سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. باب الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ تُصَلِّي في ثَوْبِهَا إِذَا طَهُرَتْ:
حائضہ عورت کا طہارت کے بعد حیض والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1054
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَوْبِهَا إِذَا طَهُرَتْ مِنْ مَحِيضِهَا، كَيْفَ تَصْنَعُ بِهِ؟، قَالَ: "إِنْ رَأَيْتِ فِيهِ دَمًا فَحُكِّيهِ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِمَاءٍ، ثُمَّ انْضَحِي فِي سَائِرِهِ، فَصَلِّي فِيهِ".
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے کے بارے میں سوال کرتے سنا کہ عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو اس کپڑے کا کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس پر خون لگا دیکھو تو کھرچ دو، پانی سے مل دو، پھر پورے کپڑے پر پانی چھڑک دو اور اس میں نماز پڑھ لو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1058] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اور (795) پر اس کی تخریج گذر چکی ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اور (795) پر اس کی تخریج گذر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1055
أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْحَدَّادِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحِيضَةِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ، فَقَالَ: "اغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَحُكِّيهِ بِضِلَعٍ".
سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کا خون لگے ہوئے کپڑے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی اور بیری کے پتوں سے اسے دھو ڈالو اور لکڑی سے کھرچ دو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1055]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1059] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 356/6] ، [أبوداؤد 363] ، [نسائي 293] ، [ابن ماجه 628] ، [مصنف عبدالرزاق 1226] و [بيهقي 407/2]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 356/6] ، [أبوداؤد 363] ، [نسائي 293] ، [ابن ماجه 628] ، [مصنف عبدالرزاق 1226] و [بيهقي 407/2]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1056
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: سَمِعْتُ كَرِيمَةَ، قالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، وَسَأَلْتُهَا امْرَأَةٌ يُصِيبُ ثَوْبَهَا مِنْ دَمِ حِيضَتِهَا، قَالَتْ: "لِتَغْسِلْهُ بِالْمَاءِ"، قَالَتْ: فَإِنَّا نَغْسِلُهُ فَيَبْقَى أَثَرُهُ؟، قَالَتْ:"إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ".
کریمہ نے کہا میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: عورت کے کپڑے میں اس کے حیض کا خون لگ جائے تو کیا کرے؟ جواب دیا: اسے پانی سے دھو ڈالے، عرض کیا: ہم دھو ڈالتے ہیں لیکن اثر باقی رہ جاتا ہے، کہا: پانی پاک کر دیتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1056]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1060] »
اس اثر کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 189/1] و [البيهقي 408/2]
اس اثر کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 189/1] و [البيهقي 408/2]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1057
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "كَانَتْ عَائِشَةُ تَرَى الشَّيْءَ مِنْ الْمَحِيضِ فِي ثَوْبِهَا، فَتَحُتُّهُ بِالْحَجَرِ، أَوْ بِالْعُودِ، أَوْ بِالْقَرْنِ، ثُمَّ تَرُشُّهُ".
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حیض لگے کپڑے کے بارے میں خیال تھا کہ عورت اسے پتھر پر رگڑ دے، لکڑی، سینگ سے رگڑ دے، پھر اس پر پانی چھڑک دے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1057]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1061] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1228]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1228]
وضاحت: (تشریح احادیث 1042 سے 1057)
ان تمام آثار و احادیث سے معلوم ہوا کہ عورت حیض کی حالت میں جو کپڑے پہنے ہوئی تھی ان کپڑوں میں خون لگ جائے تو اسے صاف کر کے ان میں نماز پڑھ سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
ان تمام آثار و احادیث سے معلوم ہوا کہ عورت حیض کی حالت میں جو کپڑے پہنے ہوئی تھی ان کپڑوں میں خون لگ جائے تو اسے صاف کر کے ان میں نماز پڑھ سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح