بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب سجود السهو وغيره
سجود سہو وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 272
وعنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم سجد بالنجم. رواه البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «النجم» میں سجدہ تلاوت کیا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 272]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «سَجَدَ» نے سجدہ کیا – «بِالنَّجْمِ» سورۃ النجم میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور انہی (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ النجم میں سجدہ کیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 272]
اور انہی (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ النجم میں سجدہ کیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 272]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، سجود القرآن، باب سجود المسلمين مع المشركين، حديث:1071.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 273
وعن زيد بن ثابت رضي الله عنه قال: قرأت على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم النجم فلم يسجد فيها.متفق عليه.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو سورۃ «النجم» کی قرآت کی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ تلاوت نہیں کیا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 273]
«وَعَنْ» اور سے – «زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ» زید بن ثابت – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَرَأْتُ» میں نے پڑھی – «عَلَى رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے سامنے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «النَّجْمَ» سورۃ النجم – «فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا» تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم پڑھی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 273]
اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم پڑھی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 273]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، سجود القرآن، باب من قرأ السجدة ولم يسجد، حديث:1072، ومسلم، المساجد، باب سجود التلاوة، حديث:577.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 274
وعن خالد بن معدان رضي الله عنه قال: فضلت سورة الحج بسجدتين. رواه أبو داود في المراسيل. ورواه أحمد والترمذي موصولا من حديث عقبة بن عامر وزاد: فمن لم يسجدهما فلا يقرأهما. وسنده ضعيف.
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورۃ «الحج» کو دو سجدہ تلاوت کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے۔
اس کو ابوداؤد نے مراسیل میں ذکر کیا ہے۔ اور احمد اور ترمذی نے عتبہ بن عامر کی حدیث سے اسے موصول قرار دیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے جس نے اس سورۃ کے دونوں سجدے نہ کیے وہ اسے نہ پڑھے۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 274]
اس کو ابوداؤد نے مراسیل میں ذکر کیا ہے۔ اور احمد اور ترمذی نے عتبہ بن عامر کی حدیث سے اسے موصول قرار دیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے جس نے اس سورۃ کے دونوں سجدے نہ کیے وہ اسے نہ پڑھے۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 274]
«وَعَنْ» اور سے – «خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ» خالد بن معدان – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فُضِّلَتْ» فضیلت دی گئی – «سُورَةُ الْحَجِّ» سورۃ الحج کو – «بِسَجْدَتَيْنِ» دو سجدوں کے ساتھ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «فِي الْمَرَاسِيلِ» (کتاب) المراسیل میں۔ – «وَرَوَاهُ» اور اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «مَوْصُولًا» متصل سند سے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ» عقبہ بن عامر کی – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا: – «فَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا» پس جو یہ دونوں سجدے نہ کرے – «فَلَا يَقْرَأْهُمَا» تو وہ ان دونوں (آیات) کو نہ پڑھے۔ – «وَسَنَدُهُ» اور اس کی سند – «ضَعِيفٌ» ضعیف ہے۔
اور خالد بن معدان رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سورۃ الحج کو دو سجدوں کے ذریعے (دوسری سورتوں پر) فضیلت دی گئی ہے۔ اسے ابو داود نے المراسیل میں روایت کیا ہے۔ اور احمد اور ترمذی نے اسے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے: ”پس جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ ان (آیات) کو نہ پڑھے۔“ اور اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 274]
اور خالد بن معدان رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سورۃ الحج کو دو سجدوں کے ذریعے (دوسری سورتوں پر) فضیلت دی گئی ہے۔ اسے ابو داود نے المراسیل میں روایت کیا ہے۔ اور احمد اور ترمذی نے اسے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے: ”پس جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ ان (آیات) کو نہ پڑھے۔“ اور اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 274]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود في المراسيل، حديث:70 وسنده ضعيف لإرساله، وأحمد: 4 /151، والترمذي، الجمعة، حديث:578 من حديث عقبة بن عامر، وسنده حسن لذاته.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 275
وعن عمر رضي الله عنه قال: يا أيها الناس إنا نمر بالسجود فمن سجد فقد أصاب ومن لم يسجد فلا إثم عليه. رواه البخاري وفيه: إن الله تعالى لم يفرض السجود إلا أن نشاء. وهو في الموطأ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” لوگو! ہم آیات سجدہ سے گزرتے ہیں۔ جس نے سجدہ کیا اس نے درست کیا اور جس نے نہیں کیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ (بخاری) اور اسی میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا، مگر قاری اگر چاہے تو کر سکتا ہے۔ یہ ذکر موطا میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 275]
«وَعَنْ» اور سے – «عُمَرَ» عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «يَا أَيُّهَا النَّاسُ» اے لوگو! – «إِنَّا نَمُرُّ» بے شک ہم گزرتے ہیں – «بِالسُّجُودِ» سجدے (والی آیات) سے – «فَمَنْ سَجَدَ» پس جس نے سجدہ کیا – «فَقَدْ أَصَابَ» اس نے درست کیا – «وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْ» اور جس نے سجدہ نہ کیا – «فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى» بے شک اللہ تعالیٰ نے – «لَمْ يَفْرِضِ» فرض نہیں کیا – «السُّجُودَ» سجدے کو – «إِلَّا أَنْ نَشَاءَ» مگر یہ کہ ہم (خود) چاہیں۔ – «وَهُوَ» اور یہ – «فِي الْمُوَطَّإِ» موطا (امام مالک) میں ہے۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے لوگو! ہم سجدے والی آیات سے گزرتے ہیں، تو جس نے سجدہ کیا اس نے ٹھیک کیا اور جس نے سجدہ نہ کیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور اس میں ہے: ”اللہ تعالیٰ نے سجدہ (تلاوت) فرض نہیں کیا، سوائے اس کے کہ ہم (خود) چاہیں۔“ اور یہ روایت موطا میں بھی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 275]
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے لوگو! ہم سجدے والی آیات سے گزرتے ہیں، تو جس نے سجدہ کیا اس نے ٹھیک کیا اور جس نے سجدہ نہ کیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور اس میں ہے: ”اللہ تعالیٰ نے سجدہ (تلاوت) فرض نہیں کیا، سوائے اس کے کہ ہم (خود) چاہیں۔“ اور یہ روایت موطا میں بھی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 275]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، سجود القرآن، باب من رأي أن الله لم يوجب السجود، حديث:1077، ومالك في الموطأ:1 /206.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 276
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم يقرأ علينا القران فإذا مر بالسجدة كبر وسجد وسجدنا معه. رواه أبو داود بسند فيه لين.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تھے۔ جب آیت سجدہ پر سے گزرتے تو اللہ اکبر کہ کر سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی سجدہ کرتے۔
ابوداؤد نے اسے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 276]
ابوداؤد نے اسے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 276]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقْرَأُ عَلَيْنَا» ہمارے سامنے پڑھا کرتے تھے – «الْقُرْآنَ» قرآن – «فَإِذَا مَرَّ» پس جب گزرتے – «بِالسَّجْدَةِ» سجدے (والی آیت) سے – «كَبَّرَ» تو تکبیر کہتے – «وَسَجَدَ» اور سجدہ کرتے – «وَسَجَدْنَا مَعَهُ» اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «بِسَنَدٍ» ایسی سند کے ساتھ – «فِيهِ لِينٌ» جس میں کمزوری ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے سامنے قرآن پڑھا کرتے تھے، جب سجدے والی آیت سے گزرتے تو تکبیر کہہ کر سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے۔ اسے ابو داود نے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس میں کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 276]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے سامنے قرآن پڑھا کرتے تھے، جب سجدے والی آیت سے گزرتے تو تکبیر کہہ کر سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے۔ اسے ابو داود نے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس میں کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 276]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب في الرجل يسمع السجده وهو راكب، حديث:1413.* عبدالله بن عمر العمري ضعيف لكنه حسن الحديث عن نافع.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 277
وعن أبي بكرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا جاءه خبر يسره خر ساجدا لله. رواه الخمسة إلا النسائي.
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشخبری ملتی تو اللہ کے حضور سجدے میں گر پڑتے۔
نسائی کے علاوہ پانچوں نے اسے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 277]
نسائی کے علاوہ پانچوں نے اسے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 277]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي بَكْرَةَ» ابو بکرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ» (کا معمول) تھا – «إِذَا جَاءَهُ» جب آپ کے پاس آتی – «خَبَرٌ» کوئی خبر – «يَسُرُّهُ» جو آپ کو خوش کرتی – «خَرَّ» تو گر پڑتے – «سَاجِدًا» سجدہ کرتے ہوئے – «لِلَّهِ» اللہ کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں (ائمہ) نے – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے۔
اور سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کوئی خوش کن خبر پہنچتی تو آپ اللہ کے لیے سجدے میں گر پڑتے۔ اسے نسائی کے سوا پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 277]
اور سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کوئی خوش کن خبر پہنچتی تو آپ اللہ کے لیے سجدے میں گر پڑتے۔ اسے نسائی کے سوا پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 277]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في سجود الشكر، حديث:2774، والترمذي، السير، حديث:1578، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1394، وأحمد:5 /45.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 278
وعن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه قال: سجد النبي صلى الله عليه وآله وسلم فأطال السجود ثم رفع رأسه فقال: «إن جبريل أتاني فبشرني فسجدت لله شكرا» . رواه أحمد وصححه الحاكم.
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھا کر فرمایا ”ابھی جبرائیل علیہ السلام ایک خوشخبری لے کر میرے پاس آئے تو وہ مژدہ سن کر میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں سجدہ شکر ادا کیا۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 278]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ» عبدالرحمن بن عوف – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَجَدَ» سجدہ کیا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَأَطَالَ» تو لمبا کیا – «السُّجُودَ» سجدے کو – «ثُمَّ رَفَعَ» پھر اٹھایا – «رَأْسَهُ» اپنا سر – «فَقَالَ» اور فرمایا: – «إِنَّ جِبْرِيلَ» بے شک جبریل – «أَتَانِي» میرے پاس آئے – «فَبَشَّرَنِي» اور مجھے خوشخبری دی – «فَسَجَدْتُ» تو میں نے سجدہ کیا – «لِلَّهِ» اللہ کے لیے – «شُكْرًا» شکر ادا کرتے ہوئے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”جبریل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور مجھے خوشخبری دی تو میں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ کیا۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 278]
اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”جبریل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور مجھے خوشخبری دی تو میں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ کیا۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 278]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:1 /191، والحاكم: 1 /550، وصححه، ووافقه الذهبي.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 279
وعن البراء بن عازب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعث عليا إلى اليمن فذكر الحديث قال: فكتب علي بإسلامهم فلما قرأ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الكتاب خر ساجدا شكرا لله تعالى على ذلك. رواه البيهقي. وأصله في البخاري.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا۔ راوی نے حدیث بیان کی جس میں اس نے کہا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل یمن کے اسلام میں داخل ہونے کی روداد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ارسال فرمائی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مکتوب پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کیلئے سجدہ ریز ہو گئے۔
بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں موجود ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 279]
بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں موجود ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 279]
«وَعَنِ» اور سے – «الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ» براء بن عازب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بَعَثَ» نے بھیجا – «عَلِيًّا» علی کو – «إِلَى الْيَمَنِ» یمن کی طرف – «فَذَكَرَ الْحَدِيثَ» پھر (راوی نے) حدیث ذکر کی – «قَالَ» (اور) کہا: – «فَكَتَبَ» تو لکھا – «عَلِيٌّ» علی نے – «بِإِسْلَامِهِمْ» ان کے اسلام لانے کے بارے میں – «فَلَمَّا قَرَأَ» پھر جب پڑھا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْكِتَابَ» خط کو – «خَرَّ» تو گر پڑے – «سَاجِدًا» سجدہ کرتے ہوئے – «شُكْرًا» شکر ادا کرتے ہوئے – «لِلَّهِ تَعَالَى» اللہ تعالیٰ کا – «عَلَى ذَلِكَ» اس پر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبَيْهَقِيُّ» بیہقی نے۔ – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي الْبُخَارِيِّ» بخاری میں ہے۔
اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، پھر (راوی نے) پوری حدیث ذکر کی اور کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان (اہل یمن) کے اسلام لانے کی اطلاع لکھ کر بھیجی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خط پڑھا تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے۔ اسے بیہقی نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 279]
اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، پھر (راوی نے) پوری حدیث ذکر کی اور کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان (اہل یمن) کے اسلام لانے کی اطلاع لکھ کر بھیجی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خط پڑھا تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے۔ اسے بیہقی نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 279]
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي: 2 /369، وأخرج البخاري صدر الحديث، المغازي، حديث:4349.»
الحكم على الحديث:
صحيح