🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. باب صلاة التطوع
نفل نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 310
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي الضحى أربعا ويزيد ما شاء الله. رواه مسلم. وله عنها: أنها سئلت: هل كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي الضحى؟ قالت: لا. إلا أن يجيء من مغيبه وله عنها: ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي قط سبحة الضحى وإني لأسبحها.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ضحٰی (چاشت کی نماز) چار رکعات پڑھا کرتے تھے اور جتنی اللہ چاہتا زیادہ بھی کرتے تھے۔ (مسلم) اور مسلم ہی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضحٰی کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں الایہ کہ جب اپنے سفر سے واپس تشریف لاتے اور مسلم ہی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ضحٰی پڑھتے کبھی نہیں دیکھا اس کے باوجود میں یہ نوافل پڑھتی ہوں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 310]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُصَلِّي» پڑھا کرتے – «الضُّحَى» چاشت (کی نماز) – «أَرْبَعًا» چار (رکعتیں) – «وَيَزِيدُ» اور زیادہ کر لیتے – «مَا شَاءَ اللَّهُ» جتنا اللہ چاہتا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَلَهُ» اور انہی (مسلم) کی روایت میں ہے – «عَنْهَا» ان (عائشہ) سے – «أَنَّهَا» کہ ان سے – «سُئِلَتْ» پوچھا گیا: – «هَلْ كَانَ» کیا تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُصَلِّي» پڑھتے – «الضُّحَى» چاشت؟ – «قَالَتْ» انہوں نے کہا: – «لَا» نہیں – «إِلَّا» مگر – «أَنْ يَجِيءَ» یہ کہ آپ آتے – «مِنْ مَغِيبِهِ» اپنے سفر (غیر حاضری) سے۔ – «وَلَهُ» اور انہی کی روایت میں ہے – «عَنْهَا» ان سے: – «مَا رَأَيْتُ» میں نے نہیں دیکھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُصَلِّي» پڑھتے ہوئے – «قَطُّ» کبھی بھی – «سُبْحَةَ الضُّحَى» چاشت کی نفل نماز – «وَإِنِّي» اور بے شک میں – «لَأُسَبِّحُهَا» ضرور اسے پڑھتی ہوں۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور جتنی اللہ چاہتا زیادہ بھی پڑھ لیتے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی کی ان سے ایک روایت میں ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، مگر جب آپ اپنے سفر سے واپس تشریف لاتے۔ اور مسلم ہی کی ان سے ایک اور روایت میں ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی چاشت کی نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، اور میں خود اسے پڑھتی ہوں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 310]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب استحباب صلاة الضحي، حديث:719، وحديث: ((لا إلا أن يجيء من مغيبه)) أخرجه مسلم، حديث:717، وحديث: "ما رأيت رسول الله صلي الله عليه وسلم)) يصلي سبحة الضحي قط" أخرجه مسلم، حديث:718.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 311
وعن زيد بن أرقم رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال:«‏‏‏‏صلاة الأوابين حين ترمض الفصال» . رواه الترمذي.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اوابین کی نماز کا وقت وہ ہے جب اونٹنی کے بچے تپش و حرارت اور گرمی محسوس کریں۔“ (ترمذی) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 311]
«وَعَنْ» اور سے – «زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ» زید بن ارقم – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «صَلَاةُ» نماز – «الْأَوَّابِينَ» (اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والوں کی – «حِينَ» جس وقت – «تَرْمَضُ» (گرم ریت سے) پاؤں جلنے لگیں – «الْفِصَالُ» اونٹنی کے بچوں کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے۔
اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اوابین (اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والوں) کی نماز اس وقت ہے جب (دھوپ سے ریت گرم ہو کر) اونٹنی کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 311]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الأوابين حين تومض الفصال، حديث:748، ولم أجده في جامع الترمذي، وَ الله أعلم.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 312
وعن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من صلى الضحى اثنتي عشرة ركعة بنى الله له قصرا في الجنة» ‏‏‏‏. رواه الترمذي واستغربه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے نماز ضحٰی (چاشت کی نماز) کی بارہ رکعتیں پڑھیں اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں محل تعمیر فرمائے گا۔“
اسے ترمذی نے روایت بھی کیا ہے اور اسے غریب قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 312]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ» جس نے – «صَلَّى» پڑھیں – «الضُّحَى» چاشت کی – «اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً» بارہ رکعتیں – «بَنَى» بنا دیتا ہے – «اللَّهُ» اللہ – «لَهُ» اس کے لیے – «قَصْرًا» ایک محل – «فِي الْجَنَّةِ» جنت میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَاسْتَغْرَبَهُ» اور اسے غریب قرار دیا۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیتا ہے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے غریب کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 312]
تخریج الحدیث: « [إسناده ضعيف] أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في صلاة الضحي، حديث: 473 وقال: حديث غريب، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1380.* موسي بن فلان، مجهول (تقريب التهذيب).»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: دخل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بيتي. فصلى الضحى ثماني ركعات. رواه ابن حبان في صحيحه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور نماز ضحٰی کی آٹھ رکعتیں ادا فرمائیں۔
ابن حبان نے اسے صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 313]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «دَخَلَ» داخل ہوئے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بَيْتِي» میرے گھر میں – «فَصَلَّى» پس پڑھیں – «الضُّحَى» چاشت کی – «ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ» آٹھ رکعتیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «فِي صَحِيحِهِ» اپنی صحیح میں۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 313]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان (الموارد)، حديث:630، وللحديث شاهد عنده (631) وسنده حسن.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں