🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب سجود السهو وغيره
سجود سہو وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 272
وعنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم سجد بالنجم. رواه البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «النجم» میں سجدہ تلاوت کیا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 272]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، سجود القرآن، باب سجود المسلمين مع المشركين، حديث:1071.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 273
وعن زيد بن ثابت رضي الله عنه قال: قرأت على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم النجم فلم يسجد فيها.متفق عليه.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو سورۃ «النجم» کی قرآت کی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ تلاوت نہیں کیا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 273]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، سجود القرآن، باب من قرأ السجدة ولم يسجد، حديث:1072، ومسلم، المساجد، باب سجود التلاوة، حديث:577.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 274
وعن خالد بن معدان رضي الله عنه قال: فضلت سورة الحج بسجدتين. رواه أبو داود في المراسيل. ورواه أحمد والترمذي موصولا من حديث عقبة بن عامر وزاد: فمن لم يسجدهما فلا يقرأهما. وسنده ضعيف.
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورۃ «الحج» کو دو سجدہ تلاوت کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے۔
اس کو ابوداؤد نے مراسیل میں ذکر کیا ہے۔ اور احمد اور ترمذی نے عتبہ بن عامر کی حدیث سے اسے موصول قرار دیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے جس نے اس سورۃ کے دونوں سجدے نہ کیے وہ اسے نہ پڑھے۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 274]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود في المراسيل، حديث:70 وسنده ضعيف لإرساله، وأحمد: 4 /151، والترمذي، الجمعة، حديث:578 من حديث عقبة بن عامر، وسنده حسن لذاته.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 275
وعن عمر رضي الله عنه قال: يا أيها الناس إنا نمر بالسجود فمن سجد فقد أصاب ومن لم يسجد فلا إثم عليه. رواه البخاري وفيه: إن الله تعالى لم يفرض السجود إلا أن نشاء. وهو في الموطأ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو! ہم آیات سجدہ سے گزرتے ہیں۔ جس نے سجدہ کیا اس نے درست کیا اور جس نے نہیں کیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔ (بخاری) اور اسی میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا، مگر قاری اگر چاہے تو کر سکتا ہے۔ یہ ذکر موطا میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 275]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، سجود القرآن، باب من رأي أن الله لم يوجب السجود، حديث:1077، ومالك في الموطأ:1 /206.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 276
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم يقرأ علينا القران فإذا مر بالسجدة كبر وسجد وسجدنا معه. رواه أبو داود بسند فيه لين.
‏‎‍ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تھے۔ جب آیت سجدہ پر سے گزرتے تو اللہ اکبر کہ کر سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی سجدہ کرتے۔
ابوداؤد نے اسے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 276]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب في الرجل يسمع السجده وهو راكب، حديث:1413.* عبدالله بن عمر العمري ضعيف لكنه حسن الحديث عن نافع.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 277
وعن أبي بكرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا جاءه خبر يسره خر ساجدا لله. رواه الخمسة إلا النسائي.
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشخبری ملتی تو اللہ کے حضور سجدے میں گر پڑتے۔
نسائی کے علاوہ پانچوں نے اسے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 277]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في سجود الشكر، حديث:2774، والترمذي، السير، حديث:1578، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1394، وأحمد:5 /45.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 278
وعن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه قال: سجد النبي صلى الله عليه وآله وسلم فأطال السجود ثم رفع رأسه فقال: «‏‏‏‏إن جبريل أتاني فبشرني فسجدت لله شكرا» .‏‏‏‏ رواه أحمد وصححه الحاكم.
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھا کر فرمایا ابھی جبرائیل علیہ السلام ایک خوشخبری لے کر میرے پاس آئے تو وہ مژدہ سن کر میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں سجدہ شکر ادا کیا۔ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 278]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:1 /191، والحاكم: 1 /550، وصححه، ووافقه الذهبي.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 279
وعن البراء بن عازب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعث عليا إلى اليمن فذكر الحديث قال: فكتب علي بإسلامهم فلما قرأ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الكتاب خر ساجدا شكرا لله تعالى على ذلك. رواه البيهقي. وأصله في البخاري.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا۔ راوی نے حدیث بیان کی جس میں اس نے کہا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل یمن کے اسلام میں داخل ہونے کی روداد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ارسال فرمائی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مکتوب پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کیلئے سجدہ ریز ہو گئے۔
بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں موجود ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 279]
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي: 2 /369، وأخرج البخاري صدر الحديث، المغازي، حديث:4349.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں