بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب عشرة النساء
عورتوں (بیویوں) کے ساتھ رہن سہن و میل جول کا بیان
حدیث نمبر: 877
وعن جذامة بنت وهب رضي الله عنها قالت: حضرت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في أناس، وهو يقول: «لقد هممت أن أنهى عن الغيلة، فنظرت في الروم وفارس، فإذا هم يغيلون أولادهم، فلا يضر ذلك أولادهم شيئا» ثم سألوه عن العزل، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ذلك الوأد الخفي» . رواه مسلم.
سیدہ جدامہ بنت وھب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے کہ ”میں نے غیلہ سے منع کرنے کا ارادہ کیا۔ فوراً میری نظر روم و فارس پر پڑی جو اپنی اولاد سے غیلہ کرتے ہیں اور یہ غیلہ ان کی اولاد کو کچھ بھی ضرر نہیں دیتا۔“ پھر ان لوگوں نے عزل کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ زندہ درگور کرنے کا خفیہ طریقہ ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 877]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب جواز الغيلة، وهي وطيء المرضع، وكراهة العزل، حديث:1442.»
حدیث نمبر: 878
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رجلا قال: يا رسول الله إن لي جارية وأنا أعزل عنها، وأكره أن تحمل، وأنا أريد ما يريد الرجال، وإن اليهود تحدث أن العزل الموءودة الصغرى؟ قال: «كذبت اليهود، لو أراد الله أن يخلقه ما استطعت أن تصرفه» . رواه أحمد وأبو داود واللفظ له، والنسائي والطحاوي، ورجاله ثقات.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے۔ میں اس سے عزل کرتا ہوں اور اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں اور میں وہی چاہتا ہوں جو مرد چاہتے ہیں۔ یہودی کہتے ہیں کہ عزل تو چھوٹا زندہ درگور کرنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہود نے جھوٹ بولا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے پیدا کرنا چاہے تو اسے تو پھیر نہیں سکتا۔“ اسے احمد، ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں نسائی اور طحاوی نے بھی اسے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 878]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب ما جاء في العزل، حديث:2171، والنسائي، النكاح، حديث:3329، وأحمد:3 /33، والطحاوي في مشكل الآثار:2 /372، وحديث البيهقي(7 /230)يغني عنه.»
حدیث نمبر: 879
وعن جابر قال: كنا نعزل على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم والقرآن ينزل، ولو كان شيئا ينهى عنه، لنهانا عنه القرآن. متفق عليه. ولمسلم: فبلغ ذلك نبي الله صلى الله عليه وآله وسلم فلم ينهنا عنه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کرتے تھے اور قرآن اس وقت نازل ہو رہا تھا اگر کوئی چیز قابل ممانعت ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے لازما منع کر دیتا (بخاری و مسلم) اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 879]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب العزل، حديث:5207، ومسلم، النكاح، باب حكم العزل، حديث:1440.»
حدیث نمبر: 880
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يطوف على نسائه بغسل واحد.أخرجاه، واللفظ لمسلم.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی غسل سے ساری بیویوں کے پاس چلے جایا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 880]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الغسل، باب الجنب يخرج ويمشي في السوق وغيره، حديث:284، ومسلم، الحيض، باب جواز نوم الجنب......،حديث:309.»