🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب ما كان النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه يأكلون:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خوارک کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5412
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ:" رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ أَوِ الْحَبَلَةِ حَتَّى يَضَعَ أَحَدُنَا مَا تَضَعُ الشَّاةُ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ خَسِرْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِي".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان سات آدمیوں میں سے ساتواں پایا (جنہوں نے اسلام سب سے پہلے قبول کیا تھا) اس وقت ہمارے پاس کھانے کے لیے یہی کیکر کے پھل یا پتے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہ کھاتے کھاتے ہم لوگوں کا پاخانہ بھی بکری کی مینگنیوں کی طرح ہو گیا تھا یا اب یہ زمانہ ہے کہ بنی اسد قبیلے کے لوگ مجھ کو شریعت کے احکام سکھلاتے ہیں۔ اگر میں ابھی تک اس حال میں ہوں کہ بنی اسد کے لوگ مجھ کو شریعت کے احکام سکھلائیں تب تو میں تباہ ہی ہو گیا میری محنت برباد ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5412]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن
Newوهب بن جرير الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد الجعفي ← وهب بن جرير الأزدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5412
سابع سبعة مع النبي ما لنا طعام إلا ورق الحبلة أو الحبلة حتى يضع أحدنا ما تضع الشاة ثم أصبحت بنو أسد تعزرني على الإسلام خسرت إذا وضل سعيي
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5412 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5412
حدیث حاشیہ:
ہوا یہ تھا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کے حاکم تھے۔
وہاں نبو اسد کے لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی یہ شکایت کی کہ ان کو نماز اچھی طرح پڑھنی نہیں آتی۔
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان کا رد کیا کہ اگر مجھ کو اب تک نماز پڑھنی نہیں آئی حالانکہ میں قدیم الایام کا مسلمان ہوں کہ جب میں مسلمان ہوا تھا تو کل چھ آدمی مسلمان تھے تو تم لوگوں کونماز پڑھنا کیسے آ گیا تم تو کل مسلمان ہوئے ہو۔
بنو اسد کی سب شکایتیں غلط تھیں اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ پر ان کا اعتراض کرنا ایسا تھا کہ چھوٹا منہ اور بڑی بات، خطائے بزرگاں گرفتن خطا است (وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5412]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5412
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کوفے کا گورنر بنایا تو وہاں کے لوگوں نے آپ کی شکایت کی کہ آپ اچھی طرح نماز نہیں پڑھتے اور نہ فیصلہ کرتے وقت عدل و انصاف ہی سے کام لیتے ہیں۔
اس پر انہیں غصہ آیا کہ ایک قدیم الاسلام انسان احکام شرعیہ سے کیسے غافل رہ سکتا ہے؟ اگر آج میں بنو سعد کی تعلیم و تادیب کا محتاج ہوں تو میرے سابقہ عمل ضائع ہو گئے کیونکہ ہم نے بڑے کٹھن حالات میں اسلام قبول کیا تھا جبکہ ہم درختوں کے پتوں پر گزارہ کرتے تھے۔
بہرحال بنو سعد کی کوئی بھی شکایت مبنی بر حقیقت نہ تھی۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے قدیم الاسلام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی خوراک کو بیان کیا ہے کہ ان دنوں کھانے پینے کی چیزوں کی فراوانی نہ تھی بلکہ یہ حضرات درختوں کے پتوں سے اپنا پیٹ بھرتے تھے جس سے انہیں سخت قبض ہو جاتی اور قضائے حاجت کے وقت مینگنیاں برآمد ہوتیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5412]