سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب مَنْ رَخَّصَ في كِتَابَةِ الْعِلْمِ:
کتابت حدیث کی اجازت کا بیان
حدیث نمبر: 510
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ كِتَابِ الْعِلْمِ، فَقَالَ: "لَا بَأْسَ بِذَلِكَ".
حسن بن جابر سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے علم کو لکھنے کی بابت سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 510]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 510] »
اس روایت کی یہ اسناد جید ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 98] ، [جامع بيان العلم 411] و [طبقات ابن سعد 132/2/7]
اس روایت کی یہ اسناد جید ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 98] ، [جامع بيان العلم 411] و [طبقات ابن سعد 132/2/7]
حدیث نمبر: 511
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أُفَارِقَهُ، "أَتَيْتُهُ بِكِتَابِهِ، فَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ لَهُ: هَذَا سَمِعْتُ مِنْكَ؟، قَالَ: نَعَمْ".
بشیر بن نہیک نے کہا: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو کچھ سنتا لکھ لیا کرتا تھا، جب میں ان سے رخصت ہونے لگا تو میں اپنا لکھا ہوا ان کے پاس لے گیا اور انہیں پڑھ کر سنایا اور عرض کیا کہ یہ ہی میں نے آپ سے سنا تھا، فرمایا: ٹھیک ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 511]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 511] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 137] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6483] ، [تقييد العلم ص: 101] ، [جامع بيان العلم 403] ، [المحدث الفاصل 702] اس میں ابومجلز کا نام لاحق بن حمید ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 137] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6483] ، [تقييد العلم ص: 101] ، [جامع بيان العلم 403] ، [المحدث الفاصل 702] اس میں ابومجلز کا نام لاحق بن حمید ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 503 سے 511)
اس میں کتابتِ حدیث پر رضامندی کا اظہار ہے۔
اس میں کتابتِ حدیث پر رضامندی کا اظہار ہے۔
حدیث نمبر: 512
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ مِنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا "الْحَدِيثَ بِاللَّيْلِ فَأَكْتُبُهُ فِي وَاسِطَةِ الرَّحْلِ".
سعید بن جبیر نے کہا: میں سیدنا عبدالله بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے رات میں حدیث کا سماع کرتا اور کجاوے کے ہتھے پر لکھ لیا کرتا تھا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 512]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 512] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 102-103]
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 102-103]
حدیث نمبر: 513
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: "مَا يُرَغِّبُنِي فِي الْحَيَاةِ إِلَّا الصَّادِقَةُ وَالْوَهْطُ، فَأَمَّا الصَّادِقَةُ، فَصَحِيفَةٌ كَتَبْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا الْوَهْطُ، فَأَرْضٌ تَصَدَّقَ بِهَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُومُ عَلَيْهَا".
سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے زندگی میں صادقہ اور وہط کے سوا کوئی چیز عزیز و مرغوب نہیں۔ «صادقه» احادیث کا مجموعہ اور وہ صحیفہ ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھا اور «وهط» طائف کی وہ زمین تھی جس کو (والد محترم) عمرو بن العاص نے صدقہ کر دیا جس پر وہ کام کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 513]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل ليث بن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 513] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے، دیکھئے: [تقييد العلم ص: 84] ، [جامع بيان العلم 394]
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے، دیکھئے: [تقييد العلم ص: 84] ، [جامع بيان العلم 394]
حدیث نمبر: 514
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَمِّهْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، يَقُولُ: "قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابِ".
عبدالملک بن عبداللہ بن ابی سفیان نے اپنے چچا عمرو بن ابی سفیان سے روایت کیا کہ انہوں نے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: علم کو کتابت کے ذریعہ قید کر لو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 514]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه عنعنة ابن جريج، [مكتبه الشامله نمبر: 514] »
اس اثر کی سند میں عبدالملک متکلم فیہ ہیں اور ابن جریج نے عنعنہ سے روایت کیا ہے، اس لئے یہ روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6478] ، [جامع بيان العلم 396] ، [المحدث الفاصل 358] ، [تقييد العلم ص: 88] و [المستدرك 106/1]
اس اثر کی سند میں عبدالملک متکلم فیہ ہیں اور ابن جریج نے عنعنہ سے روایت کیا ہے، اس لئے یہ روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6478] ، [جامع بيان العلم 396] ، [المحدث الفاصل 358] ، [تقييد العلم ص: 88] و [المستدرك 106/1]
حدیث نمبر: 515
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ، قَالَ: "قَيِّدُوا هَذَا الْعِلْمَ بِالْكِتَابِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس علم کو کتابت کے ذریعہ قید کر لو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 515]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع عبد الملك بن عبد الله بن أبي سفيان لم يدرك عبد الله بن عمر. ولكن الأثر صحيح لغيره، [مكتبه الشامله نمبر: 515] »
اس روایت کے رجال ثقات ہیں، لیکن اس میں انقطاع ہے، کیونکہ عبدالملک بن عبداللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پایا ہی نہیں۔ حوالہ دیکھئے: [المعجم الأوسط 852] و [المستدرك 106/1]
اس روایت کے رجال ثقات ہیں، لیکن اس میں انقطاع ہے، کیونکہ عبدالملک بن عبداللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پایا ہی نہیں۔ حوالہ دیکھئے: [المعجم الأوسط 852] و [المستدرك 106/1]
حدیث نمبر: 516
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: "كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ لَيْلًا، وَكَانَ يُحَدِّثُنِي بِالْحَدِيثِ فَأَكْتُبُهُ فِي وَاسِطَةِ الرَّحْلِ حَتَّى أُصْبِحَ فَأَكْتُبَهُ".
عثمان بن حکیم نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر کو کہتے سنا کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہمراہ مکہ کے راستے میں چل رہا تھا اور وہ جو بھی حدیث بیان کرتے تو میں کجاوے کے ہتھے پر اسے لکھ لیتا تاکہ صبح کو (کاپی میں) لکھ لوں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 516]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 516] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6485] ، [جامع بيان العلم 405] ، [تقييد العلم ص: 102-103] اس کی سند میں ابوالنعمان: محمد بن الفضل ہیں اور عبدالواحد: ابن زیاد ہیں۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6485] ، [جامع بيان العلم 405] ، [تقييد العلم ص: 102-103] اس کی سند میں ابوالنعمان: محمد بن الفضل ہیں اور عبدالواحد: ابن زیاد ہیں۔
حدیث نمبر: 517
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "كُنْتُ أَكْتُبُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي صَحِيفَةٍ، وَأَكْتُبُ فِي نَعْلَيَّ".
سعید بن جبیر نے کہا میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس صحیفہ میں لکھتا تھا اور کچھ نہیں تو جوتے پر بھی لکھ لیتا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 517]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن ابن مندة قال: " جعفر بن أبي المغيرة ليس بالقوي في سعيد بن جبير "، [مكتبه الشامله نمبر: 517] »
اس روایت کے رجال ثقات ہیں، سوائے جعفر بن ابی مغیرہ کے، جو سعید بن جبیر سے روایت میں قوی نہیں۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 102]
اس روایت کے رجال ثقات ہیں، سوائے جعفر بن ابی مغیرہ کے، جو سعید بن جبیر سے روایت میں قوی نہیں۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 102]
حدیث نمبر: 518
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "كُنْتُ أَجْلِسُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَكْتُبُ فِي الصَّحِيفَةِ حَتَّى تَمْتَلِئَ، ثُمَّ أَقْلِبُ نَعْلَيَّ فَأَكْتُبُ فِي ظُهُورِهِمَا".
سعید بن جبیر نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھتا تھا اور صحیفہ میں لکھتا یہاں تک کہ وہ بھر جاتا تو میں اپنے جوتے الٹتا اور ان کے تلے میں لکھ لیتا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 518]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف علي بن مندل العنزي، [مكتبه الشامله نمبر: 518] »
اس روایت کی سند میں مندل بن علی ضعیف ہیں۔ حوالہ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 102] و [المحدث الفاصل 347]
اس روایت کی سند میں مندل بن علی ضعیف ہیں۔ حوالہ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 102] و [المحدث الفاصل 347]
حدیث نمبر: 519
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلٌ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، قَالَ: "رَأَيْتُهُمْ يَكْتُبُونَ التَّفْسِيرَ عِنْدَ مُجَاهِدٍ".
عبید (بن مہران) مُکتِب نے کہا: میں نے لوگوں کو دیکھا وہ مجاہد سے تفسیر لکھتے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 519]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 519] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص:105] ، فضیل: ابن عیاض اور عبید: ابن مہران ہیں۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص:105] ، فضیل: ابن عیاض اور عبید: ابن مہران ہیں۔