🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. باب صلاة التطوع
نفل نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 300
وعنها رضي الله عنها قالت: من كل الليل قد أوتر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وانتهى وتره إلى السحر. متفق عليهما.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی انتہا سحر تک تھی۔“ دونوں روایتوں کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 300]
«وَعَنْهَا» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ» رات کے ہر حصے میں – «قَدْ أَوْتَرَ» وتر پڑھا ہے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَانْتَهَى» اور جا پہنچا – «وِتْرُهُ» آپ کا وتر – «إِلَى السَّحَرِ» سحری کے وقت تک۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِمَا» ان دونوں (حدیثوں) پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا ہے، اور (آخر میں) آپ کا وتر سحری کے وقت تک جا پہنچا۔ یہ دونوں حدیثیں (بخاری و مسلم) متفق علیہ ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 300]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوتر، باب ساعات الوتر، حديث:996، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الليل، حديث:745.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 301
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يا عبد الله لا تكن مثل فلان كان يقوم من الليل فترك قيام الليل» ‏‏‏‏. متفق عليه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبداللہ! فلاں آدمی کی طرح تم نہ ہو جانا کہ وہ «قيام الليل» کرتا تھا پھر بعد میں اسے ترک کر دیا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 301]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ» عبداللہ بن عمرو بن عاص – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ لِي» مجھ سے فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَا عَبْدَ اللَّهِ» اے عبداللہ! – «لَا تَكُنْ» نہ ہو جانا – «مِثْلَ فُلَانٍ» فلاں کی طرح – «كَانَ يَقُومُ» جو قیام کیا کرتا تھا – «مِنَ اللَّيْلِ» رات کو – «فَتَرَكَ» پھر اس نے چھوڑ دیا – «قِيَامَ اللَّيْلِ» رات کا قیام۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ! فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا جو رات کو قیام کیا کرتا تھا، پھر اس نے رات کا قیام چھوڑ دیا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 301]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، التهجد، باب يكره من ترك قيام الليل لمن كان يقومه، حديث:1152، ومسلم، الصيام، باب النهي عن صوم الدهر لمن تضرربه....، حديث:1159.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 302
وعن علي رضي الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏أوتروا يا أهل القرآن فإن الله وتر يحب الوتر» . رواه الخمسة وصححه ابن خزيمة.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو۔ اللہ خود بھی وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“
اسے پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 302]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَوْتِرُوا» وتر پڑھو – «يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ» اے قرآن والو! – «فَإِنَّ اللَّهَ» کیونکہ بے شک اللہ – «وِتْرٌ» طاق (ایک) ہے – «يُحِبُّ» پسند کرتا ہے – «الْوِتْرَ» طاق کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں (ائمہ) نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو، کیونکہ اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“ اسے پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 302]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب استحباب الوتر، حديث:1416، والترمذي، الوتر، حديث:453، والنسائي، قيام الليل، حديث:1676، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1169، وأحمد: 1 /148، وابن خزيمة: 2 /137، حديث:1067، وأبو اسحاق عنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 303
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا» ‏‏‏‏.متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنی رات کی آخری نماز کو وتر بناؤ۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 303]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «اجْعَلُوا» بناؤ – «آخِرَ صَلَاتِكُمْ» اپنی آخری نماز – «بِاللَّيْلِ» رات کی – «وِتْرًا» وتر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”رات کو اپنی آخری نماز وتر بناؤ۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 303]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوتر، باب ليجعل آخر صلاته وترًا، حديث:998، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الليل مثني مثني، حديث:751.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 304
وعن طلق بن علي رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏لا وتران في ليلة» . رواه أحمد والثلاثة وصححه ابن حبان.
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ ”ایک رات میں دو مرتبہ وتر نہیں۔ “ اسے احمد نے اور تینوں یعنی ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 304]
«وَعَنْ» اور سے – «طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ» طلق بن علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعْتُ» میں نے سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «لَا وِتْرَانِ» دو وتر نہیں – «فِي لَيْلَةٍ» ایک رات میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالثَّلَاثَةُ» اور تینوں (ائمہ) نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ایک رات میں دو وتر نہیں۔“ اسے احمد اور تینوں (ابو داود، ترمذی، نسائی) نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 304]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب في نقض الوتر، حديث:1439، والترمذي، الوتر، حديث: 470، والنسائي، قيام الليل، حديث:1680، وأحمد:4 /23، وابن حبان (الإحسان): 4 /75، حديث:2440.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 305
وعن أبي بن كعب رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوتر بـ"سبح اسم ربك الأعلى" و:"قل يا أيها الكافرون" و:"قل هو الله أحد". رواه أحمد وأبو داود والنسائي. وزاد: ولا يسلم إلا في آخرهن ولأبي داد والترمذي نحوه عن عائشة رضي الله عنها وفيه: كل سورة في ركعة وفي الأخيرة"قل هو الله أحد" والمعوذتين.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعات وتر کی صورت میں بالترتیب پہلی رکعت میں «سبح اسم ربك الأعلى» دوسری رکعت میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے۔
اس کو احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور نسائی نے اتنا اضافہ بھی نقل کیا ہے ” اور سلام آخری رکعت میں پھیرتے تھے۔ “ ابوداؤد اور ترمذی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور اس روایت میں ہے کہ ہر رکعت میں ایک سورۃ تلاوت فرماتے تھے اور آخری رکعت میں «قل هو الله أحد» اور معوذتین پڑھتے تھے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 305]
«وَعَنْ» اور سے – «أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ» ابی بن کعب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُوتِرُ» وتر پڑھا کرتے تھے – «بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» سبح اسم ربک الاعلیٰ (سورۃ الاعلیٰ) کے ساتھ – «وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» اور قل یا ایہا الکافرون کے ساتھ – «وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» اور قل ہو اللہ احد کے ساتھ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَزَادَ» اور (نسائی نے) اضافہ کیا: – «وَلَا يُسَلِّمُ» اور سلام نہ پھیرتے – «إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ» مگر ان کے آخر میں۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيِّ» اور ترمذی کی روایت ہے – «نَحْوُهُ» اسی طرح – «عَنْ عَائِشَةَ» عائشہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «كُلُّ سُورَةٍ» ہر سورت – «فِي رَكْعَةٍ» ایک رکعت میں – «وَفِي الْأَخِيرَةِ» اور آخری (رکعت) میں – «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» قل ہو اللہ احد – «وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ» اور معوذتین (سورۃ الفلق و سورۃ الناس)۔
اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ پڑھا کرتے تھے۔ اسے احمد، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے، اور (نسائی نے) یہ اضافہ کیا ہے: اور آپ صرف ان کے آخر میں سلام پھیرتے تھے۔ اور ابو داود اور ترمذی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی روایت ہے، اور اس میں ہے: ہر سورت ایک رکعت میں (پڑھتے)، اور آخری رکعت میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ اور معوذتین (پڑھتے)۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 305]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب ما يقرأ في الوتر، حديث:1423، والنسائي، قيام الليل، حديث:1700، وأحمد:3 /406، 407، و5 /123، وحديث عائشة أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:1424، والترمذي، الوتر، حديث:463 وهو حديث حسن.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 306
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏أوتروا قبل أن تصبحوا» ‏‏‏‏. رواه مسلم. ولابن حبان: «‏‏‏‏من أدرك الصبح ولم يوتر فلا وتر له» .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” وتر صبح ہونے سے پہلے پڑھ لیا کرو۔ “ (مسلم) اور ابن حبان میں ہے کہ ” جس کسی نے صبح تک وتر نہ پڑھے اس کا کوئی وتر نہیں ہے۔ “ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 306]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «أَوْتِرُوا» وتر پڑھ لو – «قَبْلَ» پہلے – «أَنْ تُصْبِحُوا» اس سے کہ تم صبح کرو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَلِابْنِ حِبَّانَ» اور ابن حبان کی روایت میں ہے: – «مَنْ» جس نے – «أَدْرَكَ» پا لیا – «الصُّبْحَ» صبح کو – «وَلَمْ يُوتِرْ» اور وتر نہ پڑھا – «فَلَا وِتْرَ» تو کوئی وتر نہیں – «لَهُ» اس کے لیے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لو۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور ابن حبان کی روایت میں ہے: ”جس نے صبح پا لی اور وتر نہ پڑھا تو اس کا کوئی وتر نہیں۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 306]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الليل مثني مثني، حديث:754، وحديث ((من أدرك الصبح ولم يوتر فلا وترله)) أخرجه ابن حبان (الموارد)، حديث:674 وهو حديث ضعيف، فيه قتادة وهو مدلس وقد عنعن.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 307
وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من نام عن الوتر أو نسيه فليصل إذا أصبح أو ذكر» ‏‏‏‏. رواه الخمسة إلا النسائي.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو سو جائے بغیر وتر پڑھے یا اسے یاد نہ رہے ہوں تو اسے چاہیئے کہ صبح کے وقت پڑھ لے یا پھر جب اسے یاد آئے۔ “
اسے نسائی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 307]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ» جو – «نَامَ» سو گیا – «عَنِ الْوِتْرِ» وتر سے – «أَوْ» یا – «نَسِيَهُ» اسے بھول گیا – «فَلْيُصَلِّ» تو وہ پڑھ لے – «إِذَا» جب – «أَصْبَحَ» صبح کرے – «أَوْ» یا (جب) – «ذَكَرَ» یاد آئے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں (ائمہ) نے – «إِلَّا» سوائے – «النَّسَائِيَّ» نسائی کے۔
اور انہی (سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وتر سے سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے تو جب صبح کرے یا جب اسے یاد آئے، پڑھ لے۔“ اسے نسائی کے سوا پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 307]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب في الدعاء بعد الوتر، حديث:1431، والترمذي، الوتر، حديث:465، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1188، وأحمد:3 /31.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 308
وعن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من خاف أن لا يقوم من آخر الليل فليوتر أوله ومن طمع أن يقوم آخره فليوتر آخر الليل فإن صلاة آخر الليل مشهودة وذلك أفضل» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس کسی کو یہ اندیشہ اور خوف لاحق ہو کہ وہ رات کہ آخری اوقات میں بیدار نہیں ہو سکے گا اسے چاہیئے کہ رات کہ پہلے حصہ میں ہی وتر پڑھ لے اور جسے یہ توقع اور امید ہو کہ وہ بیدار ہو جائے گا تو اسے رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھنے چاہئیں کیونکہ رات کے آخری حصہ کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ بہت بہتر ہے۔ “ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 308]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ» جو – «خَافَ» ڈرے – «أَنْ لَا يَقُومَ» کہ وہ نہیں اٹھ سکے گا – «مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ» رات کے آخری حصے میں – «فَلْيُوتِرْ» تو وہ وتر پڑھ لے – «أَوَّلَهُ» اس کے شروع میں – «وَمَنْ» اور جو – «طَمِعَ» امید رکھے – «أَنْ يَقُومَ» کہ وہ اٹھے گا – «آخِرَهُ» اس کے آخر میں – «فَلْيُوتِرْ» تو وہ وتر پڑھے – «آخِرَ اللَّيْلِ» رات کے آخر میں – «فَإِنَّ» کیونکہ بے شک – «صَلَاةَ» نماز – «آخِرِ اللَّيْلِ» رات کے آخری حصے کی – «مَشْهُودَةٌ» (فرشتوں کی) حاضری والی ہے – «وَذَلِكَ» اور یہ – «أَفْضَلُ» زیادہ فضیلت والا ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے، اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھے گا تو وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے، کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز میں (فرشتے) حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 308]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب من خاف أن لا يقوم من آخر الليل، حديث:755.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 309
وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا طلع الفجر فقد ذهب وقت كل صلاة الليل والوتر فأوتروا قبل طلوع الفجر» ‏‏‏‏. رواه الترمذي.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب فجر طلوع ہو جائے تو پھر رات کو پڑھی جانے والی ہر نماز کا وتروں سمیت وقت چلا جاتا ہے (ختم ہو جاتا ہے) لہٰذا تم طلوع فجر سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔ “ (ترمذی) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 309]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «إِذَا» جب – «طَلَعَ» طلوع ہو جائے – «الْفَجْرُ» فجر – «فَقَدْ ذَهَبَ» تو یقیناً چلا گیا – «وَقْتُ» وقت – «كُلِّ» تمام – «صَلَاةِ اللَّيْلِ» رات کی نماز کا – «وَالْوِتْرِ» اور وتر کا – «فَأَوْتِرُوا» پس وتر پڑھ لو – «قَبْلَ» پہلے – «طُلُوعِ الْفَجْرِ» فجر طلوع ہونے سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب فجر طلوع ہو جائے تو رات کی تمام نماز اور وتر کا وقت ختم ہو گیا، لہٰذا فجر طلوع ہونے سے پہلے وتر پڑھ لو۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 309]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في مبادرة الصبح بالوتر، حديث:469.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں