🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. باب مَنْ هَابَ الْفُتْيَا وَكَرِهَ التَّنَطُّعَ وَالتَّبَدُّعَ:
ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 142
أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ بن جابر، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: "كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ عَلَى الطَّرِيقِ مَا كَانَ عَلَى الْأَثَرِ".
امام ابن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگوں کا خیال تھا آدمی جب تک حدیث پر عامل ہے صراط مستقیم پر ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 142] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم لابن عبدالبر 1778، 1779] ، محمد بن سیرین اپنے وقت کے امام، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے خاص شاگرد، کبار تابعین میں سے تھے۔ 110 ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ دیکھئے: [الخلاصة ص: 340]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 143
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: "مَا دَامَ عَلَى الْأَثَرِ، فَهُوَ عَلَى الطَّرِيقِ".
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: انسان جب تک عامل بالحدیث ہے وہ صحیح راستے پر ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 143] »
اس روایت کی یہ سند صحیح ہے، مذکورہ بالا حوالہ دیکھئے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 141 سے 143)
مفہوم یہ کہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہٹ کر عمل کرنا ضلالت و گمراہی ہے۔
مسلکِ سنّت پر اے سالک چلا جا بے ڈھرک
جنت الفردوس کو سیدھی گئی ہے یہ سڑک

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ، وَقَبْضُهُ أَنْ يَذْهَبَ أَهْلُهُ، أَلَا وَإِيَّاكُمْ، وَالتَّنَطُّعَ، وَالتَّعَمُّقَ، وَالْبِدَعَ، وَعَلَيْكُمْ بِالْعَتِيقِ".
ابوقلابہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علم حاصل کرو اس کے پہلے کہ وہ قبض کر لیا جائے، اور علم کا قبض کیا جانا یہ ہے کہ اہل علم ختم ہو جائیں۔ خبردار! اپنے آپ کو غلو، بہت زیادہ غور و خوض (تعمق) اور نئی عبادتیں ایجاد کرنے سے بچانا، اور (طریق) قدیم کو مضبوطی سے تھامے رکھنا۔ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب رضوان اللہ علیہم کے طریق کو پکڑے رہنا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع أبو قلابة: عبد الله بن زيد الجرمي لم يدرك عبد الله بن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 144] »
اس روایت کے رواۃ ثقات ہیں لیکن سند میں انقطاع ہے کیونکہ ابوقلابہ کا لقاء سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔ نیز یہ اثر [إبانة 168] ، [مفتاح الجنة ص:30] ، [الفردوس 2236] و [كنز العمال 28865] وغیرہ میں موجود ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 145
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "عَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ، وَقَبْضُهُ أَنْ يُذْهَبَ بِأَصْحَابِهِ، عَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَتَى يُفْتَقَرُ إِلَيْهِ أَوْ يُفْتَقَرُ إِلَى مَا عِنْدَهُ، إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَقْوَامًا يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَدْعُونَكُمْ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَقَدْ نَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّبَدُّعَ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَطُّعَ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّعَمُّقَ، وَعَلَيْكُمْ بِالْعَتِيقِ".
ابوقلابہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: علم حاصل کرو اس سے پہلے کہ وہ سمیٹ لیا جائے، اور اس کا سمٹ جانا یہ ہے کہ اہل علم اٹھا لئے جائیں، علم کو لازم پکڑو (کیونکہ) تم میں سے کوئی نہیں جانتا کب اس کی ضرورت پڑ جائے، یا اس شخص کی ضرورت پڑ جائے جس کے پاس علم ہو، تم کو ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جن کا گمان ہو گا کہ وہ کتاب اللہ کی طرف بلاتے ہیں، حالانکہ انہوں نے اسے (کتاب اللہ کو) پس پشت ڈال رکھا ہو گا، علم کو تھامے رکھو اور نئی عبادتیں ایجاد کرنے (بدعت) سے بچو، غلو سے دور رہو، تعمق و گہرائی سے پرہیز کرو، اور اسلاف کے نقش قدم پر چلو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه أبو قلابة لم يدرك ابن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 145] »
اس اثر کی سند بھی مذکورہ بالا اثر کی طرح ضعیف ہے۔ مزید اطلاع کے لئے دیکھئے: [طبراني 8845] و [شرح اعتقاد أهل السنة 108]
وضاحت: (تشریح احادیث 143 سے 145)
لیکن یہ اثر ضعیف ہونے کے باوجود اقوالِ زریں کا نمونہ ہے اور اس میں علم حاصل کرنے کی ترغیب، غلو، تعمق اور بدعت سے پرہیز کی تلقین اور اسلافِ کرام کے نقشِ قدم پر چلنے کی بات کہی گئی ہے جو بالکل درست اور ضروری ہے، الله تعالیٰ سب کو اس کی توفیق بخشے۔
آمین

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 146
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: صَبِيغٌ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ أَعَدَّ لَهُ عَرَاجِينَ النَّخْلِ، فَقَالَ: "مَنْ أَنْتَ؟، قَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ صَبِيغٌ، فَأَخَذَ عُمَرُ عُرْجُونًا مِنْ تِلْكَ الْعَرَاجِينِ، فَضَرَبَهُ وَقَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ فَجَعَلَ لَهُ ضَرْبًا حَتَّى دَمِيَ رَأْسُهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، حَسْبُكَ، قَدْ ذَهَبَ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ فِي رَأْسِي".
سلیمان بن یسار نے کہا: ایک شخص جس کا نام صبیغ تھا، مدینہ آ کر قرآن کی آیات متشابہات کے بارے میں پوچھنے لگا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھجور کی ٹہنیاں منگائیں اور اسے بلا بھیجا، پوچھا تم کون ہو؟ جواب دیا میں اللہ کا بندہ صبیغ ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان ٹہنیوں میں سے ایک ٹہنی اٹھائی اور کہا: میں اللہ کا بندہ عمر ہوں اور اس کی پٹائی شروع کر دی، یہاں تک کہ اس کا سر لہولہان ہو گیا تو اس نے کہا: بس کیجئے امیر المومنین، میرے سر میں جو شبہات در آئے تھے ختم ہو گئے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع سليمان بن يسار لم يدرك عمر بن الخطاب، [مكتبه الشامله نمبر: 146] »
سلیمان بن یسار نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا اس لئے یہ روایت منقطع ہے، اور اس کو آجری نے [الشرعية ص: 75] میں ذکر کیا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 147
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ سورة آل عمران آية 7 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ، فَاحْذَرُوهُمْ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: « ﴿هُوَ الَّذِيْ أَنْزَلَ ...﴾ » (آل عمران: 7/3) اور فرمایا: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو آیات متشابہات کی تلاش میں رہتے ہوں تو ان سے بچو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 147]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «حديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 147] »
یہ متفق علیہ صحیح حدیث ہے۔ دیکھئے: [البخاري 4547] ، [مسلم 2665]
وضاحت: (تشریح احادیث 145 سے 147)
محکم سے مراد وہ آیات ہیں جن کا معنی ومفہوم واضح اور صریح امر یا نہی کی صورت میں ہو، اور اس کا حکم اٹل ہو، اور متشابہ اس کے برعکس ہے۔
ان دونوں روایات سے معلوم ہوا کہ متشابہات میں خوض سے بچنا چاہیے، جیسا کہ دوسری متفق علیہ حدیث سے واضح ہوتا ہے۔
ترجمہ آیتِ مذکورہ بالا: وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے آپ پر کتاب اتاری جس میں بعض آیات محکم (مضبوط) ہیں جو اصل کتاب ہیں، اور بعض متشابہ آیات ہیں۔
جن کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 148
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللَّه عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: "إِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ أُحِلَّ لَكَ شَيْئًا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، أَوْ أُحَرِّمَ مَا أَحَلَّهُ اللَّهُ لَكَ".
شقیق نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں یہ ناپسند کرتا ہوں کہ کوئی ایسی چیز تمہارے لئے حلال کر دوں جو اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام کر رکھی ہو یا جو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے وہ حرام قرار دیدوں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 148] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن امام دارمی کے علاوہ اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ اس روایت سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فتویٰ دینے میں تامل اور شدت احتیاط کا پتہ لگتا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 149
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: "لَأَنْ أَرُدَّهُ بِعِيِّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّفَ لَهُ مَا لَا أَعْلَمُ".
حمید بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ کسی چیز کے علم سے عاجز آ کر اس کا جواب نہ دینا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ و محبوب ہے اس چیز سے کہ جس کا مجھے علم نہیں ہے اس میں تکلف سے کام لوں۔ (یعنی اپنی کم علمی کا اظہار بےجا تکلف سے بہتر ہے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 149]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 149] »
اس روایت کی سند جید ہے، اور [المعرفة والتاريخ 68/2] میں یہ اثر موجود ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 147 سے 149)
ان دونوں روایات میں بنا علم کچھ کہنے سے پرہیز اور علم نہ رکھتے ہوئے تکلف سے بچنے کی ترغیب ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 150
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ صَبِيغًا الْعِرَاقِيَّ، جَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ الْقُرْآنِ فِي أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى قَدِمَ مِصْرَ، فَبَعَثَ بِهِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَتَاهُ الرَّسُولُ بِالْكِتَابِ فَقَرَأَهُ، فَقَالَ: أَيْنَ الرَّجُلُ؟، قَالَ: فِي الرَّحْلِ، قَالَ عُمَرُ: "أَبْصِرْ أَنْ يَكُونُ ذَهَبَ فَتُصِيبَكَ مِنِّي بِهِ الْعُقُوبَةُ الْمُوجِعَةُ، فَأَتَاهُ بِهِ، فَقَالَ عُمَرُ: تَسْأَلُ مُحْدَثَةً، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى رَطَائِبَ مِنْ جَرِيدٍ، فَضَرَبَهُ بِهَا حَتَّى تَرَكَ ظَهْرَهُ دَبِرَةً، ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى بَرَأَ، ثُمَّ عَادَ لَهُ، ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى بَرَأَ، فَدَعَا بِهِ لِيَعُودَ لَهُ، قَالَ: فَقَالَ صَبِيغٌ: إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ قَتْلِي، فَاقْتُلْنِي قَتْلًا جَمِيلًا، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُدَاوِيَنِي، فَقَدْ وَاللَّهِ بَرِئْتُ، فَأَذِنَ لَهُ إِلَى أَرْضِهِ، وَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنْ لَا يُجَالِسَهُ أَحَدٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الرَّجُلِ، فَكَتَبَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ: أَنْ قَدْ حَسُنَتْ تَوْبَتُهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ: أَنْ ائْذَنْ لِلنَّاسِ بِمُجَالَسَتِهِ".
سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع نے کہا کہ صبیغ (ابن غسل) عراقی مسلمانوں کے لشکر میں کچھ آیتوں کے بارے میں سوالات کرتے ہوئے مصر پہنچے تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، جب قاصد ان کے پاس پیغام لایا تو انہوں نے پوچھا: وہ آدمی کہاں ہے؟ کہا: خیمہ میں ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جا کر دیکھو، اگر بھاگ گیا تو تمہیں دردناک سزا دوں گا، چنانچہ قاصد اسے (صبیغ کو) لے کر حاضر خدمت ہوا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نئی باتیں نکالتے ہو؟ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سرسبز ٹہنیاں منگائیں اور اس کی اتنی پٹائی لگائی کہ وہ لہولہان ہو گیا، پھر اسے چھوڑ دیا، جب وہ اور اس کے زخم اچھے ہو گئے تو پھر مار لگائی، پھر مہلت دیدی، پھر اس کو بلایا تاکہ مزہ چکھائیں، تو صبیغ نے کہا: اگر آپ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں تو ایک بارگی مار ڈالئے، اور اگر میرا علاج کرنا چاہتے ہیں تو الله کی قسم میں اب اچھا ہو گیا ہوں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس کے وطن جانے کی اجازت دیدی، اور سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ اس کے پاس کوئی مسلمان نہ بیٹھے، اور یہ چیز اس صبیغ پر بہت گراں گزری، چنانچہ سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لکھا کہ اس نے اچھی طرح سچی توبہ کر لی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ اب لوگوں کو اس سے ملنے جلنے اور بیٹھنے کی اجازت دیدو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 150]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح، [مكتبه الشامله نمبر: 150] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس میں ایک راوی عبدالله بن صالح ضعیف ہیں، نیز اسے ابن وضاح نے [البدعة ص: 56] میں اور آجری نے [الشريعة ص:75] میں ذکر کیا ہے، لیکن ان دونوں طرق میں انقطاع ہے، جیسا کہ حدیث رقم (146) میں گزر چکا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 149)
بدعتی کے پاس بیٹھنا بھی درست نہیں جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا، نیز اس اثر میں بدعتی کی سزا اور عقوبت کا بیان بھی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرًا، يَقُولُ: اسْتَفْتَى رَجُلٌ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، مَا تَقُولُ فِي كَذَا وَكَذَا؟، قَالَ: يَا بُنَيَّ، أَكَانَ الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: "أَمَّا لَا، فَأَجِّلْنِي حَتَّى يَكُونَ، فَنُعَالِجَ أَنْفُسَنَا حَتَّى نُخْبِرَكَ".
اسماعیل بن ابی خالد نے کہا میں نے عامر (الشعبی) کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فتویٰ پوچھتے ہوئے کہا: اے ابوالمنذر! آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: بیٹے! جس بارے میں تم فتویٰ پوچھ رہے ہو، کیا وہ وقوع پذیر ہو چکا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ انہوں نے جواب دیا جب نہیں تو مجھے اس وقت تک مہلت دو جب ایسا ہو جائے، پھر ہم غور کریں گے اور تمہیں فتویٰ دیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه عامر الشعبي لم يدرك أبي بن كعب، [مكتبه الشامله نمبر: 151] »
یہ منقطع روایت ہے، «وانفرد به الدارمي» ، لیکن اس طرح کی متعدد روایات [باب كراهة الفتيا اثر رقم 125-128] میں بسند صحیح گزر چکی ہیں اور آگے اس کی تفصیل بھی آرہی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں