صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ شُرْبِ اللَّبَنِ:
باب: دودھ پینا۔
حدیث نمبر: 5604
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، سَمِعَ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَيْرًا مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ:" شَكَّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ"، فَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ: شَكَّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ فَإِذَا وُقِّفَ عَلَيْهِ، قَالَ: هُوَ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم کو سالم ابوالنضر نے خبر دی، انہوں نے ام الفضل (والدہ عبداللہ بن عباس) کے غلام عمیر سے سنا، وہ ام الفضل رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شبہ تھا۔ اس لیے میں نے آپ کے لیے ایک برتن میں دودھ بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ حمیدی کہتے ہیں کبھی سفیان اس حدیث کو یوں بیان کرتے تھے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں لوگوں کو شبہ تھا اس لیے ام الفضل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (دودھ) بھیجا۔ کبھی سفیان اس حدیث کو مرسلاً ام الفضل سے روایت کرتے تھے سالم اور عمیر کا نام نہ لیتے۔ جب ان سے پوچھتے کہ یہ حدیث مرسل ہے یا مرفوع متصل تو وہ اس وقت کہتے (مرفوع متصل ہے) ام فضل سے مروی ہے (جو صحابیہ تھیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5604]
حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”لوگوں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک کیا، تو میں نے آپ کے لیے ایک برتن میں دودھ بھیجا جسے آپ نے نوش فرمایا۔“ سفیان کبھی اس حدیث کو یوں بیان کرتے ہیں کہ ”عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق لوگوں کو شبہ تھا، اس لیے ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ کے لیے دودھ بھیجا۔“ جب (سفیان) سے پوچھا جاتا (کہ یہ روایت موصول ہے یا مرسل) تو وہ کہتے: ”(مرفوع متصل ہے کیونکہ) یہ ام فضل رضی اللہ عنہا کی روایت ہے (جو صحابیہ تھیں)۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5604]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5636
| شكوا في صوم النبي يوم عرفة فبعثت إليه بقدح من لبن فشربه |
صحيح البخاري |
5604
| شك الناس في صيام رسول الله يوم عرفة فأرسلت إليه بإناء فيه لبن فشرب |
صحيح البخاري |
5618
| أرسلت إلى النبي بقدح لبن وهو واقف عشية عرفة فأخذ بيده فشربه |
صحيح البخاري |
1988
| ناسا تماروا عندها يوم عرفة في صوم النبي فقال بعضهم هو صائم وقال بعضهم ليس بصائم فأرسلت إليه بقدح لبن وهو واقف على بعيره فشربه |
صحيح البخاري |
1658
| بعثت إلى النبي بشراب فشربه |
صحيح البخاري |
1661
| ناسا اختلفوا عندها يوم عرفة في صوم النبي فقال بعضهم هو صائم وقال بعضهم ليس بصائم فأرسلت إليه بقدح لبن وهو واقف على بعيره فشربه |
صحيح مسلم |
2635
| شك ناس من أصحاب رسول الله في صيام يوم عرفة ونحن بها مع رسول الله فأرسلت إليه بقعب فيه لبن وهو بعرفة فشربه |
صحيح مسلم |
2632
| ناسا تماروا عندها يوم عرفة في صيام رسول الله فقال بعضهم هو صائم وقال بعضهم ليس بصائم فأرسلت إليه بقدح لبن وهو واقف على بعيره بعرفة فشربه |
سنن أبي داود |
2441
| أرسلت إليه بقدح لبن وهو واقف على بعيره بعرفة فشرب |
مسندالحميدي |
341
|
Sahih Bukhari Hadith 5604 in Urdu
عمير بن عبد الله الهلالي ← لبابة بنت الحارث الهلالية