🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. باب صلاة التطوع
نفل نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 290
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا صلى أحدكم الركعتين قبل صلاة الصبح فليضطجع على جنبه الأيمن» ‏‏‏‏. رواه أحمد وأبو داود والترمذي وصححه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے کوئی شخص جب نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ چکے تو اسے اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جانا چاہیئے۔“
اس حدیث کو احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 290]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا صَلَّى» جب پڑھ لے – «أَحَدُكُمُ» تم میں سے کوئی – «الرَّكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں – «قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ» صبح کی نماز سے پہلے – «فَلْيَضْطَجِعْ» تو لیٹ جائے – «عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ» اپنے دائیں پہلو پر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور (ترمذی نے) اسے صحیح قرار دیا۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی صبح کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جائے۔“ اسے احمد، ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 290]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الاضطجاع بعدها، حديث:1261، والترمذي، الصلاة، حديث:420، وأحمد:2 /415.*سليمان بن مهران الأعمش مدلس وقد عنعن، وعنعنة المدلس ضعيفة علي الراجح إلا إذا صرح بالسماع في طريق آخر أو توبع من مقبول الحديث.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 291
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏صلاة الليل مثنى فإذا خشي أحدكم الصبح صلى ركعة واحدة توتر ما قد صلى» . متفق عليه. وللخمسة وصححه ابن حبان بلفظ: «‏‏‏‏صلاة الليل والنهار مثنى مثنى» ‏‏‏‏. وقال النسائي: هذا خطأ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” رات کی نماز دو، دو رکعت کی صورت میں (پڑھی جائے) اور جب تم میں سے کسی کو صبح کے طلوع ہونے کا خدشہ و اندیشہ لاحق ہونے لگے تو (آخر میں) ایک رکعت پڑھ لے۔ یہ رکعت اس کی ساری نماز کو وتر بنا دے گی۔“ (بخاری و مسلم)۔
اور پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی دہ روایت اسی طرح ہے۔ اور ابن حبان نے «صلاة الليل والنهار مثنى مثنى» ” دن رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔“ کو صحیح قرار دیا ہے۔ البتہ نسائی نے کہا ہے کہ یہ خطا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 291]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَاةُ اللَّيْلِ» رات کی نماز – «مَثْنَى» دو دو (رکعت) ہے – «فَإِذَا خَشِيَ» پس جب ڈرے – «أَحَدُكُمُ» تم میں سے کوئی – «الصُّبْحَ» صبح (ہو جانے) سے – «صَلَّى» تو پڑھ لے – «رَكْعَةً وَاحِدَةً» ایک رکعت – «تُوتِرُ» جو وتر (طاق) بنا دے گی – «مَا قَدْ صَلَّى» اسے جو اس نے پڑھ لی ہے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِلْخَمْسَةِ» اور پانچوں (ائمہ) کی روایت ہے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «بِلَفْظِ» ان الفاظ کے ساتھ: – «صَلَاةُ اللَّيْلِ» رات – «وَالنَّهَارِ» اور دن کی نماز – «مَثْنَى مَثْنَى» دو دو (رکعت) ہے۔ – «وَقَالَ» اور کہا – «النَّسَائِيُّ» نسائی نے: – «هَذَا خَطَأٌ» یہ غلطی ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب تم میں سے کسی کو صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لے جو اس کی پڑھی ہوئی نماز کو وتر (طاق) بنا دے گی۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے ان الفاظ سے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے: ”رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔“ اور نسائی نے کہا: یہ (دن کا اضافہ) غلطی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 291]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، التهجد، باب كيف صلاة النبي صلي الله عليه وسلم....، حديث: 1137، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الليل مثني مثني، حديث:749، وحديث "صلاة الليل والنهار مثني مثني" أخرجه أبوداود، التطوع، حديث:1295، والترمذي، الجمعة، حديث:597، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1322، والنسائي، قيام الليل، حديث:1667، وأحمد:2 /26، 51، وابن حبان (الإحسان):4 /86، حديث:2473 وهو حديث حسن.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 292
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏أفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل» ‏‏‏‏. أخرجه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 292]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَفْضَلُ الصَّلَاةِ» سب سے افضل نماز – «بَعْدَ الْفَرِيضَةِ» فرض (نماز) کے بعد – «صَلَاةُ اللَّيْلِ» رات کی نماز ہے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 292]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصيام، باب فضل صوم المحرم، حديث:1163.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 293
وعن أبي أيوب الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «الوتر حق على كل مسلم من أحب أن يوتر بخمس فليفعل ومن أحب أن يوتر بثلاث فليفعل ومن أحب أن يوتر بواحدة فليفعل» ‏‏‏‏. رواه الأربعة إلا الترمذي وصححه ابن حبان ورجح النسائي وقفه.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ” وتر ہر مسلمان پر حق ہے (اس کا ادا کرنا ضروری ہے) جسے پانچ وتر پڑھنا پسند ہو تو ایسا کرے اور جسے تین وتر پسند ہوں تو وہ اس طرح کرے اور جسے ایک وتر پڑھنا پسند ہو تو وہ ایسا کرے۔“
ترمذی کے علاوہ اسے چاروں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے البتہ نسائی نے اس کے موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 293]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ» ابو ایوب انصاری – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «الْوِتْرُ» وتر – «حَقٌّ» حق (ثابت) ہے – «عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ» ہر مسلمان پر – «مَنْ أَحَبَّ» جو پسند کرے – «أَنْ يُوتِرَ» کہ وتر پڑھے – «بِخَمْسٍ» پانچ (رکعات) کے ساتھ – «فَلْيَفْعَلْ» تو وہ ایسا کرے – «وَمَنْ أَحَبَّ» اور جو پسند کرے – «أَنْ يُوتِرَ» کہ وتر پڑھے – «بِثَلَاثٍ» تین کے ساتھ – «فَلْيَفْعَلْ» تو وہ ایسا کرے – «وَمَنْ أَحَبَّ» اور جو پسند کرے – «أَنْ يُوتِرَ» کہ وتر پڑھے – «بِوَاحِدَةٍ» ایک کے ساتھ – «فَلْيَفْعَلْ» تو وہ ایسا کرے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْأَرْبَعَةُ» چاروں (ائمہ) نے – «إِلَّا التِّرْمِذِيَّ» سوائے ترمذی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «وَرَجَّحَ» اور راجح قرار دیا – «النَّسَائِيُّ» نسائی نے – «وَقْفَهُ» اس کے موقوف ہونے کو۔
اور سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وتر ہر مسلمان پر حق ہے، جو پانچ رکعت وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایسا کر لے، جو تین رکعت وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایسا کر لے اور جو ایک رکعت وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایسا کر لے۔“ اسے ترمذی کے سوا چاروں (ابو داود، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے، ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور نسائی نے اس کے موقوف ہونے کو راجح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 293]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب كم الوتر؟، حديث:1422، والنسائي، قيام الليل، حديث:1711، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1190، وابن حبان (الموارد)، حديث:670.* المرفوع والموقوف، صحيحان كلاهما، ولم أرلمضعفه حجة.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 294
وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: ليس الوتر بحتم كهيئة المكتوبة ولكن سنة سنة سنها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. رواه الترمذي وحسنه والنسائي والحاكم وصححه.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وتر فرضوں کی طرح حتمی اور لازمی نہیں ہے بلکہ سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے۔
اسے ترمذی اور نسائی نے بیان کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 294]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ» علی بن ابی طالب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَيْسَ الْوِتْرُ» وتر نہیں ہے – «بِحَتْمٍ» لازم – «كَهَيْئَةِ الْمَكْتُوبَةِ» فرض نماز کی طرح – «وَلَكِنْ» لیکن – «سُنَّةٌ» (یہ) سنت ہے – «سَنَّهَا» جسے جاری فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن قرار دیا – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَصَحَّحَهُ» اور (حاکم نے) اسے صحیح قرار دیا۔
اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: وتر فرض نماز کی طرح لازم نہیں، بلکہ یہ سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جاری فرمایا ہے۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن کہا ہے، اور نسائی اور حاکم نے (روایت کیا ہے) اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 294]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء أن الوتر ليس بحتم، حديث:453، والنسائي، قيام الليل، حديث:1676، والحاكم:1 /300، ووافقه الذهبي، أبوسحاق مدلس وعنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 295
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قام في شهر رمضان ثم انتظروه من القابلة فلم يخرج وقال: «‏‏‏‏إني خشيت أن يكتب عليكم الوتر» . رواه ابن حبان.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان میں قیام فرمایا پھر اگلے دن کے لئے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے سے باہر تشریف نہ لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وتر کی نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے۔“ اس کو ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 295]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَامَ» نے قیام کیا – «فِي شَهْرِ رَمَضَانَ» رمضان کے مہینے میں – «ثُمَّ انْتَظَرُوهُ» پھر انہوں نے آپ کا انتظار کیا – «مِنَ الْقَابِلَةِ» اگلی رات – «فَلَمْ يَخْرُجْ» تو آپ باہر تشریف نہ لائے – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «إِنِّي خَشِيتُ» بے شک میں ڈرا – «أَنْ يُكْتَبَ» کہ فرض کر دیا جائے – «عَلَيْكُمُ» تم پر – «الْوِتْرُ» وتر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں (رات کا) قیام فرمایا، پھر اگلی رات لوگوں نے آپ کا انتظار کیا لیکن آپ باہر تشریف نہ لائے اور فرمایا: ”مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں تم پر وتر فرض نہ کر دیا جائے۔“ اسے ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 295]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان (الإحسان): 4 /62-64، حديث:1 / 2401-2406.* عيسي بن جارية حسن الحديث علي الراجح كما حققته في نور المصابيح، والحمد لله.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 296
وعن خارجة بن حذافة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن الله أمدكم بصلاة هي خير لكم من حمر النعم» .‏‏‏‏ قلنا: وما هي يا رسول الله؟ قال: «‏‏‏‏الوتر ما بين صلاة العشاء إلى طلوع الفجر» ‏‏‏‏.رواه الخمسة إلا النسائي. وصححه الحاكم. وروى أحمد عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده نحوه.
سیدنا خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی نماز کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہت بہتر ہے۔“ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! وہ کون سی نماز ہے؟ فرمایا ” وتر نماز جو نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے۔“
اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ احمد نے عمرو بن شعیب سے انہوں نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 296]
«وَعَنْ» اور سے – «خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ» خارجہ بن حذافہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ اللَّهَ» بے شک اللہ نے – «أَمَدَّكُمْ» تمہیں عطا (مزید) کی ہے – «بِصَلَاةٍ» ایک نماز – «هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ» جو تمہارے لیے بہتر ہے – «مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ» سرخ اونٹوں سے۔ – «قُلْنَا» ہم نے عرض کیا: – «وَمَا هِيَ» اور وہ کیا ہے – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «الْوِتْرُ» وتر – «مَا بَيْنَ» درمیان – «صَلَاةِ الْعِشَاءِ» عشاء کی نماز – «إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ» سے فجر طلوع ہونے تک۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں (ائمہ) نے – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔ – «وَرَوَى» اور روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ» عمرو بن شعیب سے – «عَنْ أَبِيهِ» انہوں نے اپنے والد سے – «عَنْ جَدِّهِ» انہوں نے ان کے دادا سے – «نَحْوَهُ» اسی طرح۔
اور سیدنا خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں ایک (مزید) نماز عطا فرمائی ہے جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وتر، (جس کا وقت) عشاء کی نماز سے فجر طلوع ہونے تک ہے۔“ اسے نسائی کے سوا پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اور احمد نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 296]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب استحباب الوتر، حديث:1418، والترمذي، الصلاة، حديث:452، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1168، والحاكم:1 /306 وصححه، وأحمد كما في أطراف المسند لابن حجر وجامع المسانيد والسنن لابن كثير، وسقط مسند خارجة بن حذافة من المسند المطبوع، وقال ابن حبان: ((إسناده منقطع ومتنه باطل))، وروي أحمد:6 /7، حديث:34357، بسند صحيح عن رسول الله صلّي الله عليه وسلّم قال:((إن الله زادكم صلاة وهي الوتر، فصلّوها فيما بين العشاء إلي صلاة الفجر)) وحديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أخرجه أحمد:181، 206، 208 وسنده ضعيف.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 297
وعن عبد الله بن بريدة رضي الله عنه عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا» .‏‏‏‏أخرجه أبو داود بسند لين وصححه الحاكم وله شاهد ضعيف عن أبي هريرة رضي الله عنه عند أحمد.
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” وتر برحق ہے جس نے وتر نہ پڑھے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔“
ابوداؤد نے اسے کمزور سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے احمد کے نزدیک اس کا شاہد بھی ہے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مگر وہ ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 297]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ» عبداللہ بن بریدہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْوِتْرُ» وتر – «حَقٌّ» حق ہے – «فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ» پس جس نے وتر نہ پڑھا – «فَلَيْسَ مِنَّا» وہ ہم میں سے نہیں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «بِسَنَدٍ لَيِّنٍ» کمزور سند کے ساتھ – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَلَهُ شَاهِدٌ» اور اس کا ایک شاہد ہے – «ضَعِيفٌ» ضعیف – «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عِنْدَ أَحْمَدَ» احمد کے ہاں۔
اور عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وتر حق ہے، پس جس نے وتر نہ پڑھا وہ ہم میں سے نہیں۔“ اسے ابو داود نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور احمد کے ہاں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کا ایک ضعیف شاہد بھی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 297]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب فيمن لم يوتر، حديث:1419، والحاكم:1 /305.* أبو المنيب حسن الحديث في غير ما أنكر عليه وهذا الحديث مما أنكر عليه، وحديث أبي هريرة أخرجه أحمد:2 /443، وسنده ضعيف جدًا، فيه خليل بن مرة وهو منكر الحديث كما قال البخاري.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 298
وعن عائشة رضي الله عنه قالت: ما كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة،‏‏‏‏ يصلي أربعا فلا تسأل عن حسنهن وطولهن،‏‏‏‏ ثم يصلي أربعا،‏‏‏‏ فلا تسأل عن حسنهن وطولهن،‏‏‏‏ ثم يصلي ثلاثا. قالت عائشة: قلت: يا رسول الله أتنام قبل أن توتر؟ قال:«‏‏‏‏يا عائشة إن عيني تنامان ولا ينام قلبي» . متفق عليه. وفي رواية لهما عنها: كان يصلي من الليل عشر ركعات ويوتر بسجدة ويركع ركعتي الفجر فتلك ثلاث عشرة ركعة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زائد نہیں پڑھتے تھے۔ چار رکعتیں ایسی حسن اور خوبی سے ادا فرماتے کہ ان کے حسن اور طوالت کا کیا کہنا۔ پھر چار رکعات ادا فرماتے بس ان کی خوبی اور طوالت کے بارے میں کیا پوچھتے ہو پھر تین رکعتیں پڑھتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ وتر ادا کئے بغیر سو جاتے ہیں۔ فرمایا ” عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 298]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «مَا كَانَ» نہیں تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَزِيدُ» زیادہ کرتے – «فِي رَمَضَانَ» رمضان میں – «وَلَا فِي غَيْرِهِ» اور نہ اس کے علاوہ میں – «عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً» گیارہ رکعتوں سے – «يُصَلِّي أَرْبَعًا» چار (رکعتیں) پڑھتے – «فَلَا تَسْأَلْ» تو نہ پوچھو – «عَنْ حُسْنِهِنَّ» ان کی خوبصورتی کے بارے میں – «وَطُولِهِنَّ» اور ان کی لمبائی کے بارے میں – «ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا» پھر چار پڑھتے – «فَلَا تَسْأَلْ» تو نہ پوچھو – «عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ» ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں – «ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا» پھر تین پڑھتے۔ – «قَالَتْ عَائِشَةُ» عائشہ نے کہا: – «قُلْتُ» میں نے عرض کیا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «أَتَنَامُ» کیا آپ سو جاتے ہیں – «قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ» وتر پڑھنے سے پہلے؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «يَا عَائِشَةُ» اے عائشہ! – «إِنَّ عَيْنَيَّ» بے شک میری دونوں آنکھیں – «تَنَامَانِ» سوتی ہیں – «وَلَا يَنَامُ» اور نہیں سوتا – «قَلْبِي» میرا دل۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا» اور ان دونوں کی ایک روایت میں – «عَنْهَا» انہی سے ہے: – «كَانَ يُصَلِّي» آپ پڑھتے تھے – «مِنَ اللَّيْلِ» رات میں – «عَشْرَ رَكَعَاتٍ» دس رکعتیں – «وَيُوتِرُ» اور وتر پڑھتے – «بِسَجْدَةٍ» ایک رکعت کے ساتھ – «وَيَرْكَعُ» اور پڑھتے – «رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ» فجر کی دو رکعتیں – «فَتِلْكَ» تو یہ – «ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً» تیرہ رکعتیں ہوئیں۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں اور اس کے علاوہ (دنوں) میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، چار رکعتیں پڑھتے، ان کی خوبصورتی اور لمبائی کا کیا پوچھنا! پھر چار رکعتیں پڑھتے، ان کی خوبصورتی اور لمبائی کا کیا پوچھنا! پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ان دونوں کی ایک روایت میں انہی سے ہے: آپ رات کو دس رکعتیں پڑھتے، ایک رکعت وتر پڑھتے اور فجر کی دو (سنت) رکعتیں پڑھتے، تو یہ تیرہ رکعتیں ہو جاتیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 298]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، التهجد، باب قيام النبي صلي الله عليه وسلم بالليل في رمضان وغيره، حديث:1147، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الليل، حديث:738.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 299
وعنها رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة يوتر من ذلك بخمس لا يجلس في شيء إلا في آخرها.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت ادا فرماتے تھے۔ ان میں پانچ وتر ہوتے تھے اور ان پانچ وتروں میں تشہد کے لئے صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 299]
«وَعَنْهَا» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُصَلِّي» پڑھتے تھے – «مِنَ اللَّيْلِ» رات میں – «ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً» تیرہ رکعتیں – «يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ» ان میں سے وتر پڑھتے – «بِخَمْسٍ» پانچ کے ساتھ – «لَا يَجْلِسُ» نہ بیٹھتے – «فِي شَيْءٍ» کسی (رکعت) میں – «إِلَّا فِي آخِرِهَا» سوائے ان کی آخری (رکعت) کے۔
اور انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں سے پانچ رکعتیں وتر پڑھتے، ان میں سوائے آخری رکعت کے کسی میں (تشہد کے لیے) نہ بیٹھتے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الليل، حديث:737.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں