سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب مَنْ رَخَّصَ في كِتَابَةِ الْعِلْمِ:
کتابت حدیث کی اجازت کا بیان
حدیث نمبر: 520
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنَشٍ، قَالَ: "رَأَيْتُهُمْ يَكْتُبُونَ عِنْدَ الْبَرَاءِ بِأَطْرَافِ الْقَصَبِ عَلَى أَكُفِّهِمْ".
عبداللہ بن حنش نے کہا: میں نے لوگوں کو سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے پاس سرکنڈوں کے کنارے سے اپنے ہاتھ پر لکھتے دیکھا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 520]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 520] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم 147] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6489] ، [جامع بيان العلم 408] و [تقييد العلم ص: 105]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم 147] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6489] ، [جامع بيان العلم 408] و [تقييد العلم ص: 105]
حدیث نمبر: 521
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ بِحَدِيثٍ، فَقُلْتُ: أَكْتُبُهُ عَنْكَ؟، قَالَ: "فَرَخَّصَ لِي وَلَمْ يَكَدْ".
ہارون بن عنترہ سے مروی ہے ان کے والد نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ کو ایک حدیث بیان کی، میں نے عرض کیا: میں اس کو آپ سے لکھ لوں؟ انہوں نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ کو اس کی اجازت دے دی اور روکا نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 521] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6503] ، [جامع بيان العلم 409]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6503] ، [جامع بيان العلم 409]
حدیث نمبر: 522
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: كَتَبَ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ إِلَى عَامِلِهِ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ حَدِيثٍ، قَالَ رَجَاءٌ: "فَكُنْتُ قَدْ نَسِيتُهُ لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ عِنْدِي مَكْتُوبًا".
رجاء بن حیوہ نے بیان کرتے ہوئے فرمایا: ہشام بن عبدالملک نے اپنے گورنر کو لکھا کہ وہ مجھ سے ایک حدیث کے بارے میں دریافت کرے، رجاء نے کہا: اگر وہ میرے پاس لکھی نہ ہوتی تو میں اس کو بھول گیا تھا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 522] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعه 793] ، [تقييد العلم ص: 108]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعه 793] ، [تقييد العلم ص: 108]
حدیث نمبر: 523
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، قَالَ: "كَانَ يُسْأَلُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، وَيُكْتَبُ مَا يُجِيبَ فِيهِ بَيْنَ يَدَيْهِ".
ہشام بن غاز نے کہا کہ وہ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کرتے تھے اور وہ جو جواب دیتے اسے ان کے سامنے لکھ لیتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 523] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کسی اور کتاب میں نہ مل سکی۔
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کسی اور کتاب میں نہ مل سکی۔
وضاحت: (تشریح احادیث 511 سے 523)
اس سے بھی کتابت اور لکھنے کی اجازت اور رضامندی ظاہر ہوتی ہے۔
اس سے بھی کتابت اور لکھنے کی اجازت اور رضامندی ظاہر ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 524
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى"أَنَّهُ رَأَى نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، يُمْلِي عِلْمَهُ، وَيُكْتَبُ بَيْنَ يَدَيْهِ".
سلیمان بن موسیٰ نے نافع مولى سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ اپنے علم کو املاء کراتے تھے اور وہ (یعنی سلیمان) ان کے سامنے لکھتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 524] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعه 792]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعه 792]
حدیث نمبر: 525
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: "كَانَ سُفْيَانُ يَكْتُبُ الْحَدِيثَ بِاللَّيْلِ فِي الْحَائِطِ، فَإِذَا أَصْبَحَ نَسَخَهُ ثُمَّ حَكَّهُ".
مبارک بن سعید نے بیان کیا: سفیان رات میں دیوار پر حدیث لکھ لیتے تھے اور جب صبح ہوتی تو اس کو نسخ کر لیتے اور جو دیوار پر لکھا تھا اسے کھرچ دیتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 525] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دوسری جگہ یہ روایت نہیں مل سکی۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دوسری جگہ یہ روایت نہیں مل سکی۔
حدیث نمبر: 526
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو غِفَارٍ الْمُثَنَّى بْنُ سَعْيدٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَهُ عُمَرُ، قُلْتُ: حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعَفَافَ وَالْعِيَّ عِيَّ اللِّسَانِ لَا عِيَّ الْقَلْبِ وَالْفِقْهَ مِنْ الْإِيمَانِ، وَهُنَّ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ، وَيُنْقِصْنَ مِنْ الدُّنْيَا، وَمَا يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ، وَإِنَّ الْبَذَاءَ وَالْجَفَاءَ وَالشُّحَّ مِنْ النِّفَاقِ، وَهُنَّ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا، وَيُنْقِصْنَ فِي الْآخِرَةِ، وَمَا يُنْقِصْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ"..
عون بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ سے کہا: فلاں صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حدیث بیان کی، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے انہیں پہچان لیا، میں نے عرض کیا: انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”یقیناً حیا، پاکبازی اور دل کی عاجزی نہیں بلکہ زبان کی عاجزی اور فقہ و تدبر ایمان میں سے ہیں، اور یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو آخرت کے اعمال میں اضافہ کرتی ہیں، اور دنیا کے افعال میں کمی کرتی ہیں، اور آخرت میں جو اضافہ کرتی ہیں وہ بہت زیادہ ہے۔ اور یقیناً بےہودگی، بدسلوکی اور بخیلی نفاق میں سے ہیں، اور یہ سب ان چیزوں میں سے ہیں جو دنیا میں اضافہ کرتی ہیں، لیکن آخرت میں کمی کرتی ہیں، اور جو آخرت میں کمی ہوتی ہے وہ بہت زیادہ ہے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 526] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ اور ابواسامہ کا نام حماد بن أسامۃ ہے۔ دیکھئے: [المعجم الكبير 29/19، 63] ، [التاريخ الكبير للبخاري 88/2، 181/7] ، [المعرفة والتاريخ للفسوي 311/1] ، [سنن البيهقي 194/10] ، [حلية الأولياء 125/3] ، [مكارم الأخلاق لابن أبى الدنيا 87] و [المصنف 17423 بسند ضعيف]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ اور ابواسامہ کا نام حماد بن أسامۃ ہے۔ دیکھئے: [المعجم الكبير 29/19، 63] ، [التاريخ الكبير للبخاري 88/2، 181/7] ، [المعرفة والتاريخ للفسوي 311/1] ، [سنن البيهقي 194/10] ، [حلية الأولياء 125/3] ، [مكارم الأخلاق لابن أبى الدنيا 87] و [المصنف 17423 بسند ضعيف]
حدیث نمبر: 527
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ، وَمَعَهُ قِرْطَاسٌ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا لِصَلَاةِ الْعَصْرِ، وَهُوَ مَعَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا هَذَا الْكِتَابُ؟، قَالَ:"هَذَا حَدِيثٌ حَدَّثَنِي بِهِ عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَأَعْجَبَنِي فَكَتَبْتُهُ"، فَإِذَا فِيهِ هَذَا الْحَدِيثُ..
ابوقلابہ نے کہا: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نماز ظہر کے لئے نکل کر آئے اور ان کے ساتھ ایک کاغذ تھا، پھر جب نماز عصر کے لئے تشریف لائے تو اس وقت بھی وہ کاغذ ان کے ساتھ تھا، لہٰذا میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! یہ کیسی کتاب ہے؟ فرمایا: یہ وہ حدیث ہے جو عون بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کی، مجھے پسند آئی تو میں نے لکھ لی، دیکھا تو وہی حدیث لکھی تھی۔ یعنی مذکور بالا حدیث۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 527] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ لیکن کسی دوسری کتاب میں نہ مل سکی۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ لیکن کسی دوسری کتاب میں نہ مل سکی۔
حدیث نمبر: 528
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا مَسْعُودٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ أَبِي سَعْدٍ، قَالَ: دَعَا الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَنِيهِ وَبَنِي أَخِيهِ، فَقَالَ:"يَا بَنِيَّ وَبَنِي أَخِي، إِنَّكُمْ صِغَارُ قَوْمٍ يُوشِكُ أَنْ تَكُونُوا كِبَارَ آخَرِينَ، فَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ أَنْ يَرْوِيَهُ، أَوْ قَالَ: يَحْفَظَهُ فَلْيَكْتُبْهُ، وَلْيَضَعْهُ فِي بَيْتِهِ".
شرحبیل بن سعد نے کہا کہ حسن نے اپنے بیٹے اور بھتیجوں کو بلایا اور فرمایا: میرے اور میرے بھائی کے بیٹو! تم خاندان کے چھوٹے ہو اور قریب ہی بڑوں میں شمار ہو گے، لہٰذا علم حاصل کرو، اور تم میں سے جو روایت و حفظ کی استطاعت نہ پائے وہ اس کو لکھے اور اپنے گھر میں رکھ لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد، [مكتبه الشامله نمبر: 528] »
اس روایت کی سند شرحبیل بن سعد کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص:91] ، [جامع بيان العلم 448]
اس روایت کی سند شرحبیل بن سعد کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص:91] ، [جامع بيان العلم 448]
وضاحت: (تشریح احادیث 523 سے 528)
ان تمام روایات سے احادیث یا علمی باتیں لکھ لینے کی ترغیب و اجازت اور اہمیت ثابت ہوتی ہے، اور صحابہ کرام و تابعین سے کتابتِ حدیث کی کراہت یا ناپسندیدگی اس وقت کے لئے تھی جب قرآن کریم اور احادیث شریفہ کے خلط ملط ہونے کا خدشہ تھا، خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابتِ حدیث سے منع فرمایا، لیکن بعد میں اجازت دے دی تھی، جیسا کہ مختلف احادیث میں گزر چکا ہے، لہٰذا آج کے زمانے میں جب کہ قرآن و حدیث مدون ہیں حدیث لکھنے یا دروس اور نوٹس بنانے یا لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس باب کی احادیث، آثار و اقوالِ صحابہ و تابعین سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔
ان تمام روایات سے احادیث یا علمی باتیں لکھ لینے کی ترغیب و اجازت اور اہمیت ثابت ہوتی ہے، اور صحابہ کرام و تابعین سے کتابتِ حدیث کی کراہت یا ناپسندیدگی اس وقت کے لئے تھی جب قرآن کریم اور احادیث شریفہ کے خلط ملط ہونے کا خدشہ تھا، خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابتِ حدیث سے منع فرمایا، لیکن بعد میں اجازت دے دی تھی، جیسا کہ مختلف احادیث میں گزر چکا ہے، لہٰذا آج کے زمانے میں جب کہ قرآن و حدیث مدون ہیں حدیث لکھنے یا دروس اور نوٹس بنانے یا لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس باب کی احادیث، آثار و اقوالِ صحابہ و تابعین سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔