صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب ما كان النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه يأكلون:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خوارک کا بیان۔
حدیث نمبر: 5414
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَدَعَوْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ، وَقَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ".
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہیں روح بن عبادہ نے خبر دی، ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی تھی۔ انہوں نے ان کو کھانے پر بلایا لیکن انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور آپ نے کبھی جَو کی روٹی بھی آسودہ ہو کر نہیں کھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5414]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5414
| خرج رسول الله من الدنيا ولم يشبع من خبز الشعير |
صحيح مسلم |
7458
| ما شبع نبي الله وأهله ثلاثة أيام تباعا من خبز حنطة حتى فارق الدنيا |
صحيح مسلم |
7457
| ما أشبع رسول الله أهله ثلاثة أيام تباعا من خبز حنطة حتى فارق الدنيا |
جامع الترمذي |
2358
| ما شبع رسول الله وأهله ثلاثا تباعا من خبز البر حتى فارق الدنيا |
سنن ابن ماجه |
3343
| ما شبع نبي الله ثلاثة أيام تباعا من خبز الحنطة حتى توفاه الله |
سنن ابن ماجه |
3338
| ما رأى رسول الله هذا بعينه قط |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5414 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5414
حدیث حاشیہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یاد کر کے اس کا کھانا گوارا نہ کیا اورچونکہ یہ ولیمہ کی دعوت نہ تھی اس لیے اس کا قبول کرنا بھی ضروری نہ تھا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یاد کر کے اس کا کھانا گوارا نہ کیا اورچونکہ یہ ولیمہ کی دعوت نہ تھی اس لیے اس کا قبول کرنا بھی ضروری نہ تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5414]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5414
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ خیال کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی دنیوی معیشت میں کس قدر تنگی تھی، اس لیے آپ نے بھنی ہوئی بکری کھانے سے انکار کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یاد کر کے اسے کھانا گوارا نہ کیا۔
(2)
چونکہ یہ دعوتِ ولیمہ نہ تھی، اس لیے اس کا قبول کرنا ضروری نہ تھا کیونکہ دعوت ولیمہ بلا وجہ رد کرنے کی ممانعت ہے۔
(فتح الباري: 681/9)
(1)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ خیال کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی دنیوی معیشت میں کس قدر تنگی تھی، اس لیے آپ نے بھنی ہوئی بکری کھانے سے انکار کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یاد کر کے اسے کھانا گوارا نہ کیا۔
(2)
چونکہ یہ دعوتِ ولیمہ نہ تھی، اس لیے اس کا قبول کرنا ضروری نہ تھا کیونکہ دعوت ولیمہ بلا وجہ رد کرنے کی ممانعت ہے۔
(فتح الباري: 681/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5414]
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي