🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

107. باب مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ:
حیض والی عورت سے مباشرت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1088
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَتَوَشَّحُنِي وَأَنَا حَائِضٌ، وَيُصِيبُ مِنْ رَأْسِي وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ ثَوْبٌ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حیض کی حالت میں معانقہ کرتے (چمٹا لیتے) تھے، میرے سر کو چھوتے، مگر ہمارے درمیان کپڑ ا حائل رہتا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1088]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1092] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد الطيالسي 238] ، [مسند أبى يعلی 4487] ، [بيهقي 312/1] ۔ نیز دیکھئے: اثر رقم (1073)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1089
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا، وَلَمْ يُشَارِبُوهَا، وَأَخْرَجُوهَا مِنْ الْبَيْتِ، وَلَمْ تَكُنْ مَعَهُمْ فِي الْبُيُوتِ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ، وَأَنْ يُشَارِبُوهُنَّ، وَأَنْ يَكُنَّ مَعَهُمْ فِي الْبُيُوتِ، وَأَنْ يَفْعَلُوا كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا النِّكَاحَ"، فَقَالَتْ الْيَهُودُ: مَا يُرِيدُ هَذَا أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ بِذَلِكَ، وَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ؟"فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَعُّرًا شَدِيدًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَقَامَا، فَخَرَجَا"، هَدِيَّةُ لَبَنٍ"فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمَا فَرَدَّهُمَا فَسَقَاهُمَا"، فَعَلِمْنَا أَنَّهُ لَمْ يَغْضَبْ عَلَيْهِمَا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہود میں جب کوئی عورت حائضہ ہوتی تو نہ اس کے ساتھ کھاتے نہ پیتے، اسے کمرے سے نکال دیتے، وہ لوگوں کے ساتھ گھر میں بھی نہ رہ پاتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى» [2-البقرة:222] وہ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مسلمانوں کو) حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں پئیں، گھر میں رہیں، ان کے ساتھ سوائے جماع کے کچھ بھی کریں، (جب یہود کو خبر لگی تو) انہوں نے کہا: یہ شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہتا ہے کہ ہر چیز میں ہماری مخالفت کرے۔ (یہ سنا تو) سیدنا عباد بن بشر اور سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ یہود ایسا ایسا کہتے ہیں، تو کیا ہم حائضہ عورتوں سے جماع نہ کر لیا کریں؟ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ شدت سے بدل گیا، ہم سمجھے آپ ان سے ناراض ہو گئے، ہم دونوں اٹھے اور چل دیئے، اتنے میں دودھ کا ہدیہ آیا تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا بھیجا (واپس آئے تو) ان دونوں کو دودھ پلایا، لہٰذا ہم کو معلوم ہو گیا کہ آپ ان سے غصہ نہیں ہوئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1089]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1093] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 302] ، [أبوداؤد 2165] ، [ترمذي 2977] ، [نسائي 287] ، [ابن ماجه 644] ، [مسند الموصلي 3533] ، [صحيح ابن حبان 1362]
وضاحت: (تشریح احادیث 1086 سے 1089)
اس طویل حدیث سے حائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا، رہن سہن کا پتہ چلا۔
حیض کی حالت میں جماع کرنا خلافِ شرع تھا اس لئے آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا کیونکہ یہ چیز حرام ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1090
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ، حَدَّثَنِي شَيْبَةُ بْنُ هِشَامٍ الرَّاسِبِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الرَّجُلِ يُضَاجِعُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ: "أَمَّا نَحْنُ آلَ عُمَرَ فَنَهْجُرُهُنَّ إِذَا كُنَّ حُيَّضًا".
شیبہ بن ہشام راسبی نے کہا: میں نے سالم بن عبداللہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو ایک لحاف میں بحالت حیض اپنی بیوی کے ساتھ لیٹے؟ (تو انہوں نے کہا) ہم آل عمر عورتوں کو حالت حیض میں چھوڑ دیتے ہیں (یعنی پاس نہیں لٹاتے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1090]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1094] »
ابوہلال محمد سلیم راسبی کی وجہ سے یہ روایت حسن کے درجہ کو پہنچتی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 255/4 عن طريق أبى نعيم فضل بن دكين] ، سند حسن ہونے کے باوجود یہ ان کا فعل تھا جو صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ اور شاید یہ ان کے شدتِ احتیاط کی وجہ سے تھا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1091
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "لَا بَأْسَ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ مَا لَمْ تَكُنْ جُنُبًا أَوْ حَائِضًا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عورت اگر جنبی یا حائضہ نہ ہو تو اس کے بچے ہوئے پانی کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1091]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1095] »
اس روایت کے رواۃ ثقہ ہیں، صرف ابن اسحاق مدلس ہیں اور انہوں نے عنعنہ سے روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 33/1] و [مصنف عبدالرزاق 394]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1092
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: "تَضَعُهُ وَضْعًا يَعْنِي عَلَى الْفَرْجِ".
حکم بن عتبہ رحمہ اللہ نے کہا: ایسی صورت میں وہ شرم گاہ پر (کپڑا) رکھ لے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1092]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1096] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1093
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ نُدْبَةَ مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ، يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ أَوْ الرُّكْبَتَيْنِ مُحْتَجِزَةً بِهِ".
ام المومنین زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی سے بھی بحالت حیض ازار کے اوپر سے مباشرت فرما لیتے تھے، جو ازار کہ آدھی ران یا گھٹنے تک بندھا رہتا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1093]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1097] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 267] ، [نسائي 286، 374] ، [مسند أبى يعلی 7082، 7089] و [صحيح ابن حبان 1365]
وضاحت: (تشریح احادیث 1089 سے 1093)
ان تمام روایات سے حالتِ حیض میں عورت سے مباشرت کرنے، ساتھ لیٹنے اور ساتھ کھانے پینے کا ثبوت ملا، اس حالت میں صرف جماع کرنے کی ممانعت ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں