🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

107. باب مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ:
حیض والی عورت سے مباشرت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1068
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لِي مِنْ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ؟، قَالَ: "لِتَشُدَّ عَلَيْهَا إِزَارَهَا ثُمَّ شَأْنَكَ بِأَعْلَاهَا".
زید بن اسلم سے مروی ہے: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری بیوی کے حالت حیض میں میرے لئے کیا چیز حلال ہے؟ فرمایا: وہ اپنے کپڑے (ازار کو) مضبوطی سے کس لے، پھر اوپر اوپر تم مباشرت کر سکتے ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 1072] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المؤطا 95] ، [بيهقي 191/7] ، [المعجم الكبير 10765] ، لیکن سب کی سند ضعیف ہے، مگر اس معنی کی روایات صحیح سند سے بھی مروی ہیں۔ «كما سيأتي» ۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1069
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: أَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لِيَسْأَلَهَا: هَلْ يُبَاشِرُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ؟، فَقَالَتْ: "لِتَشُدَّ إِزَارَهَا عَلَى أَسْفَلِهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا".
نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ بن عمر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس قاصد بھیجا کہ وہ ان سے دریافت کرے کہ کیا آدمی اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مباشرت کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: وہ (حائضہ عورت) نیچے تک اچھی طرح ازار کس لے، پھر شوہر اس سے مباشرت کر لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 1073] »
اس روایت کے سب رجال ثقات ہیں۔ دیکھئے: [المؤطا 97] ، [مصنف عبدالرزاق 1241] ، [مصنف ابن أبى شيبه 254/4] و [بيهقي 190/7-191]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1070
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْحَائِضُ يَأْتِيهَا زَوْجُهَا فِي مَرَاقِّهَا وَبَيْنَ فَخِذَيْهَا، فَإِذَا دَفَقَ، غَسَلَتْ مَا أَصَابَهَا، وَاغْتَسَلَ هُوَ".
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے کہا: حائضہ عورت سے اس کا شوہر ملائم جگہ اور رانوں کے درمیان مباشرت کر سکتا ہے، اگر منی نکل جائے تو وہ اس جگہ کو دھو لے گی اور مرد غسل کرے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1070]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1074] »
اس قول کی سند صحیح ہے، لیکن کہیں اور نہ مل سکی۔ اس کے ہم معنی روایت [مصنف عبدالرزاق 971] میں ہے۔ نیز ابن ابی زائده: یحییٰ بن زکریا اور حماد: ابن ابی سلیمان ہیں۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1067 سے 1070)
«مراق» : نرم جگہ کو کہتے ہیں جو پیڑو کے نیچے ہوتی ہے اور «دفق» بمعنی انزل یعنی انزال ہو جائے۔
اور مباشرت جسم سے جسم لگانے اور چمٹانے کو کہتے ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1071
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ الْكَرِيمِ عَنْ الْحَائِضِ، فَقَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: "لَقَدْ عَلِمَتْ أُمُّ عِمْرَانَ أَنِّي أَطْعُنُ فِي أَلْيَتِهَا، يَعْنِي: وَهِيَ حَائِضٌ".
امام ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ام عمران کو معلوم ہے کہ میں حالت حیض میں ان کی سرین میں ٹھوکر لگاتا ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1075] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہیں ملی۔ عبدالکریم: ابن مالک الجزری ہیں۔
وضاحت: (تشریح حدیث 1070)
اس سے معلوم ہوا حائضہ عورت سے استمتاع جائز ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1072
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَطَاءً عَنْ الْحَائِضِ "فَلَمْ يَرَ بِمَا دُونَ الدَّمِ بَأْسًا".
مالک بن مغول نے کہا: ایک آدمی نے عطاء رحمہ اللہ سے حائضہ عورت (سے استمتاع) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے خون کی جگہ کے علاوہ میں کوئی حرج نہیں بتایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1072]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع مالك بن مغول لم يسمع من عطاء بن أبي رباح، [مكتبه الشامله نمبر: 1076] »
مالک بن مغول کا عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سماع ثابت نہیں، لہذا یہ روایت منقطع ہے، کہیں اور ملی بھی نہیں۔ اس کے ہم معنی [مصنف عبدالرزاق 1242] میں ہے اور معنی تو صحیح ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1073
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "كُنْتُ إِذَا حِضْتُ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَّزِرُ، وَكَانَ يُبَاشِرُنِي".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب مجھے حیض آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم فرماتے، میں ازار کس لیتی، پھر آپ مجھ سے مباشرت فرماتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1073]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1077] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 300] ، [مسلم 293] و [مسند أبى يعلي 4810]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1074
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ؟، قَالَتْ: "مَا فَوْقَ الْإِزَارِ".
میمون بن مہران نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: حالت حیض میں مرد کے لئے اس کی بیوی سے کیا چیز حلال ہے؟ جواب دیا: جو ازار کے اوپر ہے۔ یعنی صرف اوپر ہی اوپر استمتاع کر سکتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1078] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 255/4]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1075
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا؟، قَالَتْ: "كُلُّ شَيْءٍ غَيْرُ الْجِمَاعِ"، قَالَ: قَلْتُ: فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ مِنْهَا إِذَا كَانَا مُحْرِمَيْنِ؟، قَالَتْ:"كُلُّ شَيْءٍ غَيْرُ كَلَامِهَا".
مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ عورت جب حالت حیض میں ہو تو شوہر کے لئے کیا جائز ہے؟ جواب دیا: جماع کے علاوہ ہر چیز جائز ہے۔ عرض کیا: اور جب دونوں احرام میں ہوں تو کیا چیز حرام ہے؟ جواب دیا: ہر چیز حرام ہے سوائے کلام و گفتگو کے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1075]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1079] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ طرفِ اول اوپر گذر چکی ہے۔ «انفرد به الدارمي» ۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1076
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "لِإِنْسَانٍ اجْتَنِبْ شِعَارَ الدَّمِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک آدمی سے کہا: خون کی جگہ سے پرہیز کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1076]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف والجلد بن أيوب ضعيف والراوي عن عائشة مجهول، [مكتبه الشامله نمبر: 1080] »
جلد بن ایوب ضعیف اور رجل مجہول ہیں، اس لئے اس قول کی سند ضعیف ہے، لیکن معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1240، 1241]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1077
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِذَا كَفَّ الْأَذَى يَعْنِي: الدَّمَ".
عامر شعبی نے کہا: جب گندگی رک جائے۔۔۔ دوسری روایت ہے جب خون رک جائے تو جو چاہو کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1077]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1081] »
اس قول کی سند صحیح ہے، اور طبرانی نے [تفسير 284/2] میں ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 255/4 بسند صحيح]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں