بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب صلاة الجمعة
نماز جمعہ کا بیان
حدیث نمبر: 364
وعن جابر رضي الله عنه قال: دخل رجل يوم الجمعة والنبي صلى الله عليه وآله وسلم يخطب فقال:«صليت؟» قال: لا قال: «قم فصل ركعتين» . متفق عليه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جمعہ کے روز ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے سے دریافت فرمایا ”نماز (تحیۃ المسجد) پڑھی ہے؟“ وہ بولا ”نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو اٹھو اور دو رکعت نماز ادا کر۔“ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 364]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «دَخَلَ» داخل ہوا – «رَجُلٌ» ایک آدمی – «يَوْمَ الْجُمُعَةِ» جمعہ کے دن – «وَالنَّبِيُّ» جبکہ نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَخْطُبُ» خطبہ دے رہے تھے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «صَلَّيْتَ» کیا تم نے نماز پڑھی؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «لَا» نہیں – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «قُمْ» اٹھو – «فَصَلِّ» اور پڑھو – «رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جمعہ کے دن ایک آدمی (مسجد میں) داخل ہوا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے نماز پڑھی؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اٹھو اور دو رکعتیں پڑھو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 364]
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جمعہ کے دن ایک آدمی (مسجد میں) داخل ہوا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے نماز پڑھی؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اٹھو اور دو رکعتیں پڑھو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 364]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجمعة، باب من جاء والإمام يخطب صلي ركعتين، حديث:931، ومسلم، الجمعة، باب التحية والإمام يخطب، حديث:875.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 365
وعن ابن عباس رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يقرأ في صلاة الجمعة سورة الجمعة والمنافقين. رواه مسلم. وله عن النعمان بن بشير رضي الله عنه كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقرأ في العيدين وفي الجمعة بـ"سبح اسم ربك الأعلى" و:"هل أتاك حديث الغاشية".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عموماً جمعہ کی نماز میں سورۃ «الجمعة» اور سورۃ «المنافقين» پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم) اور مسلم ہی کی روایت میں ہے جس کے راوی نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عیدین اور جمعہ کی نماز میں «سبح اسم ربك الأعلى» (سورۃ «الأعلى») اور «هل أتاك حديث الغاشية» (سورۃ «الغاشية») پڑھتے تھے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 365]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يَقْرَأُ» پڑھا کرتے تھے – «فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ» جمعہ کی نماز میں – «سُورَةَ الْجُمُعَةِ» سورۂ جمعہ – «وَالْمُنَافِقِينَ» اور (سورۂ) منافقون۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَلَهُ» اور انہی کی روایت میں ہے – «عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ» نعمان بن بشیر سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقْرَأُ» پڑھا کرتے – «فِي الْعِيدَيْنِ» دونوں عیدوں میں – «وَفِي الْجُمُعَةِ» اور جمعہ میں – «بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» سبح اسم ربك الأعلى – «وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ» اور هل أتاك حديث الغاشية۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون پڑھا کرتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں عیدوں اور جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھا کرتے تھے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 365]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون پڑھا کرتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں عیدوں اور جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھا کرتے تھے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 365]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب ما يقرأ في يوم الجمعة، حديث:879، وحديث النعمان بن بشير أخرجه مسلم، حديث:878.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 366
وعن زيد بن أرقم رضي الله تعالى عنه قال: صلى النبي صلى لله عليه وسلم العيد ثم رخص في الجمعة ثم قال: «من شاء أن يصلي فليصل» . رواه الخمسة إلا الترمذي. وصححه ابن خزيمة.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید پڑھی اور جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا ”جو پڑھنا چاہے پڑھ لے۔“
اسے پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، نسائی، ترمذی، اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ بجز ترمذی کے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 366]
اسے پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، نسائی، ترمذی، اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ بجز ترمذی کے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 366]
«وَعَنْ» اور سے – «زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ» زید بن ارقم – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّى» پڑھی – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور سلامتی – «الْعِيدَ» عید (کی نماز) – «ثُمَّ» پھر – «رَخَّصَ» رخصت دی – «فِي الْجُمُعَةِ» جمعہ کے بارے میں – «ثُمَّ قَالَ» پھر فرمایا: – «مَنْ شَاءَ» جو چاہے – «أَنْ يُصَلِّيَ» کہ (جمعہ) پڑھے – «فَلْيُصَلِّ» تو وہ پڑھ لے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «إِلَّا التِّرْمِذِيَّ» سوائے ترمذی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی، پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا: ”جو (جمعہ) پڑھنا چاہے وہ پڑھ لے۔“ اسے ترمذی کے سوا پانچوں (احمد، ابو داود، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 366]
اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی، پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا: ”جو (جمعہ) پڑھنا چاہے وہ پڑھ لے۔“ اسے ترمذی کے سوا پانچوں (احمد، ابو داود، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 366]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد، حديث:1070، والنسائي، صلاة العيدين، حديث:1592، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1310، وأحمد:4 /372، وابن خزيمة:2 /359، حديث:1464.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 367
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا» . رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 367]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا صَلَّى» جب پڑھے – «أَحَدُكُمُ» تم میں سے کوئی – «الْجُمُعَةَ» جمعہ – «فَلْيُصَلِّ» تو وہ پڑھے – «بَعْدَهَا» اس کے بعد – «أَرْبَعًا» چار (رکعتیں)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھ لے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 367]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھ لے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 367]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب الصلاة بعد الجمعة، حديث:881.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 368
وعن السائب بن يزيد رضي الله عنه أن معاوية رضي الله عنه قال له: إذا صليت الجمعة فلا تصلها بصلاة حتى تتكلم أو تخرج فإن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أمرنا بذلك أن لا نصل صلاة بصلاة حتى نتكلم أو نخرج. رواه مسلم.
سیدنا سائب بن یزید رحمہ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تم نماز جمعہ پڑھو تو پھر دوسری کوئی نماز اس کے ساتھ نہ ملاؤ تاوقتیکہ تم سے کوئی بات کر لے یا وہاں سے نکل جائے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم دیا تھا کہ ہم نماز جمعہ کے ساتھ دوسری نماز نہ ملائیں تاوقتیکہ ہم کوئی بات نہ کر لیں یا وہاں سے نکل جائیں۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 368]
«وَعَنِ» اور سے – «السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ» سائب بن یزید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «مُعَاوِيَةَ» معاویہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ لَهُ» نے ان سے کہا: – «إِذَا صَلَّيْتَ» جب تم پڑھ لو – «الْجُمُعَةَ» جمعہ – «فَلَا تَصِلْهَا» تو اسے نہ ملاؤ – «بِصَلَاةٍ» کسی (دوسری) نماز کے ساتھ – «حَتَّى تَتَكَلَّمَ» یہاں تک کہ تم بات کر لو – «أَوْ تَخْرُجَ» یا (وہاں سے) نکل جاؤ – «فَإِنَّ» کیونکہ بے شک – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَمَرَنَا بِذَلِكَ» نے ہمیں اس کا حکم دیا – «أَنْ لَا نَصِلَ» کہ ہم نہ ملائیں – «صَلَاةً» کسی نماز کو – «بِصَلَاةٍ» کسی نماز کے ساتھ – «حَتَّى نَتَكَلَّمَ» یہاں تک کہ ہم بات کر لیں – «أَوْ نَخْرُجَ» یا نکل جائیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: جب تم جمعہ پڑھ لو تو اس کے ساتھ کوئی (دوسری) نماز نہ ملاؤ جب تک بات نہ کر لو یا (اس جگہ سے) نکل نہ جاؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا کہ ہم کسی نماز کو دوسری نماز سے نہ ملائیں جب تک بات نہ کر لیں یا نکل نہ جائیں۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 368]
اور سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: جب تم جمعہ پڑھ لو تو اس کے ساتھ کوئی (دوسری) نماز نہ ملاؤ جب تک بات نہ کر لو یا (اس جگہ سے) نکل نہ جاؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا کہ ہم کسی نماز کو دوسری نماز سے نہ ملائیں جب تک بات نہ کر لیں یا نکل نہ جائیں۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 368]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب الصلاة بعد الجمعة، حديث:883.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 369
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«من اغتسل ثم أتى الجمعة فصلى ما قدر له ثم أنصت حتى يفرغ الإمام من خطبته ثم يصلي معه: غفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى وفضل ثلاثة أيام» . رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آدمی غسل کر کے جمعہ کے لئے آئے پھر نماز پڑھے جتنی اس کے لئے مقدر ہو۔ پھر خاموشی سے اس وقت تک بیٹھا رہے کہ امام خطبہ جمعہ سے فارغ ہو پھر امام کے ساتھ فرض نماز ادا کرے تو اس کے دونوں جمعوں کے درمیان کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے بلکہ مزید تین دن کے اور بھی۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 369]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنِ اغْتَسَلَ» جس نے غسل کیا – «ثُمَّ أَتَى» پھر آیا – «الْجُمُعَةَ» جمعہ کے لیے – «فَصَلَّى» پس پڑھی – «مَا قُدِّرَ لَهُ» جتنی اس کے مقدر میں تھی – «ثُمَّ أَنْصَتَ» پھر خاموش رہا – «حَتَّى يَفْرُغَ» یہاں تک کہ فارغ ہو جائے – «الْإِمَامُ» امام – «مِنْ خُطْبَتِهِ» اپنے خطبے سے – «ثُمَّ يُصَلِّي» پھر نماز پڑھے – «مَعَهُ» اس کے ساتھ – «غُفِرَ لَهُ» تو اس کے بخش دیے جاتے ہیں – «مَا بَيْنَهُ» جو (گناہ) اس (جمعہ) کے درمیان – «وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى» اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہیں – «وَفَضْلُ» اور مزید – «ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ» تین دن کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غسل کیا پھر جمعہ کے لیے آیا اور جتنی (نفل) نماز اس کے مقدر میں تھی پڑھی، پھر خاموش رہا یہاں تک کہ امام اپنے خطبے سے فارغ ہو گیا، پھر اس کے ساتھ نماز پڑھی، تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 369]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غسل کیا پھر جمعہ کے لیے آیا اور جتنی (نفل) نماز اس کے مقدر میں تھی پڑھی، پھر خاموش رہا یہاں تک کہ امام اپنے خطبے سے فارغ ہو گیا، پھر اس کے ساتھ نماز پڑھی، تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 369]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب فضل من استمع وأنصت في الخطبة، حديث:857.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 370
وعنه رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ذكر يوم الجمعة فقال: «فيه ساعة لا يوافقها عبد مسلم وهو قائم يصلي يسأل الله عز وجل شيئا إلا أعطاه إياه» . وأشار بيده يقللها. متفق عليه، وفي رواية لمسلم: «وهي ساعة خفيفة» .
یہ حدیث بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز جمعہ کا ذکر فرمایا کہ اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جو بندہ مسلم اس گھڑی میں نماز پڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عنائت فرماتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نے دست مبارک سے اشارہ کیا کہ وہ وقت بہت تھوڑا سا ہے۔“ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی مروی روایت میں ہے کہ وہ وقت خفیف (کم) سا ہوتا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 370]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «ذَكَرَ» نے ذکر کیا – «يَوْمَ الْجُمُعَةِ» جمعہ کے دن کا – «فَقَالَ» تو فرمایا: – «فِيهِ» اس میں – «سَاعَةٌ» ایک گھڑی ہے – «لَا يُوَافِقُهَا» جسے نہیں پاتا – «عَبْدٌ مُسْلِمٌ» کوئی مسلمان بندہ – «وَهُوَ قَائِمٌ» درحالیکہ وہ کھڑا – «يُصَلِّي» نماز پڑھ رہا ہو – «يَسْأَلُ اللَّهَ» اللہ سے مانگتا ہو – «عَزَّ وَجَلَّ» جو غالب اور بزرگ و برتر ہے – «شَيْئًا» کوئی چیز – «إِلَّا» مگر – «أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» وہ اسے وہ (چیز) عطا کر دیتا ہے۔ – «وَأَشَارَ» اور اشارہ کیا – «بِيَدِهِ» اپنے ہاتھ سے – «يُقَلِّلُهَا» اسے تھوڑا (مختصر) بتاتے ہوئے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں – «لِمُسْلِمٍ» مسلم کی: – «وَهِيَ» اور وہ – «سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ» مختصر سی گھڑی ہے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بندہ اسے اس حال میں پا لے کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ عزوجل سے کوئی چیز مانگ رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے۔“ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس کا مختصر ہونا بیان کیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: ”اور وہ ایک مختصر سی گھڑی ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 370]
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بندہ اسے اس حال میں پا لے کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ عزوجل سے کوئی چیز مانگ رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے۔“ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس کا مختصر ہونا بیان کیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: ”اور وہ ایک مختصر سی گھڑی ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 370]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجمعة، باب الساعة التي في يوم الجمعة، حديث:935، ومسلم، الجمعة، باب في الساعة التي في يوم الجمعة، حديث:852.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 371
وعن أبي بردة عن أبيه رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «هي ما بين أن يجلس الإمام إلى أن تقضى الصلاة» . رواه مسلم، ورجح الدارقطني أنه من قول أبي بردة. وفي حديث عبد الله بن سلام رضي الله عنه عند ابن ماجه. وجابر رضي الله عنه عند أبي داود وللنسائي: «أنها ما بين صلاة العصر إلى غروب الشمس» . وقد اختلف فيها على أكثر من أربعين قولا أمليتها في شرح البخاري.
سیدنا ابوبردہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ان کے والد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ”وہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے کے وقت سے لے کر اختتام جماعت تک کے دوران میں ہے۔“ (مسلم) اور دارقطنی نے تو اس کو ترجیح دی ہے کہ یہ ابوبردہ کا قول ہے۔ اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ابن ماجہ نے اور جابر رضی اللہ عنہ سے ابوداؤد اور نسائی نے روایت نقل کی ہے کہ وہ گھڑی نماز عصر سے غروب آفتاب تک کے درمیانی عرصہ میں ہے۔
اس میں مختلف علماء کے چالیس اقوال ہیں۔ میں نے ان سب کو فتح الباری شرح بخاری میں لکھ دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 371]
اس میں مختلف علماء کے چالیس اقوال ہیں۔ میں نے ان سب کو فتح الباری شرح بخاری میں لکھ دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 371]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي بُرْدَةَ» ابو بردہ – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعْتُ» میں نے سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «هِيَ» وہ (گھڑی) – «مَا بَيْنَ» درمیان ہے – «أَنْ يَجْلِسَ» (اس کے) کہ بیٹھے – «الْإِمَامُ» امام – «إِلَى أَنْ تُقْضَى» یہاں تک کہ پوری ہو جائے – «الصَّلَاةُ» نماز۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «وَرَجَّحَ» اور راجح قرار دیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «أَنَّهُ» کہ یہ – «مِنْ قَوْلِ» قول ہے – «أَبِي بُرْدَةَ» ابو بردہ کا۔ – «وَفِي حَدِيثِ» اور حدیث میں – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ» عبداللہ بن سلام کی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ» ابن ماجہ کے ہاں – «وَجَابِرٍ» اور جابر کی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ» ابو داود کے ہاں – «وَلِلنَّسَائِيِّ» اور نسائی کے ہاں: – «أَنَّهَا» کہ وہ (گھڑی) – «مَا بَيْنَ» درمیان ہے – «صَلَاةِ الْعَصْرِ» عصر کی نماز – «إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ» سورج غروب ہونے تک۔ – «وَقَدِ اخْتُلِفَ» اور یقیناً اختلاف کیا گیا ہے – «فِيهَا» اس (گھڑی) کے بارے میں – «عَلَى أَكْثَرَ» زیادہ پر – «مِنْ أَرْبَعِينَ قَوْلًا» چالیس اقوال سے – «أَمْلَيْتُهَا» میں نے انہیں املا کروایا ہے – «فِي شَرْحِ الْبُخَارِيِّ» بخاری کی شرح (فتح الباری) میں۔
اور ابو بردہ اپنے والد (سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”وہ (قبولیت کی گھڑی) امام کے (منبر پر) بیٹھنے سے لے کر نماز پوری ہونے تک کے درمیان ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، اور دارقطنی نے راجح قرار دیا ہے کہ یہ ابو بردہ کا قول ہے۔ اور ابن ماجہ کے ہاں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی حدیث میں، اور ابو داود اور نسائی کے ہاں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ”وہ (گھڑی) عصر کی نماز سے سورج غروب ہونے تک کے درمیان ہے۔“ اور اس (گھڑی) کے بارے میں چالیس سے زیادہ اقوال میں اختلاف ہوا ہے، جنہیں میں نے شرح بخاری (فتح الباری) میں لکھوایا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 371]
اور ابو بردہ اپنے والد (سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”وہ (قبولیت کی گھڑی) امام کے (منبر پر) بیٹھنے سے لے کر نماز پوری ہونے تک کے درمیان ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، اور دارقطنی نے راجح قرار دیا ہے کہ یہ ابو بردہ کا قول ہے۔ اور ابن ماجہ کے ہاں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی حدیث میں، اور ابو داود اور نسائی کے ہاں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ”وہ (گھڑی) عصر کی نماز سے سورج غروب ہونے تک کے درمیان ہے۔“ اور اس (گھڑی) کے بارے میں چالیس سے زیادہ اقوال میں اختلاف ہوا ہے، جنہیں میں نے شرح بخاری (فتح الباری) میں لکھوایا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 371]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب في الساعة التي في يوم الجمعة، حديث:853.* الحديث المرفوع، وقول أبي بردة صحيحان محفوظان كلاهما، وحديث عبدالله بن سلام أخرجه ابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1139 وهو حديث حسن، وحديث جابر أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:1048، والنسائي، الجمعة، حديث:1390، وسنده صحيح، وانظر فتح الباري:2 /416-422.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 372
وعن جابر رضي الله عنه قال: مضت السنة أن في كل أربعين فصاعدا جمعة. رواه الدارقطني بإسناد ضعيف.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سنت طریقہ یہ جاری رہا ہے کہ چالیس یا اس سے کچھ اوپر کی تعداد پر جمعہ ہے۔
اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 372]
اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 372]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «مَضَتِ السُّنَّةُ» سنت جاری ہو چکی ہے – «أَنَّ» کہ – «فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ» ہر چالیس – «فَصَاعِدًا» یا اس سے زیادہ (افراد) میں – «جُمُعَةً» جمعہ ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ سنت جاری ہو چکی ہے کہ ہر چالیس یا اس سے زیادہ (افراد کی جماعت) پر جمعہ ہے۔ اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 372]
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ سنت جاری ہو چکی ہے کہ ہر چالیس یا اس سے زیادہ (افراد کی جماعت) پر جمعہ ہے۔ اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 372]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:2 /3، 4.* خصيف وعبدالعزيز بن عبدالرحمن ضعيفان.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 373
وعن سمرة بن جندب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يستغفر للمؤمنين والمؤمنات كل جمعة. رواه البزار بإسناد لين.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بخشش (مغفرت) کی دعا فرمایا کرتے تھے۔
اسے بزار نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 373]
اسے بزار نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 373]
«وَعَنْ» اور سے – «سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ» سمرہ بن جندب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يَسْتَغْفِرُ» بخشش مانگا کرتے تھے – «لِلْمُؤْمِنِينَ» مومن مردوں کے لیے – «وَالْمُؤْمِنَاتِ» اور مومن عورتوں کے لیے – «كُلَّ جُمُعَةٍ» ہر جمعہ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبَزَّارُ» بزار نے – «بِإِسْنَادٍ لَيِّنٍ» کمزور سند کے ساتھ۔
اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بخشش کی دعا کیا کرتے تھے۔ اسے بزار نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 373]
اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بخشش کی دعا کیا کرتے تھے۔ اسے بزار نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 373]
تخریج الحدیث: «أخرجه البزار (كشف الأستار): 1 /307، 308. فيه يوسف بن خالد السمتي متروك متهم، وعلل أخرٰي.»
الحكم على الحديث:
ضعيف