفة رضي الله عنه قال: صليت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم فما مرت به آية رحمة إلا وقف عندها يسأل، ولا آية عذاب إلا تعوذ منها. أخرجه الخمسة، وحسنه الترمذي.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب ایسی آیت گذرتی جس میں رحمت الٰہی کا ذکر ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں وقفہ فرما کر رحمت طلب فرماتے اور جب آیت عذاب گزرتی تو وہاں ذرا وقفہ فرما کر اس سے پناہ مانگتے۔
اسے احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 229]
اسے احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 229]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب وضع اليدين علي ركبتين، حديث:871، والترمذي، الصلاة، حديث:262، والنسائي، قيام اليل، حديث:1665، وابن ماجه، إقامة الصلاة، حديث:888، وأحمد:6 /24، وأخرجه مسلم، صلاة المسافرين، حديث:772 مطولاً.»