صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب شرب اللبن:
باب: دودھ پینا۔
حدیث نمبر: 5605
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَّا خَمَّرْتَهُ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح (ذکوان) اور ابوسفیان (طلحہ بن نافع قرشی) نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابو حمید ساعدی مقام نقیع سے دودھ کا ایک پیالہ (کھلا ہوا) لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے ایک لکڑی ہی اس پر رکھ لیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5605]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5605 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5605
حدیث حاشیہ:
آڑی لکڑی رکھ دینا گویا بسم اللہ کی برکت ہے تو شیطان اس سے دور رہے گا۔
دودھ یا پانی کھلا لانے میں یہ خرابی ہے کہ اس میں خاک پڑتی ہے کیڑے اڑ کر گرتے ہیں۔
آڑی لکڑی رکھ دینا گویا بسم اللہ کی برکت ہے تو شیطان اس سے دور رہے گا۔
دودھ یا پانی کھلا لانے میں یہ خرابی ہے کہ اس میں خاک پڑتی ہے کیڑے اڑ کر گرتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5605]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5605
حدیث حاشیہ:
(1)
نقیع، مدینہ طیبہ کے جنوب میں حجاز کی ایک بڑی وادی (ندی)
ہے۔
یہ اس حرے میں بہتی ہے جس میں سے وادی الفرع بہتی ہے، پھر نقیع شمال کا رخ کرتی ہے اور جبال قدس اس کے بائیں جانب ہیں۔
مدینہ کے 38 میل جنوب میں بئر الماشی کے سامنے تک اس کا نام وادی النقیع ہے، پھر اسے ذوالحلیفہ تک عقیق الحسا کا نام دیا جاتا ہے، پھر یہ عقیق المدینہ کہلاتی ہے حتی کہ مجمع الأسیال میں جا ملتی ہے۔
مدینہ سے قریباً 40 کلومیٹر سے لے کر فرع کے قریب 120 کلومیٹر، یعنی آخری انتہا تک اس کی لمبائی 80 کلومیٹر ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سرکاری جانوروں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔
(معجم المعالم الجغرافیة في السیرة النبویة، ص: 320) (2)
برتن کو ڈھانپنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ گرد و غبار اور کیڑوں مکوڑوں سے محفوظ رہتا ہے، نیز ان وباؤں سے بھی محفوظ رہتا ہے جو آسمان سے نازل ہوتی ہیں۔
(1)
نقیع، مدینہ طیبہ کے جنوب میں حجاز کی ایک بڑی وادی (ندی)
ہے۔
یہ اس حرے میں بہتی ہے جس میں سے وادی الفرع بہتی ہے، پھر نقیع شمال کا رخ کرتی ہے اور جبال قدس اس کے بائیں جانب ہیں۔
مدینہ کے 38 میل جنوب میں بئر الماشی کے سامنے تک اس کا نام وادی النقیع ہے، پھر اسے ذوالحلیفہ تک عقیق الحسا کا نام دیا جاتا ہے، پھر یہ عقیق المدینہ کہلاتی ہے حتی کہ مجمع الأسیال میں جا ملتی ہے۔
مدینہ سے قریباً 40 کلومیٹر سے لے کر فرع کے قریب 120 کلومیٹر، یعنی آخری انتہا تک اس کی لمبائی 80 کلومیٹر ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سرکاری جانوروں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔
(معجم المعالم الجغرافیة في السیرة النبویة، ص: 320) (2)
برتن کو ڈھانپنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ گرد و غبار اور کیڑوں مکوڑوں سے محفوظ رہتا ہے، نیز ان وباؤں سے بھی محفوظ رہتا ہے جو آسمان سے نازل ہوتی ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5605]
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري