صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خوارک کا بیان۔
حدیث نمبر: 5411
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَانِي سَبْعَ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ فَلَمْ يَكُنْ فِيهِنَّ تَمْرَةٌ أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهَا شَدَّتْ فِي مَضَاغِي".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عباس جریری نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کھجور تقسیم کی اور ہر شخص کو سات کھجوریں دیں۔ مجھے بھی سات کھجوریں عنایت فرمائیں۔ ان میں ایک خراب تھی (اور سخت تھی) لیکن مجھے وہی سب سے زیادہ اچھی معلوم ہوئی کیونکہ اس کا چبانا مجھ کو مشکل ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5411]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کھجوریں تقسیم کیں تو ہر صحابی کو سات، سات کھجوریں عنایت فرمائیں، میرے حصے میں جو سات کھجوریں آئیں ان میں سے ایک تو بہت ردی قسم کی تھی لیکن سب سے زیادہ پسند بھی مجھے یہی کھجور تھی کیونکہ وہ چبانے میں سخت واقع ہوئی تھی، یعنی اسے میں دیر تک چباتا رہا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5411]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5412
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ:" رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ أَوِ الْحَبَلَةِ حَتَّى يَضَعَ أَحَدُنَا مَا تَضَعُ الشَّاةُ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ خَسِرْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِي".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان سات آدمیوں میں سے ساتواں پایا (جنہوں نے اسلام سب سے پہلے قبول کیا تھا) اس وقت ہمارے پاس کھانے کے لیے یہی کیکر کے پھل یا پتے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہ کھاتے کھاتے ہم لوگوں کا پاخانہ بھی بکری کی مینگنیوں کی طرح ہو گیا تھا یا اب یہ زمانہ ہے کہ بنی اسد قبیلے کے لوگ مجھ کو شریعت کے احکام سکھلاتے ہیں۔ اگر میں ابھی تک اس حال میں ہوں کہ بنی اسد کے لوگ مجھ کو شریعت کے احکام سکھلائیں تب تو میں تباہ ہی ہو گیا میری محنت برباد ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5412]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات آدمیوں میں سے ساتواں تھا۔ ان دنوں ہمارا کھانا خار دار درخت کی پتیاں ہوا کرتا تھا جس کی وجہ سے ہم بکریوں کی طرح مینگنیاں کیا کرتے تھے۔ اب حالت یہ ہے کہ قبیلہ بنو اسد مجھے اسلام کے احکام سکھاتا ہے، اگر واقعی ایسا ہے تو میں خسارے میں رہا اور میری ساری کوشش ضائع ہو گئی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5412]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5413
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، فَقُلْتُ: هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ؟ فَقَالَ سَهْلٌ: مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: هَلْ كَانَتْ لَكُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَاخِلُ؟ قَالَ: مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلًا مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مَا طَارَ وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدہ کھایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے وفات تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ دیکھا بھی نہیں تھا۔ میں نے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے پاس چھلنیاں تھیں۔ کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے آپ کی وفات تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھلنی دیکھی بھی نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے پوچھا آپ لوگ پھر بغیر چھنا ہوا جَو کس طرح کھاتے تھے؟ بتلایا ہم اسے پیس لیتے تھے پھر اسے پھونکتے تھے جو کچھ اڑنا ہوتا اڑ جاتا اور جو باقی رہ جاتا اسے گوندھ لیتے (اور پکا کر) کھا لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5413]
حضرت ابوحازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدے کی روٹی کھائی تھی؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے، آپ نے میدے کی روٹی دیکھی تک نہیں حتیٰ کہ آپ اللہ کو پیارے ہو گئے۔“ پھر میں نے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں چھانٹنیاں ہوتی تھیں؟“ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”زمانہِ بعثت سے لے کر مرتے دم تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھاننی نہیں دیکھی۔“ ابوحازم کہتے ہیں پھر میں نے سوال کیا: ”پھر تم بنا چھنے جو کا آٹا کیسے کھاتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہم انہیں پیستے تھے پھر اسے پھونک لیا کرتے تھے، اس سے جو کچھ اڑتا ہوتا اڑ جاتا، جو باقی رہتا اسے پانی سے گوندھ لیتے اور اس کی روٹی پکا کر لیتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5413]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5414
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَدَعَوْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ، وَقَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ".
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہیں روح بن عبادہ نے خبر دی، ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی تھی۔ انہوں نے ان کو کھانے پر بلایا لیکن انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور آپ نے کبھی جَو کی روٹی بھی آسودہ ہو کر نہیں کھائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5414]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہوا جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی ہوئی تھی، انہوں نے آپ کو دعوت دی تو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن کبھی جو کی روٹی بھی آپ نے پیٹ بھر کر نہ کھائی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5414]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5415
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكْرُجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ، قُلْتُ لِقَتَادَةَ: عَلَى مَا يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: عَلَى السُّفَرِ".
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے یونس بن ابی الفرات نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا اور نہ تشتری میں دو چار قسم کی چیزیں رکھ کر کھائیں اور نہ کبھی چپاتی کھائی۔ میں نے قتادہ سے پوچھا، پھر آپ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے؟ بتلایا کہ سفرہ (چمڑے کے دستر خوان) پر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5415]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو میز پر رکھ کر کھانا کھایا اور نہ چھوٹے چھوٹے پیالوں کو کھانے میں استعمال کیا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے باریک چپاتی ہی پکائی گئی۔“ (راویِ حدیث کہتے ہیں کہ) میں نے قتادہ سے پوچھا کہ پھر وہ کس چیز پر رکھ کر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ”چمڑے کے دستر خوان پر کھانا رکھ کر اسے تناول فرماتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5415]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5416
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی برابر تین دن تک گیہوں کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5416]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ آنے کے بعد آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مسلسل تین دن گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5416]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة