سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب في كَرَاهِيَةِ أَخْذِ الرَّأْيِ:
رائے اور قیاس پر عمل کرنے سے ناپسندیدگی کا بیان
حدیث نمبر: 216
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو الْوَلِيدِ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ حَيَّةَ بِنْتِ أَبِي حَيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ بِالظَّهِيرَةِ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟، قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فِي بُغَاءٍ لَنَا، فَانْطَلَقَ صَاحِبِي يَبْغِي، وَدَخَلْتُ أَنَا أَسْتَظِلُّ بِالظِّلِّ، وَأَشْرَبُ مِنْ الشَّرَابِ، فَقُمْتُ إِلَى لُبَيْنَةٍ حَامِضَةٍ، ورُبَّمَا قَالَتْ: فَقُمْتُ إِلَى ضَيْحَةٍ حَامِضَةٍ، فَسَقَيْتُهُ مِنْهَا، فَشَرِبَ، وَشَرِبْتُ، قَالَتْ: وَتَوَسَّمْتُهُ فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ مَنْ أَنْتَ؟، فَقَالَ أَنَا أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: أَنْتَ أَبُو بَكْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي سَمِعْتُ بِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَذَكَرْتُ غَزْوَنَا خَثْعَمًا، وَغَزْوَةَ بَعْضِنَا بَعْضًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنْ الْأُلْفَةِ وَأَطْنَابِ الْفَسَاطِيطِ وَشَبَّكَ ابْنُ عَوْنٍ أَصَابِعَهُ، وَوَصَفَهُ لَنَا مُعَاذٌ، وَشَبَّكَ أَحْمَدُ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، حَتَّى مَتَى تَرَى أَمْرَ النَّاسِ هَذَا؟، قَالَ:"مَا اسْتَقَامَتْ الْأَئِمَّةُ"، قُلْتُ: مَا الْأَئِمَّةُ؟، قَالَ:"أَمَا رَأَيْتِ السَّيِّدَ يَكُونُ فِي الْحِوَاءِ فَيَتَّبِعُونَهُ، وَيُطِيعُونَهُ؟ فَمَا اسْتَقَامَ أُولَئِكَ".
حیۃ بنت ابی حیۃ نے کہا: دوپہر کے وقت ہمارے پاس ایک آدمی آیا، میں نے کہا: اللہ کے بندے! تم کہاں سے آ رہے ہو؟ تو اس نے کہا: میں اور میرا ساتھی بھٹکے ہوئے کی تلاش میں آئے تھے، میرا ساتھی تلاش میں نکل گیا اور میں سائے اور پانی کی تلاش میں یہاں آ گیا، حیۃ نے کہا: میں مٹی کا مٹھا لائی اور اسے پلایا، اس نے پیا اور میں نے بھی پیا، میں نے تعارف کے لئے پوچھا: اللہ کے بندے! تم کون ہو؟ تو اس نے کہا: میں ابوبکر ہوں، میں نے کہا: وہی ابوبکر جن کے بارے میں میں نے سنا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں وہی۔ حیہ نے کہا: میں نے خثعم سے اور جاہلیت میں بعض کا بعض کے ساتھ غزوے کا ذکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے جو الفت و محبت پیدا کی اور ان خیموں کا ذکر کیا۔ عبداللہ بن عون نے اپنی انگلیاں انگلیوں میں داخل کیں، معاذ بن معاذ نے بھی ایسا ہی کر کے بتایا، احمد اور ان کے استاد احمد بن عبداللہ نے بھی ایسا ہی کیا۔ میں نے کہا: اے عبدالله! کب تک تمہارا خیال ہے کہ ایسا ہی معاملہ چلتا رہے گا؟ کہا: جب تک ائمہ یا حکام سیدھے (راهِ مستقیم) پر رہیں گے۔ میں نے کہا: ائمہ سے مراد کیا ہے؟ کہا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ سید (مالک) جب گھر میں ہوتا ہے تو لوگ اس کی پیروی و اطاعت بجا لاتے ہیں، پس جب تک وہ راہ مستقیم پر رہیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 216]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 216] »
اس روایت کی سند حسن ہے، اور صرف امام دارمی کی روایت ہے۔
اس روایت کی سند حسن ہے، اور صرف امام دارمی کی روایت ہے۔
حدیث نمبر: 217
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَخٍ لِعَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ".
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سب سے زیادہ تمہارے بارے میں جس چیز سے ڈرتا ہوں وہ گمراہ کرنے والے حکام (ائمہ) ہیں۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 217]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة ولكن الحديث صحيح يشهد له الحديث قبل السابق، [مكتبه الشامله نمبر: 217] »
اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح ہے، جیسا کہ (215) میں گزر چکا ہے، اس حدیث کو امام احمد نے [مسند 441/6] میں ذکر کیا ہے۔
اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح ہے، جیسا کہ (215) میں گزر چکا ہے، اس حدیث کو امام احمد نے [مسند 441/6] میں ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 218
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بَيَانٍ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ، قَالَ: فَرَآهَا لَا تَتَكَلَّمُ، فَقَالَ: "مَا لَهَا لَا تَتَكَلَّمُ؟"، قَالُوا: نَوَتْ حَجَّةً مُصْمِتَةً، فَقَالَ لَهَا:"تَكَلَّمِي، فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ، هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ"، قَالَ: فَتَكَلَّمَتْ، فَقَالَتْ: مَنْ أَنْتَ، قَالَ: أَنَا امْرُؤٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ، قَالَتْ: مِنْ أَيِّ الْمُهَاجِرِينَ؟، قَالَ: مِنْ قُرَيْشٍ، قَالَتْ: فَمِنْ أَيِّ قُرَيْشٍ أَنْتَ؟، قَالَ: إِنَّكِ لَسَئُولٌ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَتْ: مَا بَقَاؤُنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِي جَاءَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْجَاهِلِيَّةِ؟، فَقَالَ: بَقَاؤُكُمْ عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ بِكُمْ أَئِمَّتُكُمْ، قَالَتْ: وَمَا الْأَئِمَّةُ؟، قَالَ: أَمَا كَانَ لِقَوْمِكِ رُؤَسَاءُ وَأَشْرَافٌ، يَأْمُرُونَهُمْ فَيُطِيعُونَهُمْ؟، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَهُمْ مِثْلُ أُولَئِكَ عَلَى النَّاسِ.
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ قبیلہ احمس کی ایک عورت سے ملے جس کا نام زینب تھا، آپ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کرتی ہے، پوچھا: کیا بات ہے یہ بات کیوں نہیں کرتی؟ کہا گیا کہ نذر مانی ہے کہ چپی لگا کر حج کرے گی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کہو بات کرے، یہ جائز نہیں، یہ تو دور جاہلیت کی رسم ہے۔ راوی نے کہا: وہ بات کرنے لگی اور پوچھا: آپ کون ہیں؟ جواب دیا میں مہاجرین کا ایک فرد ہوں، عورت نے کہا: کون سے مہاجرین کے کس قبیلے سے ہیں؟ کہا: قریش میں سے ہوں، عورت نے دریافت کیا: قریش کے کس خاندان سے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم تو بڑی سوال کرنے والی ہو، میں ابوبکر ہوں، کہنے لگی، جاہلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں یہ دین عطا فرمایا ہے اس پر ہم کب تک قائم رہ سکیں گے؟ کہا: کہ اس حالت پر اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک تمہارے ائمہ درست رہیں گے، اس نے کہا: ائمہ سے مراد کیا ہے؟ کہا: کیا تمہاری قوم میں سردار اور اشراف لوگ نہیں ہیں جو آ کر حکم دیں تو لوگ ان کی پیروی کریں؟ اس نے کہا: جی ہاں کیوں نہیں؟ فرمایا: لوگوں پر اس طرح کے (حاکم) ہوں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 218]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 218] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ [امام بخاري 3834] نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ [امام بخاري 3834] نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 215 سے 218)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایسی نذر جس میں مشقت ہو پوری کرنا ضروری نہیں، بلکہ اس کا کفارہ ادا کر کے اسے توڑا جا سکتا ہے، جیسا کہ ابواسرائیل کی حدیث میں پیدل چل کر حج کرنے کی نذر تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تڑوا کر سوار ہونے کا حکم دیا۔
اس حدیث میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تواضع اور خاکساری، نیز اس بات کی نشاندہی ہے کہ ائمہ و حکام جب تک درست و صالح رہیں گے خیرات و برکات کا نزول ہوتا رہے گا، اور جب ان میں بد دیانتی، بے راہ روی آئے گی تو سب کی بربادی ہے۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایسی نذر جس میں مشقت ہو پوری کرنا ضروری نہیں، بلکہ اس کا کفارہ ادا کر کے اسے توڑا جا سکتا ہے، جیسا کہ ابواسرائیل کی حدیث میں پیدل چل کر حج کرنے کی نذر تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تڑوا کر سوار ہونے کا حکم دیا۔
اس حدیث میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تواضع اور خاکساری، نیز اس بات کی نشاندہی ہے کہ ائمہ و حکام جب تک درست و صالح رہیں گے خیرات و برکات کا نزول ہوتا رہے گا، اور جب ان میں بد دیانتی، بے راہ روی آئے گی تو سب کی بربادی ہے۔
واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 219
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا عَائِذَةُ، قَالَتْ: رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُوصِي الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ، وَيَقُولُ: "مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ مِنْ امْرَأَةٍ، أَوْ رَجُلٍ، فَالسَّمْتَ الْأَوَّلَ، فَإِنَّكُمْ عَلَى الْفِطْرَةِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: السَّمْتُ الطَّرِيقُ.
واصل نے ایک عورت سے روایت کیا جس کا نام عائذہ تھا اس نے کہا: میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ عورتوں اور مردوں کو وصیت کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: تم میں سے جو کوئی بھی مرد یا عورت وہ زمانہ پائے تو اسلاف کا طریقہ لازم پکڑے، انہیں کے طریق پر رہے تو تم فطرت پر رہو گے۔ عبداللہ نے کہا: «السمت» سے مراد طریقہ ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 219]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 219] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور اسے ابن ابی شیبہ نے [مصنف 17856] میں، ابن سعد نے [طبقات 358/8] میں ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے اثر نمبر (174)
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور اسے ابن ابی شیبہ نے [مصنف 17856] میں، ابن سعد نے [طبقات 358/8] میں ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے اثر نمبر (174)
حدیث نمبر: 220
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: هَلْ تَعْرِفُ مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: "يَهْدِمُهُ زَلَّةُ الْعَالِمِ، وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْكِتَابِ، وَحُكْمُ الْأَئِمَّةِ الْمُضِلِّينَ".
زیاد بن حدیر سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: جانتے ہو اسلام کو کون سی چیز منہدم کر دے گی؟ میں نے کہا: نہیں، فرمایا: عالم کی غلطی، منافق کا کتاب اللہ میں بحث و مباحثہ یا جدال، اور گمراہ کرنے والے ائمہ کا حکم۔ (یعنی عالم کی غلطی، منافق کا جدال، اور گمراه اماموں یا حکام کا حکم اسلام کو ڈھا دے گا، اس کی عمارت کو منہدم کر دے گا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 220]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 220] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور اسے دیکھئے: [الإبانة 641-643] و [الفقيه 607] اور [جامع بيان العلم 1867، 1869] میں۔
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور اسے دیکھئے: [الإبانة 641-643] و [الفقيه 607] اور [جامع بيان العلم 1867، 1869] میں۔
حدیث نمبر: 221
أَخْبَرَنَا هَارُونُ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: "لَا تُجَالِسُوا أَصْحَابَ الْخُصُومَاتِ، فَإِنَّهُمْ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ".
محمد بن علی نے کہا: فلسفی لوگوں کے پاس نہ بیٹھو، یہ الله تعالیٰ کی آیات میں عیب نکالتے ہیں (یا عیب جوئی کرتے ہیں)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 221]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 221] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور اس اثر کو ابن بطہ نے [الإبانة 383، 384] میں ذکر کیا ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور اس اثر کو ابن بطہ نے [الإبانة 383، 384] میں ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 218 سے 221)
گرچہ اس اثر کی سند میں ضعف ہے لیکن یہ بات سورة انعام کی آیت نمبر (68) کے عین مطابق ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (ترجمہ: ”اور آپ جب ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہیں، تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہو جائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں، اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے پاس نہ بیٹھیں“)۔
گرچہ اس اثر کی سند میں ضعف ہے لیکن یہ بات سورة انعام کی آیت نمبر (68) کے عین مطابق ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (ترجمہ: ”اور آپ جب ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہیں، تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہو جائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں، اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے پاس نہ بیٹھیں“)۔
حدیث نمبر: 222
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شريك، عَنْ مُبَارَكٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "سُنَّتُكُمْ وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ بَيْنَهُمَا: بَيْنَ الْغَالِي وَالْجَافِي، فَاصْبِرُوا عَلَيْهَا رَحِمَكُمْ اللَّهُ، فَإِنَّ أَهْلَ السُّنَّةِ كَانُوا أَقَلَّ النَّاسِ فِيمَا مَضَى، وَهُمْ أَقَلُّ النَّاسِ فِيمَا بَقِيَ: الَّذِينَ لَمْ يَذْهَبُوا مَعَ أَهْلِ الْإِتْرَافِ فِي إِتْرَافِهِمْ، وَلَا مَعَ أَهْلِ الْبِدَعِ فِي بِدَعِهِمْ، وَصَبَرُوا عَلَى سُنَّتِهِمْ حَتَّى لَقُوا رَبَّهُمْ، فَكَذَلِكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَكُونُوا".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تمہاری سنت (کی پیروی) غلو کرنے والے یا اعراض کرنے والے کے مابین ہے، پس تم اس درمیانی راستے کو اپناؤ اللہ تم پر رحم فرمائے، پچھلے زمانے میں بھی سنت کے شیدائی لوگوں میں سب سے کم تھے اور آنے والے باقی زمانے میں بھی سب سے کم ہوں گے، جنہوں نے سرکش لوگوں کی ان کی سرکشتی میں، اور بدعتیوں کی ان کی بدعت میں پیروی نہیں کی، اور اپنے سنت طریقے پر جمے رہے یہاں تک کہ اپنے رب سے جا ملے، سو تم بھی اللہ کے حکم سے انہیں کی طرح ہو جاؤ۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 222]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف المبارك بن فضالة يدلس ويسوي وقد عنعن، [مكتبه الشامله نمبر: 222] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [الباعث لأبي شامة ص: 26]
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [الباعث لأبي شامة ص: 26]
حدیث نمبر: 223
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، وَمَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "الْقَصْدُ فِي السُّنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الِاجْتِهَادِ فِي الْبِدْعَةِ".
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سنت کی میانہ روی بدعت میں مشقت برداشت کرنے سے بہتر ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 223]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 223] »
اس روایت کی سند جید ہے، اور بہت سے محدثین نے اسے ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [شرح اعتقاد أهل السنة 14، 114] ، [المستدرك 103/1] ، [الفقيه 148/1] ، [السنة للمروزي 88] و [جامع بيان العلم 2334]
اس روایت کی سند جید ہے، اور بہت سے محدثین نے اسے ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [شرح اعتقاد أهل السنة 14، 114] ، [المستدرك 103/1] ، [الفقيه 148/1] ، [السنة للمروزي 88] و [جامع بيان العلم 2334]
وضاحت: (تشریح احادیث 221 سے 223)
ان تمام آثار و احادیث سے ثابت ہوا کہ: سنّت کو لازم پکڑنا چاہئے اور بدعت سے، بدعتی سے، نیز رائے زنی اور قیاس آرائی سے بچنا چاہئے۔
ان تمام آثار و احادیث سے ثابت ہوا کہ: سنّت کو لازم پکڑنا چاہئے اور بدعت سے، بدعتی سے، نیز رائے زنی اور قیاس آرائی سے بچنا چاہئے۔